ترکی پولیس فائرنگ سے زخمی 15سالہ لڑکے کی موت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

ترکی پولیس فائرنگ سے زخمی 15سالہ لڑکے کی موت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

                           استنبول(آن لائن)ترکی کے شہر استنبول کے تقسیم چوک میں ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جنھیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن اور آشک آور گیس کا استعمال کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق مظاہرین گذشتہ موسم گرما میں احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک پندرہ سالہ لڑکے کی موت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔برکین ایلوان نامی یہ لڑکا قریباً نو ماہ تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہا ہے جو گز شتہ روز دم توڑ گیا تھا۔یہ لڑکا احتجاجی مظاہرے کے دوران زخمی ہونے کے بعد کومے میں تھا اور اس کا تب سے علاج جاری تھا۔ گز شتہ روز ہزاروں ترک برکین کے گھر کے باہر جمع ہوئے اور انھوں نے جہاں اسے گولی لگی تھی ،وہاں تک مارچ کیا۔سوگواروں نے اس کا تابوت اٹھا رکھا تھا اور وہ اس کے بعد قبرستان کی جانب تدفین کے لیے گئے تھے۔مظاہرین وزیراعظم رجب طیب ایردگا ن اور ان کی حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔بعض افراد نے حکمراں عدل اور ترقی جماعت کے ایک دفتر کی جانب پتھر پھینکے جس سے اس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ا دھر ترک وزیراعظم رجب طیب ایردگا ن نے مظاہرین پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ انتخابات سے اٹھارہ روز قبل شاہراہوں پر آکر آگ لگانا غیر جمہوری طرز عمل ہے۔انھوں نے ملازمین،تنظیموں ،ٹریڈ یونینوں اور غیر سرکاری تنظیموں سے کہا کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور جس کس کو بھی مسئلہ درپیش ہے،وہ اس کو 30 مارچ کو بیلٹ باکس کے ذریعے طے کر لے۔

مزید : عالمی منظر