خاندانی نظام میں بگاڑ کا باعث بننے والے تحفظ نسواں بل کوواپس لیا جائے، علامہ عارف

خاندانی نظام میں بگاڑ کا باعث بننے والے تحفظ نسواں بل کوواپس لیا جائے، علامہ ...

  

لاہور ( نمائندہ خصوصی ) شیعہ علماکونسل اور اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہا ہے کہ خاندانی نظام میں بگاڑ کا باعث بننے والے تحفظ نسواں بل کوتمام مکاتب فکر کے علما مستردکرچکے ہیں، حکومت کو واپس لینا پڑے گا۔ اس کی غیر اسلامی شقیں این جی اوز سے متاثرہ اور معاشرے کو یورپی بنانے کی سازش ہیں۔15۔ مارچ کو منصورہ لاہور میں ہونے والے مذہبی جماعتوں کے اجلاس میں حکومت کے غیر آئینی اور ملک کو سیکولر ریاست بنانے کے غیر اسلامی اقدامات کے خلاف لائحہ عمل تیار کیاجائے گا۔ اس سے دینی جماعتوں کے اتحاد کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔ جس کے لئے مختلف قائدین نے اظہار بھی کیا ہے۔ کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ عارف واحدی نے کہا کہ ملک میں اتحادکی فضا قائم کرنے میں علما نے اہم کردار ادا کیا ہے، کچھ خریدے ہوئے لوگ دہشت گردی اور تکفیریت میں ملوث رہے ہیں ، مگر ان کی اب کمر ٹوٹ چکی ہے، انشااللہ دن قریب ہیں کہ ملک سے تکفیریت اور دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ ہوجائے گا۔ اس حوالے سے افواج پاکستان اور سکیورٹی اداروں کا کردار قابل تعریف ہے ، لیکن ہم بارہا واضح کر چکے ہیں کہ عزاداری سید الشہدا اور مسلمات تشیع پر کوئی قدغن برداشت نہیں کریں گے۔ اس کے لئے چاہے جتنی بھی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی جماعتیں ایک بار پھر قریب آر ہی ہیں۔ اس حوالے سے کل( منگل ) ہونے والا اجلاس بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین بھی شریک ہوں گے۔ان کا کہنا تھاکہ تحفظ نسواں بل اسلام سے متصاد م اورخاندانی نظام کے لئے زہر قاتل ہے۔ حکومت نے اگر خاندانی نظام کے لئے بہتری پیدا کرنی ہے تو علما اور مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -