نواز عمران ملاقات:سیاست کا فرینڈلی ہونا خوش آئند ہے

نواز عمران ملاقات:سیاست کا فرینڈلی ہونا خوش آئند ہے
نواز عمران ملاقات:سیاست کا فرینڈلی ہونا خوش آئند ہے

  


وطن عزیز میں سیاست کا فرینڈلی ہونا خوش آئند ہے، کیونکہ نان فرینڈلی سیاست نے پاکستان میں بہت قیامتیں ڈھائی ہیں، بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ اسی سیاست کی وجہ سے ملک میں مارشل لاءکو بار بار آنے کا موقع ملا اور ملک ایسے مسائل میں گھرتا چلا گیا، جن سے نکلنا اب دشوار نظر آتا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا خود چل کر عمران خان کے گھر جانا ایک بہت بڑا بریک تھرو ہے۔ اس سے سیاست کی وہ رہی سہی کشیدگی بھی ختم ہو گئی ہے، جو مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کھینچاتانی کی وجہ سے موجود تھی۔ عمران خان نے اس ملاقات کے بعد فوری اقدام یہ اٹھایا ہے کہ اپنے رہنماﺅں کو وفاقی حکومت پر تنقید سے روک دیا ہے۔ غالباً وزیراعظم بھی رانا ثناءاللہ اور عابد شیر علی کو زبان بندی کا حکم دے چکے ہوں گے۔ وزیراعظم نے اس بار اقتدار میں آ کر اپنے آپ کو یکسر تبدیل کر لیا ہے۔ اُن کے اندر وزیراعظم والی ماضی کی وہ اَنا بالکل نظر نہیں آتی، جو پہلے دو ادوار میں موجود تھی۔ وہ سندھ میں بھی صوبائی حکومت سے مکمل تعاون کر رہے ہیں اور اب صوبہ خیبرپختونخوا کی مقتدر جماعت پی ٹی آئی سے براہ راست تعلق استوار کر چکے ہیں۔ عمران خان سے ملاقات میں جو ماحول دیکھا گیا، اُس سے یہ تاثرات ابھرے ہیں کہ دونوں رہنماﺅں میں ایک فاصلہ ضرور تھا، لیکن پرانی قرابت داری بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ سیاسی قوتوں کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں، تو دوسری قوتیں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں، ان فاصلوں کو اگر وقت سے پہلے ختم کر لیا جائے تو حالات قابو میں رہتے ہیں اور کسی کو شب خون مارنے کا خیال بھی نہیں آتا۔

یہاں اس بات کو نہیں بھولنا چاہئے کہ سیاست میں فرینڈلی ماحول کی روایت شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے اس وقت ڈالی تھی، جب وہ دونوں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ میثاق جمہوریت ایک ایسا معاہدہ ہے، جس نے پاکستان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ شاید جلاوطنی کے دکھوں نے دونوں رہنماﺅں کو یہ باور کرا دیا تھا کہ اُن کے درمیان کشیدگی کا فائدہ اٹھانے والے ملک میں عیش کر رہے ہیں اور وہ وطن سے دور ہیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک سازش کے تحت راستے سے ہٹا دیا گیا، لیکن انہوں نے نواز شریف کے ساتھ معاہدہ کر کے جو فضا قائم کی تھی، وہ برقرار رہی۔ سازشوں کی یہ کوشش تو پھر بھی جاری رہی کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو آپس میں پھر اُسی سطح پر لایا جائے، جہاں کشیدگی اپنے عروج کو پہنچ جاتی ہے، مگر آصف علی زرداری اور نواز شریف نے اس سازش کو ناکام بنائے رکھا۔ بڑی مہارت سے نچلی سطح کی لیڈر شپ کو سیاسی محاذ آرائی کا تاثر برقرار رکھنے کے لئے استعمال کیا گیا، مگر بالائی سطح پر ایک سیاسی ہم آہنگی ہمیشہ موجود رہی۔ خاص طور پر اسمبلیوں کے اندر کوئی ایسا تاثر پیدا نہیں ہونے دیا گیا، جس سے لگے کہ حالات قابو سے باہر ہونے جا رہے ہیں۔ اسی یکجہتی کی وجہ سے پرویز مشرف کو ایوان صدر خالی کرنا پڑا اور نواز شریف کی حمایت سے آصف علی زرداری صدر مملکت بن گئے۔

