پرائیویٹ پبلشر کو ان کاوہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حق دار ہیں

پرائیویٹ پبلشر کو ان کاوہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حق دار ہیں

  

انٹر ویو ۔اسد اقبال

عکاسی ۔ ذیشان منیر

نجی پبلشرز کی اہمیت دنیا بھر میں مسلمہ ہے جس سے کسی طور بھی انکار ممکن نہیں لیکن مملکت پاکستان کی حد تک اسے بد بختی یا بد قسمتی کہا جا سکتا ہے کہ پرائیو یٹ پبلشرز کو ان کا وہ مقام نہیں دیا گیا یا نہیں دینے دیا گیا جس کے وہ حق دار ہیں ۔ کسی بھی خطے میں سر کاری پبلشنگ کو با اعتماد تصور نہیں کیا جاتا ہے اور زیادہ تر انحصار نجی پبلشرز پر کیا جاتا ہے کیو نکہ ان کی طرف سے شائع کر دہ مواد زیادہ ضخیم ، مستند اور عام فہم ہوتا ہے لیکن شو نیے قسمت کہ پاکستان میں ابھی تک پرائیو یٹ پبلشرز پر سر کاری گر فت بلکہ شکنجہ زیادہ حاوی دکھائی دیتا ہے ۔پرائیویٹ اور سر کاری سکولوں کے معیاری تعلیم میں واضح فر ق ہے جس کو ختم کر نے اور پنجاب کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر نے میں وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شر یف تاریخی اقدامات پر مبار کباد کے مستحق ہیں ۔ملک میں کاروبار ی سر گر میاں پروان چڑھانے اور عوامی خو شحالی کے لیے توانائی بحران کا خاتمہ اولین تر جیح ہے جس پر حکو متی پالیسیاں خو ش آئند ہیں ۔ان خیالات کا اظہار پاکستان پبلشرز ایسو سی ایشن کے مرکزی رہنماء اور مسلم لیگ ن تاجر ونگ کے سابقہ سینئر نائب صدر ابور ذر غفاری گوہر نے روزنامہ پاکستان کو خصو صی انٹرویو کے دوران کیا ۔

گوہر پبلشرز کو معیاری نشرو اشاعت کر تے ہوئے پچاس سال مکمل ہو گئے ہیں گوہر پبلشرز کے بانی الحاج محمد حسین گوہر ہیں جنھوں نے جدید تعلیم کے میدان میں اپنا لو ہا منواتے ہوئے ہزاروں معیاری کتابوں کی پبلشنگ کی اور تعلیم کے سیکٹر میں مقام حاصل کیا ۔گوہر پبلشرز نے تعلیم کے شعبہ میں انقلاب لانے کے لیے ریسر چ اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹر کا قیام عمل میں لایا ہوا ہے جہاں پر قابل ماہرین سلیبس ،فارن یو نیورسٹیوں سے معیاری تعلیم حاصل کر نے والے اساتذہ کرام اپنے تجربات اور اعلی تعلیم کی روشنی میں سر گر م عمل ہیں

ابوذر غفاری نے کہا کہ 2006میں پالیسی بنی کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کتابوں کو چھاپے گا نہیں بلکہ مانیٹرنگ کر یں گے اور پبلشرز میں مقابلہ کے پیش نظر بہترین کتب کا انتخاب ممکن ہو ا کر ے گا یہ قانون رائج ہو گیا جو چلتا رہا تاہم امسال پنجاب ٹیکسٹ بک بور ڈ نے سر کاری کتب کی پبلشنگ خود کر لی ہے اور جن پبلشرز کو این او سی جاری کیے گئے ہیں ان کے رائٹس پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے اوراٹھارویں تر میم کے تحت پبلشرز کا استحصال ہوا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مقابلہ میں بننے والی کتابوں کا معیار بہتر ہو گا جس کے مثبت اثرات آنے والی نسل پر پڑتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ پبلشرز تعلیم کے میدان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو معیار تعلیم کو اصو لوں کے عین مطابق تیار کر نے کے لیے ہائی کوالیفائیڈ اساتذہ اپنی ماہرانہ صلاحیتوں کا استعمال عمل میں لاتے ہیں کیو نکہ یہ اساتذہ بچوں کی نفسیات اور ان کو دی جانے والی تعلیم کو بخوبی سمجھتے ہوئے سلیبس بناتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بور ڈ کی غیر معیاری کتابوں کو کسی بھی پرائیویٹ پبلشرز کی کتاب کا موازنہ کر یں تو پنجاب بور ڈ کی کتابو ں میں نہ صر ف غلطیوں کی بھر مار ہو نگی بلکہ مضمون بھی معیاری ہو نگے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیو یٹ پبلشرز کی کتابوں کو پر نٹ کروایا جائے اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے افسران مانیٹرنگ کر کے بہترین کتب کا انتخاب کر کے معیاری تعلیم سے قوم کے معماروں کا مستقبل روشن کر یں لہذا پبلشرزوزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شر یف سے مطالبہ کر تے ہیں کہ ٹیکسٹ بک بور ڈ کی بجائے پرائیویٹ پبلشرز کی کتب کو معیاری تعلیم کے لیے سو دمند بنائیں اور بہترین پرائیویٹ پبلشرز کی کتابوں کا چناؤ کر کے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر یں۔انھوں نے کہا کہ حکو مت پنجاب کی جانب سے سر کاری سکو لوں میں بچوں کو مفت کتابیں فراہم کر نے کا اقدام احسن ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ سر کاری سکولوں میں بچوں کے لیے بنیادی سہولیات کا بندو بست کر تے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ لیبارٹریز کا قیام عمل میں لائیں۔انھوں نے کہا کہ سرکاری اور پرائیویٹ سکو لوں کے معیار تعلیم میں بہت فرق ہے ہر شہری چاہتا ہے کہ پرائیویٹ سکول میں بچوں کا داخلہ کر وایا جائے ۔حکو مت کو یہ فرق ختم کر نا ہو گا جس کے لیے سر کاری سکولوں کو اپ گر یڈیشن کر نے کی ضرورت ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اردو بازار کتابوں اور پبلشرز کے حوالے سے پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے جہاں پر ملک بھر سے خریدار تھوک میں اشیاء خریدنے کی غرض سے آتے ہیں تاہم افسوس کی بات ہے کہ اردو بازار میں یو نین کے کمزور ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ اور سر کاری سکولوں کی جعلی اور ڈوپلیکیٹ کتابوں کا کام بھی ہو تا ہے جس سے مستقبل کے معماروں کو بہترین او ر اصل کتابیں ڈھو نڈنے سے ملتی ہیں انھوں نے کہا کہ جعلی کتابوں کی فروخت کو روکنے کے لیے متعلقہ اداروں کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔

