پاک بھارت تعلقات: تاریخ پر ایک نظر (2)

پاک بھارت تعلقات: تاریخ پر ایک نظر (2)
 پاک بھارت تعلقات: تاریخ پر ایک نظر (2)

  

1988ء: دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ طے پایا کہ ایک دوسرے کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور کسی نئے تجربے کی صورت میں ایک دوسرے کو مطلع کیا جائے گا۔ہر سال یکم جنوری کو اس معاہدے کو رینیوکیا جاتا ہے۔۔۔1989ء:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد شروع ہو گئی،جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگا دیا کہ اسلحہ اور تربیت پاکستان کی طرف سے مل رہی ہے،جبکہ پاکستان کا کہنا تھا اور ہے کہ ہم صرف ’’اخلاقی اور سفارتی‘‘ مدد دے رہے ہیں۔ افغان جہاد کے تربیت یافتہ مجاہدین کشمیر کے مسلمانوں کی مدد کر رہے اور ان کے لئے یہ بھی ایک جہاد تھا۔۔۔1991ء: دونوں ملکوں کے درمیان نیا معاہدہ طے پایا کہ فوجی مشقوں کی اطلاع بھی ایک دوسرے کودی جائے گی۔۔۔ 1992ء: نئی دہلی میں ایک اور معاہدہ ہوا کہ جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں ہوں گے۔۔۔ 1996ء: لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے دونوں ملکوں کے فوجی افسروں کی ملاقات ہوئی۔۔۔ 1998ء: بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کئے، یہ دھماکے پوکھران کے مقام پر کئے گئے، پاکستان نے اس کے جواب میں چاغی کے مقام پر چھ دھماکے کئے اور یہ بھارت کو جواب تھا، اس کے بعد دونوں ملکوں میں دور مار میزائل بنانے کی دوڑ شروع ہوئی جو اب تک جاری ہے۔

1999ء:بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور میاں محمد نواز شریف کے درمیان لاہور میں ملاقات ہوئی، جب بھارتی وزیراعظم لاہور تشریف لائے اور مینارِ پاکستان پر بھی گئے۔ شملہ کانفرنس1972ء کے بعد یہ پہلی اہم ملاقات تھی، اس میں شملہ کانفرنس کے معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے کا عہد کیا گیا اور اعتماد بحال کرنے میں کافی اہم اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔۔۔Confidence Building Measures۔۔۔یعنی ’’CBM‘‘ ۔۔۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول کے مطابق لانے کے لئے یہ ایک اہم کامیابی تھی، لیکن مئی میں کارگل واقعہ کے بعد لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بہت بڑھ گئی اور اعتماد سازی کے عمل کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوا۔ایٹمی دھماکوں کے بعد کارگل پہلی مسلح جنگ کی صورت حال پیدا کر سکتی تھی۔۔۔ 1999ء: اکتوبر میں جنرل پرویز مشرف نے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ وزیراعظم معزول کر دیئے گئے۔ کئی ماہ بعد صدر کو بھی رخصت کر دیا گیا۔۔۔2001ء:کشمیر اسمبلی پر حملہ ہوا، 36 افراد مار گئے۔ مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ پاکستان کے اندر مبینہ طور پر دہشت گردوں کے جو کیمپ ہیں، اُن پر حملہ کر دیا جائے۔ اسی سال جولائی میں جنرل پرویز مشرف اور اٹل بہاری واجپائی کے درمیان آگرہ میں ملاقات ہوئی۔یہ مذاکرات دو دن جاری رہے، لیکن کوئی اعلامیہ جاری نہ ہوا۔ اِسی سال 13دسمبر کو انڈین پارلیمینٹ پر حملہ ہوا، 14لوگ مارے گئے۔ یہ بہت سنجیدہ معاملہ تھا، بھارت نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے بعد سرحدوں پر دونوں اطراف فوجوں کا بھاری اجتماع پوری تیاری کے ساتھ رہا۔

2002ء میں صورت حال بہتر ہوئی اور فوجیں اپنی اپنی چھاؤنیوں میں واپس چلی گئیں، اس دوران ایک گولی بھی چل جاتی تو بات ایٹم بم کے استعمال ہونے تک پہنچ سکتی تھی، اسی خطرے کے پیش نظر عالمی دباؤ نے اہم کردار ادا کیا۔۔۔ 2002ء: جنرل پرویز مشرف نے اس عہد کو دوہرایا کہ پاکستان کی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال نہیں کرنے دی جائے گی، لیکن کشمیر کا مسئلہ بھی حل ہونا چاہئے۔۔۔ 2003ء: جنرل پرویز مشرف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعہ پر ستمبر میں بھارت کے ساتھ مختلف معاہدے کئے کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔۔۔ 2004ء: جنوری میں سارک کی12ویں میٹنگ میں، جو اسلام آباد میں ہوئی، جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم کے درمیان مذاکرات ہوئے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات کے علاوہ مختلف ایشوز پر کئی وفود کے درمیان بھی بات چیت جاری رہی، جس میں وزرائے خارجہ، سیکرٹری خارجہ، فوجی افسران اور سرحدی،یعنی رینجرز اور بارڈر سیکیورٹی فورس کے افسران کے علاوہ انسداد منشیات اور ایٹمی امور کے ماہرین شامل تھے۔ نومبر میں نئے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے دوران اعلان کیا کہ اس علاقے میں مقیم فوجی دستوں میں کمی کر دی جائے گی۔

2006ء:بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے 5000 فوجی واپس بُلا لئے، لیکن سیاچن میں فوج کم کرنے سے انکار کر دیا۔ ستمبر میں جنرل پرویر مشرف اور من موہن سنگھ کے درمیان دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔۔۔2007ء، دونوں ملکوں کے درمیان جو ریلوے سروس سمجھوتہ ایکسپریس کے نام سے شروع ہو گئی تھی، اس کو 18فروری کو پانی پت کے قریب آگ لگا دی گئی، جس میں 68لوگ مارے گئے اور بے شمار زخمی ہوئے، لیکن اِسی سال دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات ’’Composite Dialogue‘‘ ہوئے، جن میں ایٹمی ہتھیاروں، بین البراعظمی میزائل اور اعتماد سازی پر بات ہوئی،اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔۔۔ 2008ء: بھارت، پاکستان، افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان گیس پائپ لائن کے لئے7.6 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے ہر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ بھی کشمیر کے مسئلے پر اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کا حصہ تھا، لیکن جولائی میں کابل میں بھارتی سفارت خانے پر حملہ ہوا، جس میں58لوگ مارے گئے، اس کا الزام بھارت نے آئی ایس آئی پر لگایا۔ اکتوبر میں صدر آصف علی زرداری اور من موہن سنگھ کے درمیان طے پایا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تجارت شروع کی جائے۔ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول کے ذریعے بھی21چیزوں کی تجارت شروع کی گئی، لیکن یہ صرف دو دن کے لئے ہوئی تھی۔ اِسی سال26نومبر کو ایک بڑا حادثہ ہو گیا۔ دہشت گردوں کے ایک گروہ نے ممبئی میں تاج محل ہوٹل، اوبرائے ہوٹل، شیوا جی مندر، ایک کالج، یہودیوں کی عبادت گاہ پر حملہ کیا، جس میں160لوگ مارے گئے۔ بھارتی فوج کی جوابی کارروائی میں دہشت گرد بھی مارے گئے، صرف اجمل قصاب گرفتار ہوا،جسے سزائے موت دے دی گئی، اس کے بعد پاک بھارت مذاکرات کا عمل رُک گیا۔

2009ء: پاکستانی حکومت نے تسلیم کر لیا کہ شاید یہ منصوبہ کراچی میں تیار کیا گیا ہو، لیکن اس میں کوئی سرکاری ادارہ یا فرد شامل نہیں ہے۔ پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور من موہن سنگھ کے درمیان شرم الشیخ (مصر) میں ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات ’’NAM‘‘ کے اجلاس کے موقعہ پر ہوئی۔ مشترکہ اعلامیہ میں اگرچہ اس حوالے سے کوئی خاص بات نہیں کی گئی اور من موہن سنگھ نے زور دیا کہ پہلا قدم پاکستان اٹھائے اور پاکستان میں دہشت گردوں کی تربیت کے جو مبینہ اڈے ہیں، انہیں ختم کیا جائے۔ اگست میں بھارت نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ حافظ سعید، جو جماعت الدعوۃ کے قائد ہیں، اور جس کا لشکر طیبہ کے ساتھ الحاق ہے، گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف ممبئی حملے کا مقدمہ چلایا جائے۔۔۔ جنوری 2010ء: لائن آف کنٹرول پر دونوں اطراف فائرنگ کا تبادلہ، فروری میں دونوں ممالک کے سیکرٹری خارجہ دہلی میں ملے، طے پایا کہ جولائی میں اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کی ملاقات ہو گی۔۔۔ 2011ء: جنوری میں بھارتی وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کی تحقیقات شیئر کرے گا۔ نیپال میں دونوں ممالک کے سیکرٹری خارجہ کی ملاقات ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ مذاکرات کا سلسلہ پھر سے شروع کیا جائے گا اور اس میں ’’تمام حل طلب تنازعات اور مسائل‘‘ پر بات ہو گی۔۔۔ 2012ء: نومبر میں اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی۔

جنوری 2013ء: لائن آف کنٹرول پر دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، دونوں ممالک نے اپنے اپنے جانی اور مالی نقصان کا اعلان کیا۔۔۔ 2014ء: جنرل راحیل شریف نے اس عزم کو پھر دوہرایا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور یہ مسئلہ کشمیریوں کی منشا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے تاکہ خطے میں امن اور استحکام پیدا ہو سکے۔ مئی میں نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات ہوئی۔ دہلی میں ہونے والی اس ملاقات میں نئے سرے سے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔۔۔ 2015ء: دسمبر میں اقوام متحدہ کی ماحولیات پر پیرس کانفرنس کے دوران میاں محمد نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات ہوئی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے سیکیورٹی ایڈوائزر کی بنکاک میں ملاقات ہوئی۔ اس سے پہلے شنگھائی تعاون کانفرنس جو روس کے شہر اوفا میں ہوئی، وہاں بھی دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہوئی۔بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اسلام آباد کی کانفرنس میں شرکت کے لئے آئیں اور مذاکرات کی بحالی کا اعلان ہوا،مگر عملاً آغاز نہیں ہو سکا۔مذاکرات کی تاریخ طے تھی کہ پٹھان کوٹ کا واقعہ ہو گیا،جس پر پاکستان نے جے آئی ٹی بنائی اور گوجرانوالہ میں ایف آئی آر بھی درج ہوئی، اس کے بعد کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی، صرف دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے پر دہشت گردی کرانے کے الزامات کا تبادلہ ہوتا رہا اور ہو رہا ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے پھر کوئی ایسا سنگین واقعہ ہو جائے کہ دونوں ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے سے اُلجھ پڑیں۔ (ختم شد)

مزید : کالم