حکومت طالبان مذاکرات میں مثبت پیش رفت

حکومت طالبان مذاکرات میں مثبت پیش رفت
حکومت طالبان مذاکرات میں مثبت پیش رفت

  


طالبان کی طرف سے غیر مشروط جنگ بندی کے اعلان کے بعد اگر چہ اسلام آباد، پشاور ، ہنگو ، خیبر ایجنسی وغیرہ میں دہشت گردی کے چندواقعات وقوع پذیر ہوئے ہیںاور ان میں دو درجن بھر معصوم جانوں کا اتلاف ہوا ہے ،اور ایک آدھ غیرمعروف تنظیم نے ان میں سے ایک دو کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے، لیکن مجموعی طور پر معاملات بہتری کی طرف جاتے نظر آرہے ہیں ۔ ایک بڑے حلقے کی طرف سے مذاکرات کی مخالفت اور فوجی آپریشن پر اصرار، اور دہشت گردی کے مندرجہ بالا واقعات کے بعد بھی ،حکومت نے امن کو ایک اور ، اور شاید آخری، موقع دینے کا، جومشکل فیصلہ کیا ہے ،اوراس کو کامیاب بنانے کے لئے خلوص دل سے جو کوششیں شروع کی ہیں، اور جس طرح طالبان نے بھی اس کا مثبت جواب دیا ہے ، اس سے بجا طور پر یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ اگر امن دشمن اندرونی اور بیرونی طاقتیں ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی اپنی مذموم کوششوں میں ناکام رہیں ، یا حکومت نے اپنی عقل مندی اور ہوشیاری سے اُنہیں ناکام بنا دیا ، تو ملک میں امن کی راہ ہموار ہونا شروع ہوجائے گی ۔ گو مکمل امن و امان کے قائم ہونے میں بہر حال کچھ وقت لگے گا اور اس سے قبل کئی نازک موڑ بھی آسکتے ہیں ۔

امن کی طرف پیش رفت کے ضمن میں اب تک جو چند مثبت اشارے ملے ہیں ، اس کالم میں اُن کا ذکر کیا جائے گا۔یہ اشارے اچھے ہوم ورک ، پختہ سوچ اور مقصد کے حصول کے لئے حکومت، خصوصاً وزیر داخلہ، کی انتھک،پُر خلوص اور دردمندانہ کوششوں کا پتہ دیتے ہیں ۔ یہ مثبت اشارے کچھ اس طرح ہیں ۔

 ٭.... مذاکرات کی تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی جب تک کہ وہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچ جائیں ۔

 ٭.... فوج مذاکرات میں براہ راست شریک نہیں ہوگی۔تاہم اس کا مشورہ شامل حال رہے گااور اسے پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے گا۔

٭.... فوج نے حکومت کو امن کے لئے اس کی ہر کوشش میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے ۔

٭....حکومت اور معاملے کا ایک اہم ترین فریق ، عمران خان، مکمل طور پر ایک صفحہ پر آچکے ہیں۔

٭....حکومت طالبان سے براہ راست مذاکرات نہیں کرے گی۔ اپنی مذاکراتی ٹیم کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھائے گی ۔

٭.... حکومت کی مذاکراتی ٹیم معاملات سے مکمل طور پر باخبر، تجربہ کار اور مذاکراتی گفتگو کے ماہر چند حاضر سروس یا ریٹائرڈ سرکاری افسران پر مشتمل ہو گی، جو طالبان یا طالبان کی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد تجاویز و سفارشات مرتب کر کے حکومت کو پیش کرے گی۔

٭.... ضروری ہو اتوحکومت کے عہدہ داران اور طالبان کے نمائندے مل بیٹھ کر اختتامی بات چیت اور حتمی معاہدے پر دستخط کریں گے ۔

مذاکرات کے عمل اور اس کے دوران ہونے والی گفتگو کوخفیہ رکھنا نہایت ضروری ہوتاہے ۔ دنیا میںکہیں بھی متحارب گروہوں کے درمیان ہونے والی گفتگو اور تفصیلات کو ساتھ ساتھ نشر نہیں کیا جاتا ۔ مذاکرات میں سو بار بات بنتی اور بگڑتی ہے ، نئے سے نئے پہلو ، نئی سے نئی بات اورنئے سے نئے نکتے نکلتے ، اُلجھتے اور سلجھتے رہتے ہیں۔ یہ چیزیںا گر عوام پر آشکارا ہوتی رہیں تو اس پر اس قدر شورو غوغا ،اتنے بھانت بھانت کے تبصرے ، اتنی متضاد تجاویز اور نقد وجرح شروع ہو جاتی ہے کہ بسااوقات ڈور کا سرا ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اور مذاکرات کرنے والے اس قدر کنفیوژ اور دباﺅ میں آ جاتے ہیں کہ بات آگے نہیں بڑھ پاتی، جیسا کہ پچھلے دنوں ہوا اور پھر وزیر داخلہ کو مجبوراً دونوں طرف کی مذاکراتی ٹیموں کو نظر انداز کر کے فریق مخالف سے دوسرے ذرائع سے سلسلہ جُنبانی کرنا پڑا اور معاملات صحیح رخ پر آ گئے ۔ بنا بریں، مذاکرات کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ نہایت دانشمندانہ اور کسی معاملہ فہم کی عمدہ سوچ کا مظہر ہے۔

فوج کو مذاکرات میں براہ راست شریک نہ کرنے کا فیصلہ بھی بہت مثبت اور دور اندیشی پر مبنی ہے۔ فوج کا یہ مقام اور منصب نہیں کہ حکومت کے ہوتے ہوئے اُسے متحارب گروہوں کے سامنے بٹھا دیا جائے ۔ ان متحارب گروہوں کے ساتھ فوج کی کوئی ذاتی لڑائی نہیں اور نہ ہی ان کے درمیان محاذ آرائی کی وجوہات اُن کی ذاتی یا گروہی ہیں۔ معاملہ حکومت اور متحارب گروہوں کے درمیان ہے۔ فوج حکومت کا بازوئے شمشیر زن اور اس کے حکم کی پابند ہے ۔ اس کا یہی مقام اور منصب قابل عزت و افتخار ہے کہ وہ ملک کی سرحدوں کی محافظ ہے اور وقت پڑنے پر دشمنوں کے لئے لوہے کا چنا۔ اس کی حکومت کے ہر اقدام کی غیر مشروط تائید و حمایت ہی حکومت کی اصل ضرورت اور طاقت ہے ۔

مذاکرات اور معاملات کے موجودہ تناظر میںایک اہم قانونی نکتہ یہ بھی ہے کہ متحارب گروہ (طالبان)کو حکومت پاکستان نے ایک کالعدم، غیر قانونی یا باغی گروہ قرار دے رکھا ہے اور اس گروہ نے تادم ِتحریر ملک کے آئین اور حکومت کوتسلیم نہ کرنے کے اپنے سابقہ موقف سے رجوع کرنے کا اعلان نہیںکیا ہے۔ اس صورت حال میں حکومت پاکستان، طالبان سے براہ راست مذاکرات کیسے کر سکتی ہے؟ یہ حکومت کے اپنے ہی موقف، فیصلے اور مقدمے کی نفی کے مترادف ہے، لیکن چونکہ طالبان اب خود بات چیت کرنا چاہتے ہیں اورنتیجے میںبہتری کی توقع ہے تو حکومت کے افسران اور اگر ضروری ہو تو چند غیر سرکاری سیاسی ، سماجی اور مذہبی نمائندہ شخصیات حکومت کی طرف سے اُن سے بات چیت کا آغاز کر سکتی ہیں،کیونکہ طالبان بہر حال اپنے آپ کو پاکستان کے شہری اور ملک کے وفادار اور خیر خواہ ہونے کا دم بھرتے ہیں۔ اس طرح دونوں طرف کے نمائندے باہمی گفت و شنید کے بعد ایک معاہدہ تیار کر کے حتمی منظوری کے لئے حکومت کو پیش کریں،جس طرح کسی سربراہ حکومت کے بیرونی دورے سے قبل دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی افسران مل بیٹھ کر بہت سے معاہدوں کی دستاویزات تیار کرتے ہیں اور جن پر بعد ازاں دونوں ممالک کے سربراہ یا حکومت کے سینئر عہدہ داران یا افسران اُن کی موجودگی میں دستخط کرتے ہیں۔

یہاں یہ نکتہ بھی قابل ذکرہے کہ حتمی اور تحریری معاہدہ صلح و امن پر حکومت کی طرف سے کسی بھی سطح کے لوگوں کے دستخط کئے جانے سے قبل طالبان پر عائدپابند ی ہٹانا ہو گی، کیونکہ کسی غیر قانونی اور کالعدم قرار دی گئی تنظیم سے بہتری ، امن اورتنازعہ کے حل کے لئے بات چیت تو کی جا سکتی ہے،لیکن حکومت اُس سے کسی قسم کا تحریری معاہدہ نہیں کر سکتی ہے اور اگر کر بھی لے تو ایک قانونی اور ایک غیر قانونی فریق کے درمیان ہونے والے ایسے کسی معاہدے کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔ یوں بھی اگر طالبان پاکستان کے آئین اور حکومت کو تسلیم کرلیں ، ریاست اور حکومت کا وفا دار رہنے کا حلف دیں اور معاہدہ صلح و امن پر غیر مشروط دستخط کرنے پر تیار ہوں تو اُن پر سے پابندی ہٹا کر اور معاہدے پر دستخط کر کے اورکروا کر، انہیں ملک کے معاشی، معاشرتی اور سیاسی دھارے کا مفید حصہ بننے کا پورا پورا موقع دیا جانا چاہئے۔

نیتوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے اور وہ بہتر جانتا ہے کہ فریقین میں سے کون کس نیت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انسان تو صرف ظاہر پر ہی حکم لگا سکتا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمن بے شمار ہیں۔ طالبان کے اندر بھی بے شمار اختلافات اور گروہ بندیاںہیں۔ حکومت کے اندر بھی مختلف الخیال لوگ بیٹھے ہیں۔ کچھ سیاسی پارٹیاں تو کھلم کھلامذاکرات کے خلاف ہیں ۔بہت سے لوگ مذاکرات کو کامیاب اور بہت سے ناکام ہوتے دیکھنے کے متمنی ہیں،چنانچہ کسی بھی وقت، کسی کی بھی سازش یا شرارت سے معاملہ بگڑ سکتا ہے۔ طالبان کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان اور مذاکرات کی پیشکش اپنے آپ کو از سرنو مجتمع کرنے کے لئے وقت لینے کی ایک جنگی چال بھی ہو سکتی ہے ۔ اندریں حالات فہم و فراست اور سٹیٹس مین شپ کا تقاضا ہے کہ جب تک تمام معاملات خوش اسلوبی سے ملک و قوم کے بہترین مفاد میں طے نہ پا جائیں، اور حالات واضح طور پر امن اور بہتری کی طرف چلنا شروع نہ کر دیں، گاڑیاں چلتی، طیارے تیار، ٹارگٹ ہتھیاروںکے نشانے پر اور انگلیاں ہتھیاروں کے ٹریگر پر جمی رہنی چاہئےں۔

مزید : کالم