اوم پوری کی خواہش اور حقیقت!

اوم پوری کی خواہش اور حقیقت!
اوم پوری کی خواہش اور حقیقت!

  


بھارت کے کریکٹر ایکٹر اوم پوری کی بات چیت اور حلیئے سے اول تو اداکار ہونے کا اندازہ نہیں ہوتا اور پھر جس دنیا میں وہ کام کررہے ہیں اس کے مطابق یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ ان کا تعلق بھارت کے کس علاقے سے ہے۔عموماً ان کو یو پی والا جانا جاتا ہے،لیکن یہ درست نہیں۔تین سال قبل لاہور پریس کلب کا وفد چندی گڑھ پریس کلب کی دعوت پر بھارت گیا تھا۔ان دنوں نوین گریوال چندی گڑھ پریس کلب کے صدر تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ اچھا اہتمام کیا تھا، ایک روز پاکستانی وفد چندی گڑھ جھیل کی سیر کے لئے گیا تو وہاں اوم پوری بھی نظر آ گئے، جو ایک شادی میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے اور مقامی ہوٹل میں مقیم تھے، میزبانوں نے ان کے ساتھ پاکستانی مہمانوں کا تعارف کرایا تو بہت تپاک سے ملے اور پھر ڈبل ڈیکر بس پر نوجوان صحافیوں کے ساتھ سفر کیا، خوب گپ شپ کی، وہاں انہوں نے پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا، اس دوران معلوم ہوا کہ اوم پوری یو پی والے نہیں، بلکہ چندی گڑھ اور شملہ کے درمیان شہر کے رہنے والے اور پنجابی ہیں، بھارت کے سینئر اداکاروں میں انوپم کھیر، امریش پوری اور اوم پوری کا اپنا ایک مقام ہے۔ان حضرات نے فلموں میں مختلف کردار ادا کرکے نام کمایا، امریش پوری تو چل بسے البتہ انوپم کھیر اور اوم پوری ابھی میدان میں ہیں۔

اوم پوری کا ذکر یوں آیا کہ وہ ان دنوں لاہور میں ایک پنجابی سٹیج ڈرامہ میں بھارتی اداکارہ دیویا دتا کے ساتھ فن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔وہ پاکستان تو پہلی بار نہیں آئے لیکن لاہور پہلی مرتبہ ہی آئے ہیں، اس سے پہلے وہ کراچی ہو کر گئے تھے۔اوم پوری کی آمد کی خبر میڈیا دے چکا ان کی شہرت اپنی جگہ ہے ہمیں تو بات کرنا ہے ان کی اس خواہش کی جس کا ذکر چندی گڑھ میں تو نہیں کیا تھا لیکن واہگہ کی سرحد پر بے ساختہ کہہ گئے ایک فقرہ تو انہوں نے پنجابی میں کہا، ”کہندے نیں جنھے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا نئیں، میں لہور جمن آیا واں“ اس فقرے کو انہوں نے اپنی زبان میں یوں ادا کیا” میں یہاں آیا ہوں تو میرا دوسرا جنم ہوا ہے“۔

بات کرنا مقصود ہے ان کی اس خواہش کے حوالے سے جو انہوں نے چندی گڑھ میں تو نہ کی لیکن یہاں کہہ گئے، کہتے ہیں ”دونوں دیش کے لوگ ایک جیسے ہیں، درمیان میں لکیر نہیں ہونا چاہیے“.... یہ بات دیر بعد سنی اور ایک بھارتی مشہور شخصیت کی طرف سے بھارتی سرحد پار کرکے پاکستانی سرحد کے اندر آکر کہی گئی۔پھر شاید ان کو کچھ خیال آیا تو انہوں نے اس بات کی یوں تشریح کی ”دنیا کے بہت سے ممالک ہیں، جہاں سرحد والی پابندیاں نہیں، ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔لوگ پاسپورٹ دکھا کر آتے جاتے ہیں“ غالباً وہ کینیڈا اور امریکہ کی مثال دینا چاہتے تھے۔

آج کل ہماری حکومت بڑے خلوص کے ساتھ بھارت کے ساتھ باہمی تعلقات کو خوشگوار سطح پر لانے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔اس سلسلے میں خود وزیراعظم بھی قدم بڑھا رہے ہیں تو وزیرتجارت خرم دستگیر خان کچھ زیادہ ہی پرجوش تھے، ان کے جوش میں بھارتی رویے کی وجہ سے کچھ ٹھہراﺅ آیا اور اب وہ دوطرفہ تعلقات کی بات کرنے لگے ہیں، حتیٰ کہ انہوں نے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے والے معاملے کو بھی بھارتی رعائتوں کے ساتھ مشروط کیا ہے، اس کے بعد بھارت کی طرف سے کچھ مناسب توجہ ملنا شروع ہوئی ہے۔

ورلڈ پنجابی کانگرس کے ساتھ تین چار بار بھارت کے مختلف شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا، کانگریس کے چیئرمین فخر زمان پاک بھارت دوستی کے اولین پر چارکوں میں سے ہیں اور ان کو بھارت میں پذیرائی بھی بہت ملتی ہے۔جب بھی کانگرس کے وفد کے ساتھ گئے استقبال تو بہت اچھا ہوا اور گرم جوشی بھی ملی تاہم اکثر ہمیں اس سوال بلکہ خواہش سے نبردآزما ہونا پڑا کہ لکیر ہٹا دو، یہ بھارتی دانشور حضرات کی بھی تکرار ہے۔صرف اوم پوری ہی یہ بات نہیں کرتے۔ورلڈ پنجابی کانگریس کے وفد اور سربراہ کو ابتداءمیں زیادہ پریشانی ہوئی، تاہم جب مکمل دلائل کے ساتھ یہ کہا جاتا رہا کہ سرحد تو ایک حقیقت ہے اور اب یہ بین الاقوامی ہے۔یہ مٹنے سے رہی، البتہ یہ ممکن ہے کہ ہم دو ہمسایہ ملک ہیں تو دوستی اور بھائی چارے کے رشتے میں منسلک ہوں۔اس کے بعد یہ بات کہی جانے لگی کہ ایک باپ کے دو بیٹے ہوں تو ان میں بھی جائیداد تقسیم ہو جاتی ہے، ان کا بھائی ہونا تو حقیقت ہی رہتا ہے۔اب اگر بٹوارہ ہوگیا اور دو ملک بن گئے تو پھر اچھے بھائیوں جیسے ہمسائے بن کر رہنا چاہیے۔

افسوس تو یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہترین اور خوشگوار تعلقات کی جتنی بھی کوششیں ہوئیں یا ہو رہی ہیں وہ بھارتی حکومتوں کے منفی رویے ہی کی وجہ سے بار آور نہیں ہوتیں، بھارت کے کرتا دھرتا یا پس پردہ حکومتیں چلانے والوں کا مفاد صرف اور صرف تجارت میں ہے۔بھارت کا یہ بااثر طبقہ پاکستان کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کی مکمل سہولتیں چاہتا ہے اور پھر پاکستان بھی تو ان کے لئے ایک تجارتی منڈی ہے۔جہاں تک پاکستان سے بھارت برآمد کا تعلق ہے تو اس حوالے سے بھی بھارتی بالادست طبقہ اپنی ضرورت ہی کی اشیاءدرامد کرنا چاہتا ہے۔اب آپ جتنا مرضی زور لگائیں کہ اچھے اور خوشگوار تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں اور اس کے لئے صرف تجارت ہی واحد راستہ نہیں ہے بلکہ بہترین عمل دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کو پرامن طور پر حل کرنا ضروری ہے۔اس مسئلہ پر سیاسی مصلحتیں،غالب آ جاتی ہیں۔بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے، سیاہ چن اور تنازعہ کشمیر پر بات چیت سے انکار کیا جاتا ہے، دریاﺅں کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے معاہدہ طاس سندھ کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور ڈٹ کر ڈھیٹ پن کا بھی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔اب جہاں تک دونوں ممالک کے باشندوں کا تعلق ہے تویقین جانئے اکثریت جنگ اور تنازعات سے نفرت کرتی ہے اور اچھے ہمسایوں اور دوستوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔وفود آئیں جائیں تو خلوص بھی نظر آتا ہے لیکن ریاستی اور سیاسی مصلحتیں رکاوٹ بنتی رہتی ہیں۔یوں بھی اب عوامی سطح پر وفود کے تبادلوں میں بھی رکاوٹیں رہتی ہیں اور کبھی کبھار کوئی اوم پوری آ جائے تو میڈیا کو خبریں مل جاتی ہیں۔فخر زمان بھی معلوم نہیں کیا سوچ رہے ہیں۔لاہور میں عالمی صوفیا کانفرنس کراکے چپ بیٹھے ہیں۔کانگرس کو سرگرم ہونا چاہیے۔

مزید : کالم