یہودی عورت، بیوہ نہ مطلقہ

یہودی عورت، بیوہ نہ مطلقہ
یہودی عورت، بیوہ نہ مطلقہ

  


نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک اندازے کے مطابق یہودی معاشرے میں ہزاروں ایسی عورتیں ہیں جن کی شادی مشکلات کا شکار ہیں لیکن شوہر کی طرف سے طلاق دینے کے انکار کی وجہ سے وہ اپنی زندگی تنہائی میں گزارنے پر مجبور ہیں، بعض اوقات ان کو اس تکلیف دہ صورتحال سے نکلنے میں برسوں گزر جاتے ہیں۔ ایک یہودی خاتون شوشانہ بھی ایسی ہی صورت حال سے دو چار ہیں جوتین بچوں کی ماں ہے اور 15 سال سے اپنے شوہر سے علیحدہ ہوچکی ہیں لیکن ان کا شوہر وہ مذہبی دستاویز دینے سے انکار ہے جس سے دونوں کی شادی کا معاہدہ ختم ہوسکے۔ شوشانہ نہ تو بیوہ ہے اور نہ ہی طلاق یافتہ۔اخباری رپورٹ کے مطابق یہودی معاشرے میں ایسی عورتوں کو ”اگونا“ یا زنجیروں میں جکڑی عورتیں کہا جاتا ہے، ایسی عورتیں چاہتے ہوئے بھی شوہر کی مرضی کے بغیر شادی کے معاہدے سے باہر نہیں آپاتیں۔ یہودی مذہب میں عورت کو شادی کے معاہدے سے نکلنے کیلئے خاوند سے ایسی دستاویز چاہیے ہوتی ہیں جس کے بغیر شادی کا معاہدہ ختم نہیں ہوسکتا، شوشانہ اسرائیل میں رہائش پذیر ہیں جبکہ ان کا شوہر امریکہ میں رہتا ہے۔

مزید : ادب وثقافت