ابور ذر غفاری نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے لاہور کے باسیوں کو میٹرو بس سروس کے بعد اورنج لائن ٹر ین کا تحفہ دیا جارہا ہے جس سے لاہور کے نہ صر ف حسن میں اضافہ ہو گا بلکہ شہری سستی اور تیز ترین سفری سہولیات سے بھی مستفید ہو نگے ۔انھوں نے کہا کہ اور نج ٹر ین لائن منصوبہ کی تکمیل کے لیے تر قیاتی کام جاری ہیں جس سے نہ صر ف تاجروں کو بلکہ شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے لہذا حکو مت کو چائیے کہ اور رنج ٹر ین لائن منصو بہ کو جلد عملی جامہ پہنانے کے لیے تر قیاتی کام دن رات جاری رکھے جائیں اور وزیر اعلی پنجاب میں شہباز شریف اپنی گڈ ایڈ منسٹریشن کی روایت کو برقرا ر رکھتے ہوئے اس منصو بہ کو جلد مکمل کروائیں ۔انھوں نے مذید کہاکہ لاہور میں ٹر یفک کے اژدھام نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جس کے لیے حکو مت کو چائیے کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کرواتے ہوئے ایسے روڈ پلان تر تیب دیں جس سے ٹریفک مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔ابو ذر غفاری نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک ہے جس سے غیرملکی سرمایہ کاروں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔اگر ہم ماضی قریب کے دور کو دیکھیں تو معاشی حوالے سے کئی حوالوں سے بہت اہم پیش رفت ہوئی ہے لیکن کچھ معاملات ہنوز توجہ طلب ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے اگرچہ ضرورت تو حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کی ہے لیکن پالیسی سازی کا اختیار ہونے کی وجہ سے اہم کردار حکومت کو ہی کرنا ہے۔اس وقت ایک تشویشناک مسئلہ برآمدات میں کمی ہے۔کچھ عرصہ قبل موجودہ حکومت کی کاوشوں کی بدولت یورپین یونین نے پاکستان کو جی ایس پی پلس سٹیٹس دے دیا جس کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ برآمدات کو فروغ ملے گا لیکن حیرت انگیز طور پر برآمدات بڑھنے کے بجائے کم ہوگئیں جس کی وجوہات کا جائزہ لینے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے نمائندوں کی ایک ٹیم تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔اگرچہ برآمدات میں کمی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سرفہرست زیادہ پیداواری لاگت ہے لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ اس سلسلے میں بیرون ملک پاکستانی کمرشل سیکشنز کی سرد مہری اور برآمدات کے سلسلے میں چند ممالک پر انحصار نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے لہذا اس جانب خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔برآمدات کے فروغ کے لیے پاکستان کو علاقائی تجارت کے فروغ اور ویلیو ایڈیشن کی طرف خاص توجہ دینا ہوگی ۔انھوں نے وفاقی حکو مت پر زور دیا ہے کہ پاکستان کو وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ریلوے لنک قائم کرنے چائیے جس سے ان ریاستوں کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوگا۔ ماضی میں توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کے فقدان کا خمیازہ ملک بھر کے صنعتی و تجارتی شعبے کو بھگتنا پڑا ہے، توانائی کے بحران کی وجہ سے صنعتی پیداوار کم ہوئی جس کے منفی اثرات برآمدات پر واضح دیکھے جاسکتے ہیں مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت کو زمینی حقائق کا بھرپور احساس ہے اور اْس نے بھکی، تھرپاور پلانٹ، جھنگ پاور پلانٹ اور بلوکی قصور پاور پلانٹ سمیت توانائی کی پیداوار کے دیگر منصوبے شروع کررکھے ہیں جن کی تکمیل کے بعد وافر بجلی دستیاب ہوگی۔ اگر ہم نے سستی اور وافر بجلی کی پیداوار یقینی نہ بنائی تو سرمایہ دیگر ممالک منتقل کرنے کا رحجان بڑھے گا جو کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔نجی شعبے کو چاہیے کہ توانائی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے جبکہ حکومت کو چاہیے کہ ان سرمایہ کاروں کو سہولیات دے۔ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، دیگر صوبوں بھی اْن کی تقلید کرتے ہوئے متبادل ذرائع سے توانائی کی پیداوارکے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم میاں نواز شریف نے صنعتی شعبے کے لیے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے یہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں صنعتی شعبے کو درپیش مسائل سے اچھی طرح آگاہی ہے اور وہ انہیں جلد سے جلد حل کرنا چاہتے ہیں اور جس کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -