خواجہ سلمان رفیق کا احتجاج کرنے والی ایڈہاک نرسز کو مستقل کرنے سے انکا ر

خواجہ سلمان رفیق کا احتجاج کرنے والی ایڈہاک نرسز کو مستقل کرنے سے انکا ر

لاہور ( سپیشل رپورٹر )پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے احتجاج کرنے والی ایڈہاک ینگ نرسز کو مستقل کرنے سے انکا ر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 800کنٹریکٹ نرسز کو بہت جلد مستقل کر دیا جائے گا جبکہ گریڈ اے سے تعلق رکھنے والی 600کے قریب نرسز میں سے اڑھائی سو کو اگلے گریڈ میں ترقی آئندہ 6سے 7ماہ میں دیدی جائے گی ‘ہم نے پبلک سروس کمیشن سے 1450نرسز کی تقرری کی بات کی ہے اور ایڈہاک نرسز بھی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے امتحان دے سکتی ہیں اور انہیں تجربے کے اضافی نمبر دیئے جائیںگے ۔ جمعرات کو اسمبلی میں ینگ نرسز کے احتجاج کے متعلق پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کے مشیر خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ محکمہ صحت کے پاس 4مختلف کیٹگریز میں نرسز کام کر رہی ہیں جن میں اے کیٹگری میں وہ نرسز ہیں جو مستقل ہیں لیکن گذشتہ 15سے 20سال سے ان کی ترقی نہیں ہو سکی اور ہم نے ان کے مطالبات کو تسلیم کر تے ہوئے انہیں گریڈ 16سے 17میں ترقی دینے کی یقین دہانی کروائی ہے اور یہ عمل 6سے 7ماہ میں مکمل ہو جائے گا اور ان نرسز کے ہاسٹل کا معیار بہتر بنانے کےلئے 10کروڑ روپے کے فنڈز جاری ہو چکے ہیں اور پوسٹ گریجویٹ نرسز کو وظیفہ بھی دیا جائے گا اب ان کے مطالبے پر یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ چھٹی کی صورت میں ان کے الاﺅنسز کی کٹوتی نہیں ہو گی لیکن جہاں تک احتجا ج کرنے والی 2600ایڈہاک نرسز کا تعلق ہے تو ان میں سے ہی کچھ نرسز لاہور ہائی کورٹ گئیں جہاں پر عدالت نے محکمہ صحت کے موقف کو درست قرار دیا اور ایڈہاک نرسز کو مستقل نہ کرنے کے حوالے سے محکمہ صحت کے موقف کو تسلیم کرلیا ۔ان میں سے 180ایسی نرسز ہیں جنہوں نے پرائیویٹ اداروں سے تعلیم حاصل کی جبکہ باقی سرکاری اداروں سے تعلیم حاصل کرتی رہی ہیں محکمہ صحت سمیت صوبے کے دیگر محکموں میں ہزاروں ایڈہاک ملاز م ہیں اور ایڈہاک ملازم کو مستقل نہیں کیاجا سکتا اور اب 200کے قریب نرسز احتجاج کر رہی ہے ان ایڈہاک نرسز کو مستقل کرنے کےلئے پوری آئین میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے محکمہ پبلک سروس کمیشن کو 1450نرسز کی بھرتی کا کہا ہے اور اس میں ایڈہاک نرسز بھی حصہ لے سکتی ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید ساڑھے 1500نرسز کی بھرتی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائے گی ۔

مزید : صفحہ آخر