جہلم،حواء کی ایک اور بیٹی خاوند کے وحشیانہ تشدد کا شکار

جہلم،حواء کی ایک اور بیٹی خاوند کے وحشیانہ تشدد کا شکار

  

جہلم( ڈسٹرکٹ رپورٹر ) حواء کی ایک اور بیٹی خاوند کے وحشیانہ تشدد کا شکار، 4 بچوں کی دکھیاری ماں ’’حقوق تحفظ نسواں‘‘ کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور، تھانہ صدر کے تفتیشی نے ٹرخا کر ذخموں سے چور خاتون کو واپس لوٹا دیا۔ متاثرہ خاتون اپنی آواز ارباب اختیار تک پہنچانے کے لئے پریس کلب پہنچ گئی ۔ تفصیلات کیمطابق جہلم کے محلہ جمیل ٹاؤن کی رہائشی سعدیہ کوثر زوجہ اعجاز حسین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرا خاوند اور اس کی 4 بہنیں پچھلے کئی سالوں سے طرح طرح کا زہنی و جسمانی تشدد کر رہے ہیں ، میرا سسر الٹی سیدھی فرمائشیں کر کے میرے طلائی زیورات چھین چکے ہیں ۔ 9مارچ کی شام کو میرا خاوند اعجاز حسین ولد رانا اصغر نے اپنے والد اور بہنوں کی خواہش پر میرے کانوں کی بالیاں لاکٹ سیٹ، اور انگوٹھی چھین کر میرے اوپر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا۔ میرے بچے والد ، دادا، اور پھوپھیوں کی منت سماجت کرتے رہے ، لیکن میرے سسرالیوں نے بچے چھین کر مجھے گھر سے باہر نکال دیا، اہل محلہ نے منت سماجت کی کوشش کی لیکن میرے سسرالیوں نے بغیر کسی وجہ کے مجھے گھر سے باہر نکال دیا، وقوعہ کی بروقت تحریری اطلاع تھانہ صدر جہلم میں دی تھانہ میں موجود محرر رؤف نے میری تحریری درخواست اسسٹنٹ سب انسپکٹر چوہدری تنویر کے سپرد کر دی 4 روز گزرنے کے باوجود تھانہ صدر پولیس کے افسران واہلکار مسلسل جھوٹی طفل تسلیاں دے رہے ہیں، جبکہ پچھلے 4 روز سے صبح سے شام تک تھانہ صدر جہلم کے پولیس افسران و اہلکار مجھے انصاف فراہم کرنے میں عاری دکھائی دے رہے ہیں ۔ متاثرہ خاتون نے آئی جی پنجاب، آرپی او ،راولپنڈی،ڈی پی او جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ مجھے انصاف فراہم کیا جائے تاکہ میں اپنے بطن سے پیدا ہونے والے بچوں کی بہتر طریقے سے پرورش کر سکوں

مزید :

علاقائی -