 مَیں سمجھتا ہوں یہ حکمت عملی کم از کم جمہوریت کے تسلسل کے لئے بہت کامیاب رہی ہے۔ پیپلزپارٹی نے بعض قوتوں کے نہ چاہتے ہوئے بھی پانچ سال حکومت کی اور اب آصف علی زرداری کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت بے فکری کے ساتھ حکمرانی کرے، پانچ سال تک اُس کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔جہاں دو بڑی سیاسی جماعتوں میں یہ خاموش مفاہمت موجود ہے، وہیں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک ایسی سیاسی قوت ہے، جو ملک میں سیاسی محاذ آرائی کی اُسی فضا کو قائم رکھے ہوئے ہے، جو 1990ءکی دہائی میں موجود تھی۔ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سے لے کر حکمرانی کے اسرار و رموز تک اس محاذ آرائی کی زد میں تھے، جبکہ سمجھا یہ جا رہا تھا کہ دونوں جماعتیں چونکہ دہشت گردی کے حوالے سے یکساں موقف رکھتی ہیں اور طالبان کے حوالے سے اُن کی پالیسی تقریباً ایک جیسی ہے، اس لئے وہ مفاہمت کی میز پر آ جائیں گی، لیکن پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان تحریک انصاف، خصوصاً عمران خان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رکھا تھا۔

دہشت گردی پر حکومتی پالیسی کو ابہام زدہ قرار دے کر وہ وزیراعظم نواز شریف کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے تھے۔ جب سے مذاکرات کی بات شروع ہوئی ہے، حکومت اور پاکستان تحریک انصاف ایک نکتے پر متفق نہیں ہو سکیں،جس کی وجہ سے کنفیوژن بڑھتا چلا گیا۔ مذاکرات کے بعد جب دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ بند نہ ہوا، تو عمران خان کو بھی اپنے موقف میں لچک پیدا کرنا پڑی۔ انہوں نے حملہ کرنے والوں کے خلاف آپریشن کرنے کی ضرورت کو تسلیم کر لیا۔ گویا وہ ایک طرح سے دہشت گردی کے واقعات پر اپنی پوزیشن کو واضح کر گئے، لیکن دوسری طرف حکومت ابھی یہ فیصلہ نہیں کر پائی تھی کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا ہے یا آپریشن کی منظوری دینی ہے؟ پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں اقتدار میں ہے، اس لئے وہ دہشت گردی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں براہ راست سٹیک ہولڈر ہے۔ یوں یہ ایک بنیادی ضرورت تھی کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اس حوالے سے ایک میز پر آ بیٹھیں۔ یہ تاثر اس وقت تک ایک واضح شکل اختیار نہیں کر سکتا تھا، جب تک نواز شریف اور عمران خان ایک دوسرے کو ”جپھی“ نہ ڈالتے۔ سو اس کے لئے وزیراعظم نے اپنی تبدیل شدہ حکمت عملی اور سوچ کے مطابق قدم اٹھایا اور عمران خان سے ملاقات کے لئے اُن کے گھر پہنچ گئے۔

غور کیا جائے تو اس ایک ملاقات نے پورے قومی سیاسی منظر کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ فضا میں جو ابہام نما کشیدگی موجود تھی، وہ ختم ہو گئی ہے۔ آصف علی زرداری پہلے ہی مکمل طور پر نواز شریف کی حمایت کر چکے ہیں، اب ملک کی ایک اور اہم ترین جماعت کے سربراہ سے بھی وزیراعظم کی براہ راست ملاقات نے اس تاثر کو گہرا کر دیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی قوتیں متحد کھڑی ہیں۔ کم از کم اُن کا اس نکتے پر تو مکمل اتفاق ہے کہ جمہوریت کو ہر حال میں چلتے رہنا چاہئے۔ پاکستان کی سیاسی قیادت اگر عسکری قیادت سے مل کر دہشت گردی کے عفریت پر قابو پا لیتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ اب قومی سطح پر کوئی ابہام نہیں رہ گیا کہ سبھی سیاسی قوتیں ملک میں امن چاہتی ہیں اور اس کے لئے سب کا اتفاق اس نکتے پر ہے کہ اس کے لئے پہلے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ غالباً یہ بات طالبان کی سمجھ میں بھی آ گئی ہے کہ پاکستان میں اس سے زیادہ اُن کے لئے مثبت فضاکبھی نہیں ہو سکتی ، جو آج ہے، اس لئے اگر وہ ملک کی سیاسی قوتوں سے مذاکرات کے ذریعے قومی دھارے میں شامل ہو جاتے ہیں، تو یہ نہ صرف پاکستان، بلکہ خود اُن کے لئے بھی ایک خوش آئندہ بات ہو گی۔

مجھے یقین ہے کہ پاکستانی سیاست میں جو ٹھہراﺅ آیا ہے، وہ ہمارے بہت سے قومی مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو گا، کیونکہ ہمارے اکثر مسائل سیاسی عدم ٹھہراﺅ کی وجہ سے ہی پیدا ہوتے رہے ہیں، لیکن چلتے چلتے سیاسی قائدین کو یہ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ سیاسی استحکام کو عوام کی حالت بدلنے اور انہیں ایک بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے لئے بھی استعمال کریں۔ یہ تاثر نہیں ابھرنا چاہئے کہ سیاسی استحکام کو صرف اپنے اقتدار اور مفادات کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

مزید : کالم