ناہندگان،عدالت،پہنچ گئے،پنجاب یونیواتھارٹی اڑھائی کروڑروپے کی وصولی میں ناکام

ناہندگان،عدالت،پہنچ گئے،پنجاب یونیواتھارٹی اڑھائی کروڑروپے کی وصولی میں ...

  

 لاہور(شہباز اکمل جندران)پنجاب ریونیو اتھارٹی کی انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا، درجنوں نادہندگان نے ٹیکس ادا کرنے کی بجائے عدالتوں کا رخ کرلیا۔ اتھارٹی کے ریکوری ٹیموں اور لیگل سیل کی عدم دلچپسی کے باعث2کروڑ 50لاکھ روپے سے زائد رقم کی وصولی التوا کا شکار ہوگئی۔معلوم ہوا ہے کہ اپریل 2010میں ملک میں 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعدسروسز پر عائد جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی کا اختیار صوبوں کو دیدیا گیا۔جس کے جواب میں پنجاب میں 2012میں پنجاب ریونیو اتھارٹی ایکٹ کی روشنی میں پی آر اے کا وجود قائم ہوا تو اتھارٹی نے جی ایس ٹی کی وصولی شروع کردی ۔لیکن اسی کے ساتھ صوبے میں دوہرے ٹیکس کا ابہام پیدا ہوگیا۔اور درجنوں افراد نے اپنی خدمات کے عوض جنرل سیلز ٹیکس ادا کرنے کی بجائے عدالتوں سے رجوع کرلیا۔اور حکم امتناعی بھی حاصل کرلیے گئے۔جس کے نتیجے میں اڑھائی کروڑ روپے سے زائد رقم کی ریکوری التوا میں جاپڑی۔ذرائع کے مطابق بتایا گیا ہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی صوبے بھر 59قسموں اور ان کی ایک سو 15ذیلی قسموں پر سروسز پر 16فیصد کے تناسب سے جی ایس ٹی وصول کرتی ہے۔اور ٹیکس نیٹ میں شامل سروسز فراہم کرنے والے یونٹس کو ریونیو ادا نہ کرنے پر بحق سرکاری سربمہر کردیا جاتا ہے۔اور یہ عمل بھی لاہور ،راولپنڈی ، ملتان ، فیصل آباد ، گوجرانوالہ اور مری تک ہی محدود ہے اور دیگر بڑے چھوٹے شہروں میں اتھارٹی کا نیٹ ورک اور کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے۔بتایا گیا ہے کہ اتھارٹی کے پاس ایک طرف سٹاف کی کمی ہے۔ تو دوسری طرف انفراسٹرکچر بھی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اتھارٹی کی ریکوری ٹیمیں ا ور لیگل سیل اپنی مصروفیات کے باعث عدالتوں میں زیر التوا ان مقدمات کی ٹھیک طرح سے پیروی نہیں کرپارہا جس کے نتیجے میں اڑھائی کروڑ روپے سے زائد ریکوری التوا کا شکار ہوگئی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -