مسیحیوں کے حقوق کا تحفظ ترجیح ہونی چاہیے، امریکی سروے

مسیحیوں کے حقوق کا تحفظ ترجیح ہونی چاہیے، امریکی سروے

  

واشنگٹن (اے پی پی)رائے عامہ کے ایک نئے جائزے کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت نے ملک میں مسیحیوں کے حقوق کے تحفظ کو کسی بھی دوسرے مذہب کے مقابلے میں زیادہ ترجیح دینے کی حمایت کی ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس' کے 'این او آر سی سینٹر فار پبلک افیئر ریسرچ' کے سروے میں رائے دینے والے 82 فی صد افراد کا کہنا تھا کہ امریکہ میں مسیحیوں کو اپنے مذہبی عقائد پر عمل دآمد کی مکمل آزادی ان کے نزدیک انتہائی اہم معاملہ ہے۔سروے میں جب یہی سوال یہودیوں کے بارے میں کیا گیا تو عوام کا تناسب کم ہوکر 72 فیصد رہ گیا۔ 67 فی صد افراد نے مرمنز کے لیے مکمل آزادی کی حمایت کی جب کہ مسلمانوں کے بارے میں اس خیال کے حامی 61 فیصد تھے۔سروے کے مطابق امریکیوں میں مذہبی دہشت گردی سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوا ہے لیکن سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر شہری آزادیوں کے خاتمے کے مسئلے پر امریکی عوام اب بھی واضح تفریق کا شکار ہیں۔سروے سے معلوم ہوا ہے کہ 54 فی صد امریکیوں کی رائے ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں حکومت کو بعض شخصی آزادیوں اور حقوق کو قربان کرنا ہوگا لیکن 45 فی صد نے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا۔سروے کے مطابق کل 56 فیصد امریکی شہری حکومت کی جانب سے بغیر کسی انتباہ کے انٹرنیٹ صارفین کی سرگرمیوں اور چیٹنگ کی نگرانی کے حامی ہیں خواہ اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ امریکی حکومت اپنے شہریوں کی جاسوسی کر رہی ہے۔ صرف 28 فی صد نے اس طرح کی جاسوسی کی مخالفت کی۔

مزید :

عالمی منظر -