ڈاکوؤں کے سب سے بڑے گروہ بھلہ ڈکیت گینگ کے سر غنہ سمیت 5ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا

ڈاکوؤں کے سب سے بڑے گروہ بھلہ ڈکیت گینگ کے سر غنہ سمیت 5ملزموں کو گرفتار کر ...
ڈاکوؤں کے سب سے بڑے گروہ بھلہ ڈکیت گینگ کے سر غنہ سمیت 5ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا

  



 لاہور(کرائم سیل) سی آئی اے پولیس نے منظم پلاننگ اور ریکی کے بعدلاہور ، کراچی،فیصل آباد اور دیگر اضلاع کے پوش علاقوں کے گھروں میں ڈکیتیاں کرنے والے لاہور کی تاریخ کے ڈاکوؤں کے سب سے بڑے گروہ کے پانچ ملزموں کو گرفتار کرکے ان سے 20 کروڑ روپے مالیت کا مال مسروقہ ، کلاشنکوفیں ، ہینڈ گرنیڈز اور سینکڑوں گولیاں برآمد کر لی ہیں،ملزمان نے 2 سابق آئی جی پولیس ، وفاقی وزیر اور معروف ڈاکٹروں ، تاجروں ، صنعتکاروں اور فیکٹری مالکان کے گھروں میں ڈکیتی کی 57 وارداتیں کرنے کا اعتراف کیا ہے ۔ یہ بات گزشتہ روز صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان اور سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق احمد نے پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔ اس موقع پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذوالفقار حمید، ڈی آئی جی آپریشنز رانا عبدالجباراورایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک سمیت ایس پی ہیڈ کوارٹر معروف واہلہ اور ایس پی سی آر او ملک مصطفٰے حمید بھی موجود تھے۔ ڈاکوؤں کے گروہ کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ بھلہ ڈکیت گینگ کاگرفتار سرغنہ حسن عرف ھلہ اور اس کے چار ساتھی راجہ شمریز، وسیم عرف ناصر، شکیل کیانی اور نسیم کشمیری لاہور،کراچی شیخوپورہ، راولپنڈی ، پشاور اور آزاد کشمیر کے مختلف تھانوں کے ڈکیتی اور راہزنی کے درجنوں مقدمات میں اشتہاری ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت سفاک ہیں جو واردات کے لئے ہنڈ گرنیڈز اور کلاشنکوفیں لے کر جاتے تھے ۔ ملزمان کو بڑے لوگوں کو لوٹنے کا کریز تھا ۔ ملزموں نے 2 سابق انسپکٹر جنرل پولیس ، سابق گورنر پنجاب ، وفاقی وزیر ، لاڈو سوپ فیکٹری ، جے کے انڈسٹریز، اختر ٹیکسٹائل ملز اورامپورٹ و ایکسپورٹ کا کام کرنے والے بزنس مینوں اور فیکٹری مالکان کے57 گھر وں میں ڈکیتی کی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے جن میں ضلع فیصل آؓبادکے 23 صنعتکاروں ،ٹیکسٹائل ملز مالکان اور دیگر اہم شخصیات کے گھروں میں ڈکیتی کی وارداتیں شامل ہیں ۔ دوران تفتیش ملزموں کی نشاندہی پر ڈکیتی کی وارداتوں میں لوٹی ہوئی 20 کروڑ روپے مالیت کی ڈائمنڈ و گولڈ جیولری ، ملکی و غیر ملکی کرنسی ، قیمتی گھڑیاں ، دیگر سامان الیکٹرونکس کے علاوہ متعدد کلاشنکوفیں ، ہینڈ گرنیڈز ، رائفلیں ، پستول اور گولیاں برآمد ہوئی ہیں ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملزمان لاہور، کراچی اور فیصل آؓباد کے پوش علاقوں میں بڑے صنعتکاروں ، ٹیکسٹائل ملز اور فیکٹریوں کے مالکان ، افسروں ، ڈاکٹروں اور جج صاحبان کے رشتے داروں کے گھروں کو باقاعدہ ٹارگٹ کر کے واردات کر رہے تھے اور زیادہ تر یہ ایسے گھروں کو ٹارگٹ کرتے جہاں ڈائمنڈ اور گولڈ کی جیولری کے علاوہ غیر ملکی کرنسی لوٹنے کے زیادہ مواقع ہوتے۔ ملزمان اپنے طریقہ واردات میں گھروں کی ریکی کرتے اور دوران واردات اپنی شناخت چھپانے کے لئے ماسک اور دستانے پہنتے تھے۔ سی آئی اے پولیس اس سے قبل بھی لاہور میں بینک ڈکیتیوں اور جیولرز کی دکانوں کو لوٹنے کی وارداتوں میں ملوث ڈکیت گروہوں کے متعددملزمان کو گرفتار کر چکی ہے یایہ ملزمان پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جس سے لاہور کے کرائم گراف میں واضح کمی دیکھنے میں ملی تھی اور سی آئی اے نے ایک مرتبہ پھر ہاؤس رابری کرنے والے لاہور کی تاریخ کے ڈاکوؤں کے سب سے بڑے گروہ کو گرفتار کرنے کا اعزاز حاصل کرتے ہوئے تقریبا 20 کروڑ روپے مالیت کا مال مسروقہ ، ہینڈ گرنیڈز ، کلاشنکوفیں اور دیگر ناجائز اسلحہ برآمد کر لیاہے جس سے یقیناًلاہور کے کرائم گراف میں کمی ہوگی۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ اور سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق احمد نے ایس پی سی آئی اے عمر ورک اور ان کی ٹیم میں شامل پولیس افسران ملک فیاض احمد، ڈی ایس پی میاں اطہر فاروق اور انسپکٹر خالد فاروقی کی بہترین کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس خطرناک ڈکیت گروہ کو گرفتار کرنے والی پولیس ٹیم کے لئے انعامات اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔

مزید : علاقائی