وزیراعظم نواز شریف کا دہشتگردی میں ملوث نہ ہونے والے طالبان کا رہاکرنے کا عندیہ

وزیراعظم نواز شریف کا دہشتگردی میں ملوث نہ ہونے والے طالبان کا رہاکرنے کا ...
وزیراعظم نواز شریف کا دہشتگردی میں ملوث نہ ہونے والے طالبان کا رہاکرنے کا عندیہ

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اہم باتیں کی ہیں اور بتایا ہے کہ نئی حکومتی کمیٹی طالبان کے مطالبات پر غور کرگی، آئین سے بالا تر کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا جائے گا تاہم ان طالبان کو رہا کردیا جائے گا جو دہشت گردی میں ملوث نہیں، رہا کئے جانے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوں گے۔وزیر اعظم ہاو¿س سے جاری بیان کے مطابق پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے ایک دس رکنی وفد کے ہمراہ وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی ۔ وفد سے باتیں کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہم پاکستان کو درپیش چیلنجز کو حل کرنے کے لیے یکسو ہیں ۔ ہم معاملات کو حل کرنے کے لیے مشاورت پر یقین رکھتے ہیں، کیونکہ مشاورت ہر قسم کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے میں مدد گار ہوتی ہے ۔ دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثر قائم کرنے کے لیے علماءکواپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ شدت پسندی کا خاتمہ اسلام کی تعلیمات پر ان کی اصل روح کے ساتھ عمل کرنے میں مضمر ہے۔ اس موقع پر علامہ طاہر اشرفی نے وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کو بحران سے نکالنے کے لیے آپ کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔ طالبان سے مذکرات میں بھی آپ کی ذاتی دلچسپی کی بناپر پیش رفت ہوئی ہے۔ پاکستان علماءکونسل آپ کو مکمل حمایت کا یقین دلاتی ہے ۔ امن کی خواہش اور سیاسی بصیرت سے اس مسئلے کے حل کی کوششیں آپ کے خلوص اور نیک نیتی اور وطن سے محبت کی آئینہ دار ہیں۔ ہم آپ کی خارجہ پالیسی کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور پولیو کے خاتمے کے لیے آپ کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور مکمل حمایت کرتے ہیں ۔نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں قیام امن کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ طالبان کے مطالبات زیرغور ہیں جن پر نئی حکومتی کمیٹی میں تبادلہ خیالات کیاجائے گا ۔یقین دلایا کہ وہ افرادجو دہشتگردی میں ملوث نہیں ہیں انھیں رہا کیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ حکومت معاملات کو مشاورت کے ذریعے حل کرناچاہتی ہے اوراس نے ملک کودرپیش چیلنجوں سے نمٹنے کاتہیہ کررکھا ہے ۔ معاشرے میں امن اور بھائی چارے کی فضا کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ صرف اسلام کی تعلیمات پر عمل کرکے ہی انتہاپسندی کوروکا جاسکتا ہے ۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ملک میں امن لانے کی خاطر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔انھوںنے کہا کہ وہ طالبان جو عسکری کارروئیوں میں ملوث نہیں انھیں رہا کیا جائے گا۔ حکومت ملک میں امن و استحکام لانے کے لیے درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انھوں نے کہا کہ امن کے لیے طالبان کے مطالبات پر غور ہو رہا ہے جس پر حکومتی کمیٹی بحث کرے گی لیکن آئین اور قانون سے بالاتر کسی بھی مطالبے کو پورا نہیں کیا جائے گا۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ طالبان جو عسکری کارروئیوں میں ملوث نہیں انھیں رہا کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ملک میں امن و استحکام لانے کے لیے درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں مذاکرات کی کامیابی اور ملک میں امن و امان کے معاملات پر بات چیت کی گئی ہے ہم نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ دونوں فریقین خواتین اور بچوں سمیت غیر جنگی قیدیوں کو رہا کریں جس پر وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہم اس معاملے پر کام کررہے ہیں اور نئی کمیٹی بننے سے یہ کام تیز ہوگا۔ وزیراعظم نے واضح کردیا ہے کہ اب خون کا قطرہ بہائے بغیر امن کی خواہش پوری کی جائے گی۔مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لئے علما کا ہر قسم کا تعاون وزیراعظم کے ساتھ ہے۔ فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے اکتوبر میں بین الاقوامی علما کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔کانفرنس میں امام کعبہ اور وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم کو تجویز دی ہے کہ فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے ایک جامع اور متفقہ ضابطہ اخلاق بنایا جائے۔ وزیراعظم نے موجودہ فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائیوں پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ملاقات میں عرفان صدیقی اور آصف کرمانی بھی موجود تھے۔

مزید : اسلام آباد