ریلوے نئے نرخوں کے مطابق بل وصول نہ کرنے پر واپڈا کا 25 کروڑ سے زائد کا مقروض

ریلوے نئے نرخوں کے مطابق بل وصول نہ کرنے پر واپڈا کا 25 کروڑ سے زائد کا مقروض ...

                              لاہور(حنیف خان)ریلوے انتظامیہ کو اپنی ہی غفلت کے باعث لینے کے دینے پڑ گئے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بل وصول نہ کرنے پرانہیں بھاری قیمت ادا کرنا پڑ گئی ،یکم اپریل سے اضافے کی صورت میں گزشتہ پانچ ماہ کے بل نئے نرخ کے مطابق واپڈا کو کروڑوں روپے کی ادائیگی کے لئے ریلوے افسروں سمیت ملازمین کی تنخواہوں سے بھاری کٹوتی کی جائے گی اس بھاری کٹوتی کے خلاف ٹریڈ یونینز کے احتجاج کے خدشے کے پیش نظر ریلوے شعبہ الیکٹریکل حکام نے سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ واپڈ ا نے بجلی کے قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے مطابق ریلوے اپنے 1سے 50یونٹ تک استعمال کرنے والے صارف سے فی یونٹ 4روپے،51یونٹ سے 100یونٹ والے صارف سے فی یونٹ 11روپے 9پیسے،101سے 300یونٹ والے صارف سے14روپے ،301سے 700تک یونٹ استعمال کرنے والے صارف کو بل 17فی یونٹ اور اس سے زیادہ استعمال کرنے والے صارفین کو 18روپے فی یونٹ کے حساب سے بل چارج کیا جائے گا۔تاہم ریلوے انتظامیہ نے اس قدر غفلت کا مظاہر ہ کیا کہ ریلوے افسروں اور ملازمین جو کہ بجلی کے صارفین ہیں ان سے نئے ٹیرف کے تحت بجلی کے بل وصول نہیں کئے ۔ذرائع نے بتایا کہ واپڈا نے 12اکتوبر 2013سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا تھا لیکن ریلوے انتظامیہ نے اس تا ریخ سے لے کر مارچ 2014تک بجلی کے نئے نرخ کے مطابق بجلی کے بل وصول نہیں کئے ۔جس کے باعث ریلوے نئے نرخ کے مطابق بل وصول نہ کرنے پر واپڈا کا 25کروڑ روپے سے زائد کا مقروض ہوگیا ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ریلوے کے شعبہ الیکٹریکل حکام نے ملک کی ریلوے ڈویژنوں کے نئے ٹیرف کا نوٹیفکیشن ہی جاری نہیں کیا لیکن جب واپڈا نے رواں ماہ ریلوے حکام سے رابطہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ نئے ٹیرف کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ اکتوبر،نومبر ،دسمبر ،جنوری ،فروری اورمارچ کا بل ادا کیا جائے جس پر ریلوے حکام کو ہوش آ ئی اور انہوں نے نئے ٹیرف کے تحت بجلی کے بلوں میں اضافے کے مطابق بل وصول کرنے کے احکامات جاری کئے ۔ذرائع نے بتایا کہ ریلوے کے شعبہ الیکٹریکل حکام نے پشاور،سکھر ،راولپنڈی،لاہور،ملتان ،سکھر،کراچی،کوئٹہ اورمغلپورہ ورکشاپس کو احکامات دیئے ہیں کہ نئے ٹیرف کے مطابق یکم اپریل سے بل وصول کئے جائیں اور جو گزشتہ پانچ کے بل وصول نہیں کئے گئے ہیں انہیں بھی تین اقساط کی صورت میں وصول کیا جائے۔ذرائع نے بتایا کہ نئے ٹیرف کے تحت جو ریلوے ملازمین یا آفیسر 300تک یونٹ استعمال کریں گے انہیں کم ازکم ساڑھے5ہزار روپے تک بل آئے گا اور درجہ چہار م کے ملازمین پر بھی بجلی کے بل کی مدمیں5ہزار تک اضافی بوجھ پڑے گا ۔اس حوالے سے جنرل منیجر آپریشنز انجم پروزیر سے رابطہ کیا گیا انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرواﺅں گا جہاں پر کسی نے غفلت برتی ہوگی تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔لیکن جہاں بل میں اضافے کا معاملہ ہے یہ سابق جنرل منیجر کے دور میں ہوا تھا اس بارے علم نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایساقدم نہیں اٹھا یا جائے گا جس سے ملازمین متاثر ہو۔

مزید : صفحہ آخر