چینی صدی کا آغاز

چینی صدی کا آغاز
چینی صدی کا آغاز

  

6 اگست 1945ء کو صبح کے پونے نو بجے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرا دیا گیا،جس سے چند لمحوں میں 62ہزار عمارتوں کے پرخچے اڑ گئے اور شہر کا بیشتر حصہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔ تقریباً 80 ہزارافراد ہلاک ہوئے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی اس سے کم نہیں تھی۔ 9 اگست کا دن ناگاساکی کے شہریوں کے لئے قیامت کی خبر لے کر آیا۔ یہ شہر بھی اتنی ہی بڑی تباہی کا شکار ہوا، جس کا تجربہ تین روز قبل ہیروشیما نے کیا تھا۔ امریکی صدٹرومین نے کہا کہ جاپان پر ایٹم بم 2لاکھ امریکی سپاہیوں اور 2 لاکھ سے لے کر 4لاکھ دشمن کی جانیں بچانے کے لئے گرایا گیا تھا۔ انہوں نے ببانگ دھل اعلان کیا کہ وہ آئندہ بھی ’’قوم کی فلاح‘‘ اور ’’جمہوریت‘‘ کے تحفظ کے لئے ایٹم بم کے استعمال کا حکم دینے میں تامل نہیں کریں گے۔امریکی صدر کے اس بیان پر آج بھی یقین نہیں کیا جا رہا۔ اس وقت بھی یقین نہیں کیا گیا تھا۔ امریکی فضائیہ کے کمانڈر انچیف نے کہا تھا کہ جاپانیوں کا فضا میں کنٹرول ختم ہو چکا تھا اور اس وجہ سے وہ زیادہ دیر تک مزاحمت جاری نہیں رکھ سکتے تھے۔ امریکی بحریہ کے کمانڈر انچیف ولیم ہیلے نے کہا تھا کہ ایٹم بم کا استعمال غیرضروری تھا اور یہ غلطی تھی۔ امریکی وزیرخارجہ جیمز بائرنز نے کہا تھا کہ جنگ کا اختتام ایٹم بم سے نہیں ہوا تھا اور جب بم گرایا گیا تو اس سے پہلے جاپان کو شکست ہو چکی تھی اور وہ ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کر رہا تھا۔ ایٹم بم نے دوسری جنگ عظیم کا مکمل خاتمہ ہی نہیں کیا تھا، بلکہ اس نے دُنیا پر وہ امریکی برتری قائم کر دی تھی، جس سے ’’امریکی صدی‘‘ کا آغاز ہو گیاتھا۔ 9اگست کو امریکی صدر ٹرومین نے ریڈیو پر نشری تقریر میں کہا تھا کہ ہم اس جنگ میں دُنیا کی سب سے طاقتور قوم ،بلکہ شاید تاریخ کی سب ے طاقتور قوم کی حیثیت سے اُبھرے ہیں۔ اس جنگ نے جرمنی اور جاپان جیسے ممالک کو تباہ کیا تھا وہاں برطانیہ اور فرانس کا عالمی اقتدار بھی ختم ہو گیا تھا اور دُنیا واقعی ایک نئے دور میں داخل ہو گئی تھی۔ دنیا کے بہت سے ممالک کی آزادی جس میں برصغیر بھی شامل ہے اسے دوسری جنگ عظیم کے ثمرات بھی قرار دیا جاتا ہے۔

