”تین دن کی حکومت سے دو درخواستیں“

”تین دن کی حکومت سے دو درخواستیں“
”تین دن کی حکومت سے دو درخواستیں“

  

یہاں تو اپنا حق بھی بھیک کی طرح مانگنا پڑتا ہے ، یہاںکرتا کوئی ہے اوربھرنا کسی اور کو پڑتا ہے، بہت سارے تن ایسے ہیں جن کو لگتی ہی نہیںاور اس لئے انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ جس تن لاگی ہے وہ کس حال میں ہے۔ میرے سامنے واسا کے ورک چارج ملازمین کے درجنوں ایس ایم ایس پڑے ہوئے ہیں۔ایک کے بعد ایک کو پڑھ رہا ہوں، سب میں یہی فقرہ کہ ہمیں اللہ کے بعد آپ سے امید ہے کہ ہمارا مسئلہ حل کروا دیں گے اور میں اپنے رب سے ڈر رہا ہوں کہ میں کیا اور میری اوقات کیا۔ واسا کے پندرہ سو کے قریب ورک چارج ملازمین کا معاملہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سارے کئی کئی برسوں سے نوکری کر رہے ہیں مگرانہیں پکا نہیں کیا گیا۔ مزید ظلم یہ ہوا ہے کہ 1495میں سے صرف چھ سو ملازمین کی پوسٹیں باقاعدہ بجٹ میں موجود ہیں مگر باقی 891 ملازمین کی تنخواہیں بھی پچھلے تین ماہ سے رکی ہوئی ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ ان میں کئی ملازمین چھ ، سات سال سے واسا میں کام کر رہے ہیں، ان نوجوانوں کو کچی نوکری ملی تو گھر والوں نے خیال کیا کہ یہ پکی بھی ہوجائے گی اور ان کی شادیاں کر دیں، بہت ساروں کے اب بچے سکول جانے کے قابل ہو رہے ہیں مگر نوکری پکی نہیں ہوسکی اور اس پر ستم یہ ہوا کہ نئے ایم ڈی واسا کہتے ہیں کہ وہ بجٹ کے خلاف ہونے والی بھرتیوں کی کیا وکالت کریں۔

واسا نے میاں شہباز شریف کے دور میں لاہور میں کم وبیش سو نئے ٹیوب ویل لگائے ، برساتی پانی اور سیوریج کے نظام میں اضافہ کیا گیا اور ظاہر ہے کہ اس پورے اضافی نظام کو ملازمین نے ہی چلانا تھاتو اس پر بھرتیاں کر لی گئیں، یہاں واسا کے آپریشنز کے ڈائریکٹوریٹ کی غلطی یہ ہے کہ اس نے یہ پوسٹیں باقاعدہ بجٹ میں منظور ہی نہیں کروائیں مگر اب اس غلطی کا خمیازہ سینکڑوں ملازمین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جب حکومت نے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیاتو ورک چارج ملازمین نے بھی مستقل ہونے کے لئے شور مچانا شروع کر دیا، ان کے شور مچانے کی وجہ ،مستقلی ان کا حق کے ساتھ ساتھ یہ بھی تھی کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں تقریر کرتے ہوئے کنٹریکٹ کے ساتھ ساتھ ورک چارج ملازمین کو بھی مستقل کرنے کا اعلان کیا تھا مگر نوٹیفیکیشن کے موقعہ پر ورک چارج ملازمین کا حکم غائب ہو گیا، ورک چارج پر یہ ملازمین صرف واسا ہی نہیں بلکہ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی اورضلعی حکومت میں بھی ہزاروں ہیں ۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ حمزہ شہباز شریف ، پرویز ملک، خواجہ عمران نذیر اور ندیم حسن آصف ان ملازمین کو مستقل کروانے کے ایشو پر نہایت خلوص اور محنت کے ساتھ کام کر رہے ہیں مگرپھر نہ اس خلوص کا کوئی نتیجہ نظر آیا اور نہ ہی محنت کا۔ اب کوئی ہمارے سیاستدانوں اور بیوروکریسی سے پوچھے کہ وہ جو سالہا سال سے ایک محکمے میں کام کر رہے ہیں اگر ان کو بڑے افسران کی غلطیوں ، کوتاہیوں او رنااہلیوں کی وجہ سے نکال دیا گیا تو ان کے بیوی ، بچے کہاں سے کھائیں گے۔

کیا وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ان ملازمین کے لئے کچھ کر سکتے ہیں جنہیں تین ، تین ماہ سے تنخواہ تک نہیں ملی، کیا وہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تین ماہ سے ان کے گھر کا کچن کیسے چل رہا ہوگا، وہ نوکری پر آتے ہیں مگر ایسے نوکری کرتے ہیں جیسے وہ بھیک مانگ رہے ہوں، مجھے تو یہاں یہ خوف ناک بات بھی بتائی گئی ہے کہ واسا کی افسر شاہی نے سیاسی لوگوں کے کہنے پر سالہا سال سے کام کرنے والوں کی جگہ پرنئے لوگوں کو بھی بھرتی کر لیا ہے لہذ ا عین ممکن ہے کہ سینکڑوں گھروں میں فاقوں کی نوبت آجائے۔ جب یہ تحریر شائع ہو گی تو حکومت کی مدت میں صرف تین دن باقی ہوں گے، میں نہیں جانتا کہ ان اڑھائی تین دنوں میں وزیراعلیٰ پنجاب کی کیا مصروفیات ہوں گی، انہیں بہت سارے افتتاح بھی کرنے ہوں گے لیکن اگر اس دوران ان ہزاروں غریب ملازمین کے لئے کوئی انقلابی فیصلہ کر دیا جائے، انہیں روزگار کے تحفظ کی یقین دہانی کرا دی جائے تو وہ اوران کے بچے بہت دعائیں دیں گے۔

میری دوسری درخواست اڑھائی، تین دنوں کی حکومت سے یہ ہے کہ اس نے بہت جوش و خروش کے ساتھ سپورٹس اور یوتھ فیسٹیول کروائے ، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور ان کھیلوں کے چیف آرگنائزر رانا مشہود احمد خان نے بتایا کہ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے ان کے یوتھ فیسٹیول کو دنیا کا سب سے بڑا فیسٹیول ڈیکلئیر کر دیا ہے اور جب آج اس فیسٹیول کی اختتامی تقریب ہو رہی ہو گی تو پاکستانی اور بہت سارے ورلڈ ریکارڈ بنا چکے ہوں گے۔میرا مقصد یہاں پر آج ہونے والی اختتامی تقریب کا مزا خراب کرنا نہیں مگربات صرف اتنی ہے کہ صرف تین دن باقی ہیں اور ان تین دنوں میں کرنے والے کاموں میں ایک اہم کام یہ بھی ہے کہ گذشتہ برس اگست سے شرو ع ہونے والے یوتھ فیسٹیول کے کامیاب کھلاڑیوں کو انعامات سے بھی نواز دیا جائے۔ مجھے ڈھیر سارے لوگوں نے فون اور ایس ایم ایس کرکے بتایا ہے کہ ابھی تک یونین کونسل کی سطح پر جیتنے والوں کوبھی انعامات نہیں دئیے گئے۔ میرا خیال یہی تھا کہ ایک سیاسی حکومت اپنے آخری دنوں میں انعامات کی تمام رقوم ضرور ادا کردے گی ،جب میں نے رانا مشہود احمد خان سے یہ سوال کیا تو انہوں نے مجھے یقین دہانی بھی کروائی کہ انعامات ضرور دئیے جائیں گے۔ ایک دوست نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ وزیراعلیٰ نے تعلیمی اداروں میں جو تحریری اور تقریری مقابلے کروائے تھے ، انہیں بھی یوتھ فیسٹیول کا حصہ بنا دیا گیا تھا اور اب ان کے انعامات کا بھی بچے شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں میری ڈائریکٹر جنرل سپورٹس بورڈعثمان انور سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ آج وزیراعلیٰ پنجاب شہبا زشریف اختتامی تقریب میں انعامات سے نوازیں گے، میں نے کہا کہ وہ تو صرف ان لوگوں کو انعام دیں گے جنہوں نے صوبائی یا ڈویژنل سطح پر کامیابی حاصل کی ہو گی۔ یونین کونسل، تحصیل اور ضلع وغیرہ کی سطح پر جیتنے والوں کا کیا بنے گا، مجھے یہ بھی علم ہے کہ ابھی تک گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنے نام کا اندراج کرانے والے ہیروز کو بھی کچھ نہیں ملا، پنجاب حکومت کو انہیں بھی انعام سے نوازنا چاہئے، انہوں نے بتایا کہ یونین کونسل وغیرہ کی سطح پر انعامات دینا ضلعی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں نوٹیفیکیشن جاری اور فنڈز مختص ہو چکے ہیں۔

میں نے پٹھانوں کے قرض کے بارے بہت سنا ہے مگر میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ بچوں کاقرض، پٹھانوں کے قرض سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔ مجھے اگر کبھی کسی ضرورت پربچوں کے منی باکس سے کچھ رقم لینی پڑجائے، چھوٹے نوٹ نہ ہونے کی صورت میں اپنے بچوں سے کچھ روپے لینے پڑجائیں تو میں ہی جانتا ہوںکہ جب تک ادائیگی نہ ہوجائے وصولی کے تقاضے اور یاددہانیاں کتنی زیادہ ہوتی ہیں، لہذا یہ تو بھول جائیں کہ آپ بچوں کا قرض ادا نہ کر کے زندگی سکون سے بسر کر سکتے ہیں۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ تحریری اور تقریری مقابلوں کے انعامات ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ نے دینے ہیں مگر محکمہ تعلیم نے اگر کچھ بچوں کو انعامات دئیے بھی ہیں تو وہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے لہذاہمارے وزیراعلیٰ شہباز شریف پر بھی پنجاب کے ڈھیرسارے بچوں کا قرض باقی ہے ، میں نہیں جانتا کہ سینکڑوں اور ہزاروں مقامات پر انعامات کی ادائیگی کو ان دو سے تین دنوں میں کیسے یقینی بنایاجائے گا مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اگر وہ اپنے عہدے سے قرض ادا کئے بغیر سبک دوش ہو گئے تو بچوں کا دل ٹوٹ جائے گا ، ان کے دلوں میں اپنے وزیراعلیٰ کے لئے اعتماد کا جو بحران پیدا ہو گا وہ ساری عمر نہیںجائے گا لہذا انہیں چاہئے کہ وہ ایک خصوصی اجلاس کر کے ارکان اسمبلی اور تعلیم کے ضلعی افسران کی ہر شہر میں ڈیوٹی لگائیں کہ دو دن کے اندر اندر تمام انعامات بچوں کو دے دیں جو انہوں نے بہت محنت سے جیتے تھے۔

میں آخر میں پھر کہوں گا باقی صرف اڑھائی سے تین دن ہیں مگر یہ فیصلے تو لمحوں میں ہونے ہیں کہ آپ نے اپنے لوگوںکو ریلیف دینا، ان کے دلوں سے روزگار کی فکر او رخود پر ایک قرض بہر صورت اتارناہے، اس کے لئے آپ کے پاس تین دنوں میں بہتر گھنٹے اورچار ہزار تین سو بیس منٹ موجود ہیں جو لوگوں کی دعائیں لینے اور اپنا اعتماد بحال کرنے کے لئے بہرحال کم نہیں ہیں۔

مزید :

کالم -