کیا ایک ہی خواجہ سعد رفیق ہے؟

کیا ایک ہی خواجہ سعد رفیق ہے؟
کیا ایک ہی خواجہ سعد رفیق ہے؟

  

مَیں عمومی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ ناکامی کا لفظ نہیں جوڑتا، مگر دوستوں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت آئین کے آرٹیکل 25کے تحت اپنے بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی میں ناکام ہو چکی ہے، صرف پنجاب ہی کی کیوں بات کی جائے پورے مُلک میں اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، اس سے پہلے ہم میلینئم ڈویلپمنٹ گول تک پہنچنے میں بھی بری طرح ناکام ہو چکے، میں پھر کہوں گا کہ شہباز شریف کے ساتھ ناکامی کا لفظ نہیں جوڑتا کہ انہوں نے صرف سڑکوں، فلائی اووروں اور انڈر پاسز کی تعمیر میں ہی ثابت نہیں کیا کہ وہ جنوں کی طرح کام کرنا جانتے ہیں، بلکہ ایک بہت بڑے جن ڈینگی کو بھی قابو کیا ہے، جس پر بہت سارے ترقی یافتہ ممالک بہت ساری کوششوں کے باوجود قابو نہیں پا سکے۔ لاہور میں اس جن کو ان کے ایک بہت ہی پیارے افسر نے بوتل سے اپنی نااہلی کی وجہ سے نکلنے کا موقع دیا تھا مگر جب شہباز شریف خود کام کرنے پر آئے تو قدرت موسموں کی شدت کے ساتھ ان کی مدد پر اتر آئی ، بہرحا ل آج میر اموضوع سڑکیں اور ڈینگی نہیں، تعلیم کا شعبہ ہے۔

برادرم سید عامر محمود نے غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے مجھے ’’ تعلیم کا سفیر ‘‘ بنانے کی سند اور شیلڈ دی تو مجھے ذمہ داری کا احساس ہوا ۔ آپ کو ملنے والی عزت، مقبولیت اور کامیابی دراصل آپ کی ذمہ داریوں میں اضافہ کرتی ہے۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ حکومت پنجاب کے تعاون سے مظفر گڑھ جیسے پسماندہ علاقے میں سکول قائم کر رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ صرف ایک ضلع میں اڑھائی لاکھ کے قریب بچے سکول نہیں جاتے۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ نے وہاں پندرہ ہزار بچوں کو اپنے سکولوں میں لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اڑھائی لاکھ بچوں میں سے 15ہزار تو مجموعی تعداد کا 10فیصد بھی نہیں بنتے اور میں کہتا ہوں کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ ہماری تمام حکومتوں نے تعلیم کے شعبے میں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، مگر حیرت انگیز طور پرمنظور وٹو ہوں یا پرویز الٰہی یا اب شہباز شریف ہوں، ان تمام کی حکمت عملیوں کو عالمی اداروں نے ہمیشہ سراہا ہے۔ میاں منظور وٹو نے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کی منظوری دی، چودھری پرویزالٰہی نے’ پڑھا لکھا پنجاب ‘ اور شہباز شریف نے ’پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب‘ کے نعرے دئیے، مگر نتیجہ پھر وہی ڈھاک کے تین پات والا ہے۔ سید عامر محمود بتا رہے تھے کہ ہندووں کی اکثریتی آبادی میں رابطہ کرنے پر والدین ایک بہت ہی جائز سوال کرتے ہیں کہ اگر وہ اپنے بچوں کو سکول بھیج بھی دیں گے تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟انہوں نے بالآخر ڈھور ڈنگرہی چرانے اور محنت مزدوری ہی کرنی ہے، یہاں تو ایم اے پاس بھی جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں ، وہ صبح سویرے بچوں کو سکول بھیجنے کی فضول مشقت کیوں کریں۔ اب انہیں یہ سمجھانا آسان نہیں کہ تعلیم صرف روزگار کے لئے نہیں ہوتی۔ رانا لیاقت پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری ہیں ، ان کاکہنا ہے تعلیم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ غربت ہے۔ پہلے غربت کو قابو کریں ، والدین خود بخودبچوں کو تعلیم دلوائیں گے۔ اب یہ گھوڑے اور گاڑی والی بات ہو گئی، ہم سمجھتے ہیں کہ ایک پڑھا لکھا باشعور شخص زیادہ بہتر طریقے سے اپنا روزگار کما سکتا ہے اور دوسری طرف فلسفہ ہے کہ گھر میں دانے ہوں گے تو بچوں کو سکول بھیجا جا سکے گا۔ ویسے میری نظر میں تعلیم اور شعور کو آپس میں نہیں باندھا جا سکتا، میں نے بہت سارے ان پڑھوں کو بہت زیادہ باشعور ، ہوشیار اور کائیاں دیکھا ہے اور بہت سارے پڑھے لکھوں کو جھکیں مارتے بھی مگر میں اسے تعلیم کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال نہیں کرسکتا۔

بات تعلیم کی ہے تو وہ ہر بچے کا حق ہے اور جہاں تک وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ناکام ہونے کی بات ہے تو میں محض اس وجہ سے انہیں ناکام نہیں مانتا کہ وہ اب صوبے کے پانچ ہزار سکولوں کو پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کی طرز پر نجی اداروں اور تنظیموں کو چلانے کے لئے دے رہے ہیں، ہاں، اب تک کی حکومتیں تمام بچوں کو تعلیم دینے میں ضرور ناکام ہوئی ہیں، مگر سرکاری سکولوں کو پبلک سپورٹ پروگرام میں دئیے جانے کو ناکامی کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا، ہاں، یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب حکومت تعلیمی اداروں کی ایڈمنسٹریشن بہتر بنانے میں ناکام ہوئی ہے۔ اسے ایک خواندہ پنجاب کی طرف بڑھنے کے لئے ایک حکمت عملی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔ پنجاب میں باون سے تریپن ہزار سرکاری سکول ہیں اور ایک غیر اعلان شدہ پالیسی کے تحت مزید نئے سرکاری سکول قائم نہیں کئے جا رہے۔ مختلف اعداد وشمار کے مطابق حکومتِ پنجاب سرکاری سکولوں میں جانے والے ہر بچے پر 1400 سے2100ر وپے ماہانہ خرچ کرتی ہے، مگراس کے باوجود بہت سارے سکولوں کا نتیجہ زیرو ہوتا ہے۔ سرکاری سکول قائم نہ کرتے ہوئے اب پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے فارمولے کو اپنایا جا رہا ہے جہاں مختلف اداروں، تنظیموں اور افراد کو کم کارکردگی کے حامل سکول دئیے جا رہے ہیں۔ اس سے ایک تو نجی کاروبار میں اضافہ ہو گا اور دوسرے حکومت انہیں ایک بچے کی فیس کے لئے صرف 550روپے ادا کرے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ انتظامی اخراجات کو شامل کرتے ہوئے ادائیگی800 روپے ماہانہ تک ہو گی۔ مجھے یہ ماڈل قابل قبول لگا ہے، مگر رانا لیاقت کا کہنا ہے کہ حکومت جو سکول فاؤنڈیشن کے فارمولے پر لے جا نا چاہ رہی ہے وہ ایک سے دو کمروں پر مشتمل ہیں، وہاں بنیادی سہولتیں تو ایک طرف رہیں، بہت سارے سکولوں میں صرف ایک ٹیچر ہے۔ اب پرائیویٹ سکولوں والے وہاں ٹیچر بھرتی کریں گے تو یہ کام حکومت خود بھی کر سکتی ہے۔ انہوں نے فارمولہ دیا کہ پرائیویٹ تنظیموں کی بجائے بلدیاتی اداروں کے چیئرمینوں کو ٹاسک دیا جائے تو یہ بہتر ہو گا۔ نشاندہی ہوئی کہ بہت سارے سرکاری سکول اس وجہ سے بھی ناکام ہوئے کہ ان کے قریب ہی پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سکول قائم کر دئیے گئے۔ دلچسپ امریہ بھی ہے کہ بیکن ہاوس اور لاہور گرامر سکول جیسی قابل اعتماد سکول سسٹمز نے سرکاری سکول لینے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ان سرکاری سکولوں کو چلانے کے لئے مخیر حضرات سے رجوع کرنا ہو گا اور یہ ان کی پالیسی نہیں ہے۔ رانا لیاقت سوال کرتے ہیں کہ کل کلاں اگر ان سکولوں نے فیس ڈبل کرنے کے لئے ہڑتال کردی تو پھر حکومت ان بچوں کو کہاں بھیجے گی۔ اس سے پہلے بھی سینکڑوں کی تعداد میں سکول ایک غیر سرکاری تنظیم کئیر چلا رہی ہے،ان کے مطابق ان سکولوں کے نتائج بہتر نہیں، بہرحال کئیر والے چاہیں تو اس بارے بتا سکتے ہیں۔اس سے پہلے ایک کمیونٹی پارٹی سی پیشن پراجیکٹ یعنی سی پی پی بھی شروع کیا گیا تھا، وہ کہاں گیا۔ اس کو کیوں نہیں چلایا جا رہا۔ بہت سارے لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومت پنجاب کا اپنے10 فیصدسکول اس طرح دینے کا فیصلہ بھی ایک فراڈ ہی ثابت ہو گا۔

غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ سمیت بہت سارے اداروں اور تنظیموں نے کاروبار سے کہیں زیادہ قومی خدمت سمجھتے ہوئے سرکاری سکول لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ برادرم سید عامر محمود بتا رہے تھے ان کی تنظیم 35اضلاع میں 634سکول چلا رہی ہے، ان کے پاس 70ہزار سے زائد طالب علم اور 3ہزار ٹیچرز ہیں ، ان 70ہزار میں سے 42ہزار سے بھی زیادہ یتیم اور مستحق طالب علم ہیں۔ جب میں کسی سرکاری ادارے میں انتظامی اقدامات کو ناکام دیکھتا ہوں اور اسے پرائیویٹائز کرنے کی تجاویز سنتا ہوں تو مجھے خواجہ سعد رفیق یاد آجاتے ہیں۔ آپ ان کی ذات، سیاست اور شخصیت سے اختلاف کرسکتے ہیں ،مگر انہوں نے جس طرح ریلوے کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنا شروع کیا ہے پوری قوم کو یقین آ گیا ہے کہ اگر ریلوے کا مردہ زندہ ہو سکتا ، حرکت کر سکتا ہے تو پھر کسی بھی مردے کو آبِ حیات پلا یا جا سکتا ہے۔ رانا مشہود احمد خان، خواجہ سعد رفیق کے قریبی ساتھی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ ان کی طرح ، ان کی مشاورت سے، کام کر کے دکھا سکتے ہیں اگر وہ اپنے اوپر سے وزارتوں کا بوجھ کم کر لیں۔ پنجاب میں تعلیم کا شعبہ ضرور ناکام ہوا ہو گا، مگر وہ اتنا ناکام نہیں جتنا کہ ریلویز تھا۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں تعلیم کے معاملات یقینی طورپر دماغ کی دہی بنادینے والے ہیں۔ ابھی کچھ ہی روز پہلے خواجہ سعد رفیق کو پی آئی اے دینے کی بھی بات کی جا رہی تھی کہ اسے بھی پاکستان ریلویز کی طرح بہتری اور کامیابی کے راستے پر گامزن کر دیں ۔سوچنا یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس ایک ہی خواجہ سعد رفیق ہے ؟

مزید :

کالم -