دُنیا میں غیر معمولی اقتدار حاصل کرنے کے باوجود امریکی عدم تحفظ کا شکار رہے ہیں۔ اپنے عالمی غلبہ کو برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے مسلسل متعدد ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں۔ 1969ء میں جب امریکی خلاباز نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھااسے دُنیا بھر میں 60 کروڑ افراد نے اپنے گھروں میں ٹیلی ویژن پر دیکھااورذہنی طور پر امریکی برتری کا اعتراف کیا۔ گزشتہ چند سال کے دوران امریکہ میں متعدد ایسی کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ ناسا کا تسخیر قمر کا پراجیکٹ بنیادی طور پر سائنسی پراجیکٹ نہیں تھا، بلکہ یہ تعلقات عامہ کا پراجیکٹ تھا جس میں تعلقات عامہ کے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے امریکی رائے عامہ کو تیار کیا گیا تھا کہ وہ ناسا کے منصوبوں کی حمایت کرے اور اپنے اراکین پارلیمنٹ پر دباؤ ڈالے کہ وہ اس منصوبے کی فنڈنگ کے لئے ووٹ دیں۔ 1960ء کے عشرے میں امریکی خلابازوں کو قوم کے نئے ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ تسخیرقمر کے بعد دنیا کو بتایا گیا کہ امریکی چاند پر جا سکتے ہیں۔ اس لئے وہ دنیا میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اس تاثر کا امریکہ کو بے پناہ فائدہ ہوا مگر اس کے ساتھ ہی دنیا میں پیدا ہونے والے ہر بڑے حادثے اور سازش کے پیچھے امریکی ہاتھ تلاش کرنے کے کلچر کا بھی آغاز ہوا۔ اب دُنیا بھر میں اکثر واقعات کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا جاتا ہے اور تعلقات عامہ کے فن میں غیر معمولی عروج حاصل کرنے والے امریکہ سے دُنیا میں سب سے زیادہ نفرت کی جاتی ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اکثر اپنے شہریوں کو دُنیا کے متعدد ملکوں کے سفر سے منع کرتا ہے، کیونکہ اسے اندازہ ہوتا ہے کہ ان ممالک میں امریکہ کے خلاف اتنی زیادہ نفرت ہے کہ امریکی شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تعلقات عامہ کے حوالے سے یہ حالات کی سب سے بری صورت ہوتی ہے۔

امریکی بہت طاقتور ہیں مگر وہ ہر وقت مستقبل کے متعلق فکرمند رہتے ہیں۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن نے 1970ء کے عشرے میں معروف ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر ایڈورڈ ٹیلر جسے ’’بابائے ہائیڈروجن بم‘‘ بھی کہا جاتا ہے سے دریافت کیا تھا 2000ء کے سال میں امریکہ کیسا ہو گا؟ کچھ دیر سوچنے کے بعد ڈاکٹر ٹیلر نے کہا تھا کہ اسے 50 فیصد یقین ہے کہ اس وقت امریکہ کا وجود نہیں ہو گا۔ اس پر امریکی صدر نے دریافت کیا کہ اس سے مراد اس کا طبعی وجود ہے یا نظام حکومت؟ اس پر امریکی سائنس دان نے کہا ’’ان میں سے کوئی ایک یا دونوں صورتیں بھی ہو سکتی ہیں‘‘۔

امریکیوں نے عراق اور افغانستان میں تقریباً 4 ٹریلین ڈالر خرچ کئے ہیں۔ ان ممالک میں بدترین تباہی آئی ہے۔ یہ رقم اس سے کہیں زیادہ ہے، جس سے امریکہ نے مارشل پلان کے ذریعے یورپ کا نقشہ بدل دیا تھا۔ یہ رقم اگر عراق اور افغانستان کی تعمیروترقی کے لئے خرچ کی جاتی تو اس سے ہر عراقی اور افغانی شہر اور گاؤں امریکی معیار کا ہو سکتا تھا۔ مگر آج بھی ان ممالک کے شہروں پر غربت‘ بھوک‘ جہالت اور بے یقینی کے عفریت منڈلا رہے ہیں۔ 4 ٹریلین ڈالر کا اکثر حصہ اسلحہ کے ان تاجروں کی جیب میں چلا گیا ہے جن کا اسلحہ گوداموں میں پڑا پڑا فرسودہ ہو رہا تھا اور کچھ ان عراقی اور افغانی باشندوں کو بھی ملا ہے، جنہوں نے امریکی مفادات کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اور یہ امریکی مفادات کیا ہیں؟ ان کے متعلق شاید آج درست طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔ حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک امریکی کتاب کے مصنف نے دعویٰ کیا ہے کہ جب تک اسلامی دنیا میں انتشار رہے گا ۔ یہ آپس میں لڑتے رہیں گے‘ امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ گزشتہ چند سال میں اکثر اسلامی ممالک میں غصے کا ہدف امریکہ کی بجائے وہاں کی حکومتیں بن چکی ہیں۔اسے بھی امریکی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔

امریکہ نے امریکی عوام کے لئے جنگ کو ویڈیوگیم بنا دیا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے اس نے ایک ایسا ہتھیار متعارف کرایا ہے، جس میں امریکی فوجی کا کوئی کام نہیں ہے۔ کچھ لوگ ہزاروں میل دور بیٹھ کر اسے اس طرح کنٹرول کرتے ہیں جیسے وہ ویڈیوگیم کھیل رہے ہوں۔ ڈرون بے پناہ تباہی پھیلا رہے ہیں۔ نفرتوں کو بڑھا رہے ہیں، جہاں اس سے حقیقی دہشت گرد ہلاک ہوتے ہیں وہاں یہ بہت سے معصوم لوگوں کے لئے پیغام اجل بھی لے کر آتے ہیں،مگر امریکی ایک ایسی قوم ہیں، جس نے جاپان پر ایٹم بم گرانے پر کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی تھی۔ صدر ٹرمین امریکی ہیرو تھے اور آج بھی امریکی ہیرو ہیں۔ ڈاکٹر ٹیلر کی پیش گوئی پوری نہیں ہوئی تھی۔ امریکہ آج بھی سپرپاور ہے مگر 9 ستمبر کے سانحے نے دُنیا کو تبدیل کر دیا ہے۔ اب دُنیا ویسی نہیں ہے جیسی 9ستمبر سے پہلے تھی۔ امریکی پالیسیوں نے امریکہ‘ برطانیہ‘ اسرائیل اور اپنے دوسرے حواریوں کو زیادہ محفوظ بنا لیا ہے۔ معروف امریکی دانشور برنارڈ لیوز نے اپنی کتاب "The Crisis of Islam" میں لکھا ہے کہ جلد یا بدیر القاعدہ اور اس سے متعلقہ گروہ اسلام کے دوسرے پڑوسیوں روس‘ چین‘ بھارت کے ساتھ تصادم کی صورت پیدا کریں گے اور یہ ممالک امریکہ کی نسبت مسلمانوں کے خلاف طاقت کے استعمال میں زیادہ بے رحم ثابت ہوں گے۔ برنارڈ لیوز کے مطابق اگر انتہاپسند اپنے تجزیوں میں درست ثابت ہوئے اور انہیں اپنی جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی تو پھر دُنیا ایک تاریک مستقبل کا انتظار کر رہی ہے۔ خاص طور پر یہ تاریکی مسلمان ممالک پر زیادہ گہری ہو گی۔1980ء کے عشرے کے آغاز میں رچرڈ نکسن کی کتاب "THE REAL WAR" منظر عام پر آئی تھی۔ اس کتاب نے عالمی حلقوں میں ایک تہلکہ مچا دیا تھا۔ اس کتاب نے امریکی پالیسی سازوں کو نئے انداز میں سوچنے پر مجبور کیا تھا۔ اس کتاب میں اس نے اس امریکی صدر کا بھی تذکرہ کیا تھا، جس نے ڈیڑھ سو سال قبل یہ پیش گوئی کی تھی کہ امریکہ اور روس دُنیا کی سپرطاقت بنیں گے، مگر رچرڈ نکسن کا کہنا تھا کہ اکیسویں صدی کے آغاز تک چین دُنیا کی ایک ایسی بڑی اور فیصلہ کن طاقت بن چکا ہو گا، جو دُنیا میں توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس نے نپولین کے اس قول کے حوالے سے لکھا تھا کہ چین ایک ایسا سویاہوا شیر ہے جسے مت جگائیں وگرنہ یہ دنیا کو ہلا دے گا۔ آج رچرڈ نکسن کی یہ پشین گوئی پوری ہو گئی ہے اور چین دنیا کی ایک ایسی سپرطاقت بن چکا ہے، جو عالمی معیشت میں فیصلہ کن کردارادا کر رہاہے۔ نکسن کی اس کتاب کو آج بھی پڑھا جائے تو بہت سے عالمی معاملات میں اس کی غیرمعمولی سیاسی بصیرت کااعتراف کرنا پڑتا ہے، مگر اس کتاب میں وہ کوئی ہلکا سا اشارہ کرنے میں بھی ناکام رہا تھا کہ 2000ء میں سوویت یونین نہیں ہو گا، بلکہ یہ اس سے دس سال پہلے ہی ٹوٹ چکا ہو گا۔

چین نے ماؤزے تنگ کے بعد کمیونزم سے چینی بننے کے سفر کا آغاز کیا اور آج چین اقوام عالم کے اہم فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ وہ تائیوان پر اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوا، مگر وہ چین کے ساتھ تجارت کرنے کے لئے تیار ہے۔ چین میں امریکہ کو دشمن نمبر ایک قرار دیا جاتا تھا، مگر چینی مفادات نے اسے اپنی اس پالیسی پر نظرثانی کرنے پر آمادہ کیا۔ نکسن نے لکھا تھا کہ جب وہ پہلی مرتبہ چین کی سرزمین پر قدم رکھ رہے تھے تو انہیں یقین تھا کہ دُنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ اگلے چند سال میں پاکستان اور دوسرے ممالک میں چین اقتصادی راہداریاں تعمیر کر رہا ہے۔ وہ دُنیا کو خوشحالی اور ترقی کے ایک نئے دورسے روشناس کرا رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری پر جب پہلا چینی ٹرک سفر کرے گا تو اس وقت ایک نئے عہد کاآغاز ہو گا۔ ہماری بالکل ایک نئی دنیا سے ملاقات ہو گی، مگر مستقبل قریب کی اس بڑی تبدیلی سے استفادہ کرنے کے لئے اہل پاکستان زیادہ تیار نظر نہیں آتے۔ ہمارا کام اگر چینی ٹرکوں کے پنکچر لگانے اور ان کے ڈرائیوروں کو کھانا کھلانے تک محدود ہو گیا تو ہم پاکستان کی قومی ترقی کے ایک اہم موقع کو ضائع کر دیں گے۔ دُنیا میں ایک نئی صدی کا آغاز ہو رہا ہے جو چینی صدی ہو گی۔جنرل ڈوگلس میک آرتھر نے کہا تھا کہ جنگوں میں شکست کی تاریخ کو صرف دو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے اور وہ ہیں ’’غیرمعمولی، دیر‘‘جب آپ دشمن کے ارادوں کو بھانپنے میں غیر معمولی دیر کر دیتے ہیں۔ جب آپ اخلاقی خطرے کو محسوس کرنے میں دیر کر دیتے ہیں۔ جب آپ تیاری میں دیر کر دیتے ہیں۔ جب آپ تمام ممکنہ قوتوں کو متحد کرنے میں دیر کر دیتے ہیں اور جب آپ اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے ہونے میں دیر کر دیتے ہیں۔ جنرل میک آرتھر کے ان الفاظ پر غیرمعمولی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چینی صدی میں دیر تباہ کن ثابت ہو گی اور زمانہ قیامت کی چال چل جائے گا۔ منیر نیازی سے معذرت کے ساتھ ہمیں ہر کام میں دیر کرنے کے کلچر کو ترک کرنا ہو گا۔

مزید :

کالم -