الیکٹرانک میڈیا پر فحش بھارتی اشتہارات

الیکٹرانک میڈیا پر فحش بھارتی اشتہارات
الیکٹرانک میڈیا پر فحش بھارتی اشتہارات

  


پاکستان میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں ”میڈیا انقلاب“ رونما ہوا، کیبل ٹی وی نیٹ ورک کے ذریعے سے گھر گھر ٹی وی چینلوں کی رسائی ہو گئی اور سرکاری ٹی وی کی بالادستی کا بڑی حد تک خاتمہ ہو گیا۔ لوگوں تک معلومات کی فراہمی کا آسان ترین اور فوری ذریعہ یہی ٹی وی چینل بن گئے، لیکن جلد ہی ریٹنگ اور کمائی کی دوڑ نے اس انقلاب کی تصویر کا دوسرا رُخ آشکارا کیا۔ ٹی وی ٹاک شوز، نیوز ب±لیٹن اور دیگر اشتہاری مہمات کے ذریعے سے رائے عامہ کو اپنے اپنے مفادات کے لئے ہموار کیا جانے لگا۔ اس دوڑ میں طرح طرح کے دلفریب نعروں، گانوں اور کارٹون کرداروں کا بخوبی استعمال کیا گیا۔ میڈیا ایسا بے لگام اور مُنہ زور گھوڑا بن گیا، جو چند ٹکوں کے عوض گندے سے گندا اشتہار بھی فیملی پرائم ٹائم میں چلانے پر تیار ہو گیا۔

فیشن شو ز کے نام پر جو مناظر خبر نامے میں پیش کیے جاتے ہیں انہیں دیکھ کر گماں ہوتاہے کہ کوئی یورپی چینل دیکھ رہے ہیں۔ ملک کے اسلامی تشخص کا خیال رکھا جاتاہے نہ ملک کے وقار کا کوئی لحاظ ہے۔ فحاشی و عریانی کے سیلاب نے اب تعلیمی اداروں کا رُخ اختیار کر لیاہے۔ ناچ گانے کے کلچر کر پروان چڑھا کر نوجوان نسل کو دین اسلام کی تعلیمات سے بیزار کرنے کے مذموم ایجنڈے پر کام کیاجارہاہے۔امدادی پروگراموں میں بھی فیشن شوز ، میوزیکل پروگراموں اور دیگر خرافات کے کلچر کو پروان چڑھایا جارہاہے جو کہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ ثقافتی ڈراموں کے نام پر ایسی مخالف تہذیب اور ایسے حیاباختہ موضوعات کو سامنے لایا گیا کہ ایک عام بندے کے لئے اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا محال ہوگیا۔

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے اس حوالے سے کہاہے کہ میڈیا پر اخلاق باختہ پروگرامات و اشتہارات سے پاکستان کا اسلامی تشخص مجروح ہو رہا ہے۔ ملک کے آئین و قانون کی تضحیک ہو رہی ہے۔ قومی ادارے پیمرا نے میڈیا پر پھیلنے والی فحاشی و عریانی پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ نجی پاکستانی ٹی وی چینلوں پر بھارتی فلمیں تو الگ بھارتی چینلوں کے تہذیب و ثقافت پر مبنی عریاں پروگرامات نشر ہورہے ہیں۔ لچر اور فحش اشتہارات کی چینلوں پر بھر مار ہے اور اس کا کوئی نوٹس لینے والا نہیں ہے۔

نیوز بلیٹن میں بھارتی اداکاراﺅں، اداکاروں اور فلموں کے فحش اور بدتہذیبی پر مبنی کلپس دکھائے جاتے ہیں۔ تمام چینل اس میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔اس ساری صورت حال میں آزاد صحافت کے نام نہاد علمبرداراور پاکستان کے چند معروف ترین گروپوں نے انتہائی خوفناک کردار ادا کیا، ان گروپس کے اخبارات، رسائل اور ٹی وی چینلز کو خود ہی ایک این جی او (NGO) بنا کر بین الاقوامی اداروں سے امداد لے کر غیروں کے ایجنٹ بننے کی گھٹیا ترین مثال قائم کی۔ کبھی آزاد عدلیہ کی تحریک تو کبھی حدود بل اور کبھی، تعلیمی نظام میں تبدیلی، کے نام پر ماضی میں پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو بین الاقوامی اداروں کے ایجنڈے کے مطابق استعمال کر کے رائے عامہ کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی حکومت، وزارتِ اطلاعات اور پیمرا ان ثبوتوں کا غیرجانبداری سے جائزہ لیں، اور اگر کسی بھی میڈیا گروپ کے خلاف خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو بین الاقوامی امداد لینا ثابت ہو جائے خواہ وہ کسی بھی نام پر ہو، تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ نظریہ پاکستان، پاکستانی اداروں اور پاکستان کی تخلیق کے خلاف چلنے والی کوئی بھی مہم بے نقاب ہونا ضروری ہے تاکہ ملک دشمن عناصر کی نشاندہی کر کے غدارانِ وطن کو سرِعام سزا دی جا سکے۔

 پاکستان کے آئین وقانون کے تحت کوئی بھی میڈیا سے تعلق رکھنے والا ادارہ بیہودہ مواد شائع اور ٹی وی چینل پر پروگرام نشر نہیں کر سکتا، لیکن پاکستان میں یوں محسوس ہوتاہے کہ یہاں کوئی قانون و آئین ہی نہیں ہے۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اخلاق سوز پروگرامات دکھانا بند کرے ، پاکستان ٹیلی وڑن سمیت تمام نجی چینلوں پر بھارتی پروگرامات نشر ہونے پر پابندی عائد کی جائے اور قومی ادارہ پیمرا اپنا کردار ادا کرے۔

مزید : کالم