ملائشین ائر لائنزحادثہ میں پاکستان کو بھی تفتیش میں شامل کیا جائے مغربی میڈیا کا تعصب

ملائشین ائر لائنزحادثہ میں پاکستان کو بھی تفتیش میں شامل کیا جائے مغربی ...

                             نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)ویسے تو دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوجائے تومغربی میڈیا اس کے ڈانڈے کسی نہ کسی طرح پاکستان سے ملا ہی دیتا ہے۔ امریکی، برٹش، یورپی اور آسٹریلین میڈیا میں چیخ چیخ کر بتایا جا رہا ہے کہ ملایئشین ائیر لائینز کا طیارہ کہیں اور نہیں گیا بلکہ یہ پاکستان پہنچ کر روپوش ہوگیا ہے اور سرچ ٹیموں کو چاہئے کہ پاکستان کی جانب بھی نظر رکھے۔یہاں یہ امر دلچسپ ہے کہ کوالا لمپور سے اڑ کر جہاز بیجنگ یعنی شمال مشرق کی جانب جا رہا تھا جبکہ پاکستان اس سمت کے بالکل مخالف یعنی مغرب میں واقع ہے لیکن پھر بھی مغربی میڈیا کا خیال ہے کہ ہو نہ ہویہ طیارہ پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر لا پتہ ہوا ہے۔ مشہور زمانہ ’فوکس نیوز‘ پر باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے کہ تفتیش کاراس نتیجے پر پہنچے ہیںکہ کو الالمپور ائیرپورٹ سے اڑنے کے ایک گھنٹہ بعد تک جہاز کا رابطہ ٹاور کے ساتھ رہا اور اس کے بعد یہ رابطہ ٹوٹ گیا۔ مغربی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ رابطہ ٹوٹنے کے بعد طیارہ پانچ گھنٹے تک اڑتا رہا اور اس پرواز کے دوران جہاز نے 2200ناٹیکل میل کا سفر طے کیا ہوگا اور اس دوران جہاز بحیرہ عرب میں داخل ہو کر پاکستان کی حدود میں آگیا ہوگالہذاپاکستان کے بارڈرز کے اردگرد ضرور جہاز کو تلاش کیا جائے۔ اب مغربی میڈیا اور تفتیش کاروں کو کون سمجھائے کہ طیارہ تو شمال مشرق کی جانب جا رہا تھا اور پاکستان تو دوسری سمت یعنی مغرب کی جانب واقع ہے۔لیکن ایک بات تو برحال یقینی ہے کہ مغربی میڈیا کا تعصب ایک بار پھر عیاں ہو گیا ہے

مزید : صفحہ اول