ایٹمی حادثات سے کیڑوں اور پرندوں میں جینیاتی تبدیلیاں

ایٹمی حادثات سے کیڑوں اور پرندوں میں جینیاتی تبدیلیاں

  

لندن (بیورورپورٹ) پروفیسر ٹموتھی موسیو کی تحقیقات سے یہ پردہ اٹھتا ہے کہ ایٹمی حادثات کے زمینی زندگی پر کتنے حیران کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔وہ آتشیں رنگ کے ایسے متعدد کیڑے بھی جمع کر چکے ہیں، جن میں جینیاتی تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آتشیں رنگ کے یہ کیڑے انسانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔وہ اپریل دو ہزار گیارہ میں چرنوبل کے علاقے میں تھے، جہاں انہوں نے یہ منفرد کیڑے دریافت کیے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں اور میرے ساتھی آندرس مولر پھولوں کے بیجوں پر تحقیق کر رہے تھے۔ مولر نے زمین پر آتشیں رنگ کا ایک کیڑا دیکھا۔ ہم نے فوری طور پر یہ محسوس کیا کہ یہ جینیاتی طور پر تبدیل ہو چکا ہے، اس کی ایک آنکھ ہی نہیں تھی۔‘اس کے بعد سے پروفیسر موسیو اور ان کے ساتھی نے ایسے کیڑے مکوڑے، چوہے اور پرندے جمع کرنے شروع کیے، جو کہ جینیاتی طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایٹمی حادثے کے بعد تابکاری سے متاثرہ علاقے میں موجود کیڑوں اور پرندوں پر بھی اثرات پڑتے ہیں۔

پروفیسر ٹموتھی موسیو کہتے ہیں، ’’پھولوں کے زردانے بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ ہم نے ایسے کئی درخت بھی دیکھے ہیں، جو اپنی پہلے والی شکل میں نہیں رہے۔‘‘ان کے مطابق یوکرائن کے تابکاری سے آلودہ علاقوں میں چرنوبل اور درختوں کی غیر فطری حالت میں براہ راست تعلق پایا جاتا ہے۔ یہ پیش رفت بالکل اسی طرح کی ہے جیسی فوکوشیما کے علاقے میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ درختوں کی عمر ابھی بہت چھوٹی ہے لیکن وہ تیس برس پرانے لگتے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -