نئی اصلاحات :الیکشن کمیشن کا فیصلہ

نئی اصلاحات :الیکشن کمیشن کا فیصلہ

  

کاغذات نامزدگی میں انکم ٹیکس، جائیداد، غیر ملکی دوروں، بنکوں سے معاف کرائے گئے قرضوں اور ڈگریوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی پابندی کے بعد قومی اسمبلی اور سینٹ کے اکثر ارکان کی طرف سے اس کی مخالفت اورمزاحمت کی گئی ہے ۔ یہ معلومات فراہم کرنے کی مخالفت محض اس لئے کی جا رہی ہے کہ اس طرح بہت سے موجودہ ارکان اسمبلی کے آئین کی دفعہ 62-63 کے تحت نااہل ہوجانے کا ڈر ہے ۔ اس سلسلے میں مخالفت کرنے والوں کی طرف سے جس طرح کے دلائل پیش کئے جارہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔ سینٹ کے گزشتہ روز کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے ایک رکن نے کہا کہ بھارت کی پھولن دیوی بھی تو ایک ڈاکو تھی جو رکن پارلیمنٹ بن گئی۔ گویا پھولن دیوی کے تتبع میں سارے ڈاکو پارلیمنٹ میں لا کر بٹھادیئے جانے چاہئیں۔ ایک دوسرے سینٹر صاحب نے کہا کہ عوام جعلی ڈگری والے نمائندے چاہتے ہیں تو الیکشن کمیشن کو کیا اعتراض ہے؟ ان صاحب کو معلوم نہیں کس نے بتا دیا ہے کہ یہ قوم اب جعل سازوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔یہ درست ہے کہ ڈگری کی پابندی اب آئندہ انتخابات کے لئے شرط نہیں، لیکن موجودہ اسمبلی کے انتخابات کے وقت یہ شرط تھی۔ اس شرط کو بہت سے ارکان نے جعلی ڈگری بنوا کر پورا کیا تھا۔ موجودہ اسمبلیوں یا سینٹ میں موجود یہ حضرات اپنی ڈگری کے متعلق آئندہ انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی میں معلومات دیں گے ۔ اس کی تصدیق کرائی جائے گی ۔ جعل سازی ثابت ہونے پر ایسے لوگ آئین کے آرٹیکل 62-63کے تحت الیکشن میں حصہ لینے کے نااہل ہوجائیں گے۔ بعض بظاہر بہت مدبر قسم کے ارکان کو بھی یہ اعتراض کرتے ہوئے پایا گیا کہ انکم ٹیکس وصول کرنا یا نہ کرنا سی بی آر کا اختیار ہے۔ یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن کی نہیں۔ وہ یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی بات کو کنفیوژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ الیکشن کمیشن انکم ٹیکس اور جائیداد یا غیر ملکی دوروں سے متعلق معلومات ٹیکس وصولی کے لئے حاصل نہیں کر رہا بلکہ یہ جاننے کے لئے حاصل کر رہا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے لوگ آئین میں بیان کی گئی قومی نمائندگی کی شرائط پوری کر رہے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ قرضے کھا جانے والے ، ٹیکس نادہندہ اور قوم کا مال لوٹنے والے ثابت ہوجائیں گے توانہیں اسمبلیوں میں پہنچنے کا کوئی حق نہیں ہو گا۔ یہ عدالتوں ہی کا نہیں پوری قوم کا بھی فیصلہ ہے۔ اگر کاغذات کی جانچ پڑتال ہی کے موقع پر ایسے لوگوں کو نہ روکا گیا تو پھر جعل ساز لوگ انتخابات میں بھی اپنی جعل سازیوں اور ناجائز دولت کے بل بوتے پر کامیاب ہوسکتے ہیں اور ایک بار پھر پانچ سال تک قوم کی گردن پر سوار رہیں گے۔ اسی لئے قوم کے عام افراد اور تمام انصاف پسند قوتوں کی طرف سے کاغذات نامزدگی کی تصدیق کے مرحلے پر ہی جعل ساز ثابت ہو جانے والوں سے نجات پالینے پر زور دیا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے کسی حد تک آزادانہ اور غیر جابندارانہ کام کرنا بھی حکومتی ارکان اور دوسرے خوفزدہ ارکان پارلیمنٹ کو گوارا نہیں ۔ گزشتہ روز کے سینٹ کے اجلاس میں کہاگیا ہے کہ الیکشن کمیشن اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے۔ پابندیاں لگانا چاہتا ہے تاکہ کوئی الیکشن لڑنے کے قابل نہ رہے۔ الیکشن کمیشن خود کو سونپے گئے کام سے احسن طریقے سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ پاکستان کے آئین کے مطابق غیر جابندارانہ طریقے سے کام کررہا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62-63 کے مطابق جن افراد پر انتخابات میںحصہ لینے کی پابندی ہونی چاہئے ان کے متعلق جاننے کا الیکشن کمیشن کے پاس بہترین اور سادہ ترین طریقہ یہی ہے کہ وہ امیدواروں ہی سے ان کے ان معاملات سے متعلق معلومات حاصل کرلے جن معاملات میںدرست نہ ہونے پر وہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوسکتے۔ ان کی فراہم کی گئی معلومات کی تصدیق متعلقہ قومی ادارے کریں گے، معلومات کے غلط ہونے کی صورت میں بھی وہ نااہل قرار دے دئیے جائیں گے۔ اس طرح اپنے معاملات درست نہ رکھنے والے تمام افراد کو اپنے شکنجے میں آ جانے کا خدشہ ہے اور وہ واویلا کر رہے ہیں۔ ا یک وزیر نے تو یہ بھی کہا کہ فخرالدین جی ابراہیم کی غیر جانبداری پر داغ لگ گیا ہے۔ ان ساری بے بنیاد اور بے جواز باتوں کا مقصد الیکشن کمیشن آف پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کی بے سود کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے منصفانہ انتخابات کے سلسلے میں اپنی اس قومی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے کاغذات نامزدگی میں ترامیم کے سلسلے میں از خود نوٹس لے لیا ہے، اور اپنے عبوری حکم میں قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن خود کاغذات نامزدگی میں ترمیم کا اختیار رکھتا ہے ۔ وہ خود کو کمزور نہ سمجھے، ہم اس کے ساتھ ہیں۔ وفاق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ غیر ضروری شکوک و شبہات پیدا نہ کئے جائیں۔سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی میں ترامیم کے سلسلے میں تفصیلات چوبیس گھنٹے میں الیکشن کمیشن سے طلب کرلیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے پوچھا ہے کہ وفاق الیکشن کمیشن سے تعاون کیوں نہیں کررہا۔انتخابات کے لئے ہدایات سپریم کورٹ نے جاری کی ہیں۔فیصلہ عوامی ملکیت ہے ہمیں آئین کا تحفظ کرنا آتا ہے۔کیا الیکشن کمیشن کے ارکان اتنے کمزور ہیں کہ آئین پر عمل درآمد نہیں کراسکتے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ اس نے الیکشن کمیشن کے اختیارات کی تشریح کر دی ہے ،پھر الیکشن کمیشن خود کو اتنا کمزور کیوں محسوس کررہا ہے۔آئین 18 کروڑ عوام کی آواز ہے ، عدالت نے آئین کا تحفظ کرنا ہے۔ آئین آزادانہ انتخاب چاہتاہے۔

سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے عام انتخابات نئی اصلاحات کے تحت کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔انتخابی اصلاحات کی منظوری کے لئے آرڈی ننس کی تیاری شروع کردی ہے۔ نگران حکومت کے آتے ہی یہ آرڈ ی ننس منظوری کے لئے پیش کردیا جائے گا۔ آئین کے تحت نگران وزیراعظم کی ایڈ وائس کے بعد صدر 15 روز میں آرڈیننس پر دستخط کرنے کے پابند ہوں گے۔ منظوری کے بعد الیکشن کمیشن کو بھارتی الیکشن کمیشن کی طرح انتظامی اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ ا نتخابات سے قبل پریذائیڈنگ آفیسرز کے نام بھی خفیہ رکھے جائیں گے۔ آرڈیننس کے تحت کمیشن انتخابات کے دوران پولیس کے آئی جی اور صوبوں کے چیف سیکرٹریز سطح کے ملازمین کے بھی تبادلے کرسکے گا۔جعلی ووٹ ڈالنے والے کو ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکے گا۔ الیکشن کمیشن انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے لئے بھی سزا تجویز کرسکے گا۔ ووٹروں کو انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے پر تین سال تک کی سزا ہو سکے گی۔ الیکشن کمیشن کے رکن ریاض کیانی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کمیشن کی طرف سے انتخابات کو ہرممکن طریقے سے آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف بنایا جائے گا، جس کے لئے اصلاحات پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی اخراجات کے لئے چار ارب روپے تاحال جاری نہیں کئے جارہے۔ اگر یہ رقم بروقت جاری نہ کی گئی تو عام انتخابات کا بروقت انعقاد خطرے میں پڑ سکتا ہے،جبکہ موجودہ حکومت سے فنڈز ملنے کی توقع نہیں۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے منصفانہ او ر آزادانہ انتخابات کے انعقاد کے لئے اصلاحات آرڈیننس کی تیاری اور اس کی نگران حکومت کے ذریعے منظوری ،ا ور اپنے فرائض کسی دباﺅ میں آئے بغیر آزادانہ طریقے سے سرانجام دینے کے عزم کا اظہار لائق تحسین ہے۔ ساری قوم کی طرف سے اس کا کریڈٹ الیکشن کمیشن ، اس کے محترم اراکین اور سپریم کورٹ آف پاکستان کو دیا جائے گا۔ اراکین پارلیمنٹ کا رویہ اورموجودہ حکومتوں کے حالات قوم کے سامنے ہیں۔ ایسے لوگوں کو درست سمت دینے کے لئے مسلسل کوشش جاری رکھنا اور کسی طرح کے دباﺅ کو خاطر میں نہ لانا صرف بلند نگاہ اور بڑے حوصلوں والے لوگوں ہی کا کام ہے۔ صحیح انتخابات بلاشبہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے، اس کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے درست فیصلے کئے اور نیک نیتی کا ثبوت دیا ہے۔سپریم کورٹ نے اسے ہر قدم پر حوصلہ اور قوت بخشی ہے۔ انتخابات سے پہلے کے تمام معاملات صحیح طور پر نمٹائے جارہے ہیں، لیکن یہ بات بھی پوری قوم خوب جانتی ہے کہ پولنگ کے دن انتخاب لڑنے والے سیاسی رہنما دھن، دھونس اور دھاندلی سے کام چلانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان بھر کے شہریوں کو پولنگ کے روز ہر طرح کی دھاندلی کو شکست دینے کے لئے گھر میں بیٹھنے کے بجائے میدان میں نکلنا ہوگا۔اسی طرح انصاف پسند سپریم کورٹ اور منصفانہ انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کا جھنڈابلند کیا جاسکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ساتھ میڈیا کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نامعقول قسم کے بیانات کو نمایاں طور پر شائع اور نشر کرکے معاملات کو کنفیوژ کرنے سے اجتناب برتے ، منصفانہ انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بننے والی ہر حرکت کا نوٹس لے اور قوم کو باخبر اور چوکنا رکھنے میں معاون ثابت ہو۔ اس مرحلہ پر یہ بھی ضروری ہے کہ جانے والے ارکان پارلیمنٹ، اپنے اعمال کی جوابدہی کے لئے خود کو قوم کے سامنے پیش کریں۔ اب ان کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ وہ اپنی ڈگریاں ، انکم ٹیکس کے گوشوارے ، بنکوں کے قرضے یا دولت کے متعلق معلومات مہیا کرنے کی الیکشن کمیشن کی بار بار کی یاد دہانیوں کو نظر انداز کرکے اخفاکے جس سلسلے کو اپنی مدت ختم ہونے تک دراز کر تے آئے ہیں اب اسے مزید دراز کریں اور اپنے دامن کے ہر طرح کے دھبوں کے باوجود آئندہ انتخابات میں ایک بار پھر امیدوار بن کر آجائیں۔ ان کا دور حکومت ختم ہوچکا۔ اب ان پر عوام کی نظریں ہیں۔    ٭

مزید :

اداریہ -