تحفظ نسواں ایکٹ خاندانی نظام کو تباہ کرنے کا قانون ،ختم کرانے کیلئے جدوجہد کی جائیگی:تحفظ اسلام کنونشن

تحفظ نسواں ایکٹ خاندانی نظام کو تباہ کرنے کا قانون ،ختم کرانے کیلئے جدوجہد ...

  

لاہور( این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (س) کے زیر اہتمام کل جماعتی اجلاس اور تحفظ اسلام کنونشن کے مشترکہ اعلامیے میں تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کو پنجاب حکومت کی طرف سے خاندانی نظام کو تباہ کرنے کا قانون قرار دیتے ہوئے فوری ختم کرانے کاعزم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خواتین کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق دلانے کیلئے آواز بلند کرنے اورملک وقوم کے اجتماعی مفاد کیخلاف حکومتی اقدامات کا راستہ روکنے اور اس کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنے کیلئے مستقل پلیٹ فارم کی اشد ضر ورت ہے ۔ جے یو آئی ( س) کے امیرمولانا سمیع الحق کی سربراہی میں کل جماعتی مشتاورتی اجلاس اور بعد ازاں کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ،،جماعتہ الدعوۃ کے حافظ محمدسعید،قاری محمدیعقوب شیخ ،مسلم کانفرنس کے سربراہ سردارعتیق احمد خان،اہل سنت والجماعت کے مولانامحمداحمدلدھیانوی،ہادیۃ الھادی کے سربراہ پیر ہارون گیلانی،اتحادالعلماء کے سربراہ مولاناعبدالمالک خان،نوجوان اسلام کے عبداللہ گل،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانااللہ وسایا،جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے مولانامحمدطاہربنوری،مولانامحمدزبیرالبازی،مسلم لیگ (ق) کے میاں محمدمنیر،مرکزی جمعیت اہل حدیث کے حافظ عبدالکریم ،پاکستان شریعت کونسل کے مولانا زاہدالراشدی،جماعت اہل حدیث کے حافظ ابتسام الٰہی ظہیر،جمعیت علماء پاکستان نوارنی کے محمدخان لغاری سمیت مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے علماء کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔اجلاس میں ممتاز قادری کو سزائے موت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ،پنجاب اسمبلی سے حقوق نسواں بل کی منظوری ،مذہبی رہنماؤں ،علماء خطباء ،آئمہ مساجد کیخلاف مقدمات کے اندراج سمیت ملک کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اجلاس اور کنونشن کے مشترکہ اعلامیے میں ممتاز حسین قادری کو سزائے موت دینے کے حکومتی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ نماز جنازے کی کوریج کو روکنے کا حکم دینے پر پیمر اکے چیئرمین کو برطرف کیا جائے ۔پنجاب حکومت کا حقوق نسواں ایکٹ خاندانی نظام کو تباہ کرنے ،خاوند بیوی کے درمیان تصادم کی فضاء پیدا کرنے اور فحاشی و عریانی کو فروغ دینے والاقانون ہے اسے فوری ختم کیا جائے ۔اعلامیے میں عافیہ صدیقی جیسی اسلام کی بیٹی کو نظرانداز کرنے پر بھی حکومت پر کڑی تنقید کی گئی اوررہائی کے لئے آواز بلند کرنے کا عزم کیا گیا ۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ کل جماعتی اجلاس میں شریک مذہبی اورسیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک رابطہ کمیٹی قائم کی گئی جو تمام معاملات پر لائحہ عمل کے لئے سفارشات تجویز کرے گی۔یہ کمیٹی فوری طور پر اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے گی اور ان پر غور وفیصلہ کے لئے قائدین کا اجلاس بہت جلد اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ عدلیہ سمیت کوئی ادارہ خود مختار اور آزاد نہیں ہے پھر بھی اعلیٰ عدلیہ سے انصاف اور قانون کی عملداری کے لئے امید رکھی جاسکتی ہے۔ لہٰذا ان سارے معاملات میں عدالت عالیہ سے رجوع کیا جائے گا اور درخواست کی جائے گی کہ آئین پاکستان کی رو کے مطابق قرآن وسنت کی روشنی میں حکومت کو قانون سازی کا پابند بنایا جائے ۔قبل ازیں خطاب کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق نے کہا کہ امریکہ کی قیادت میں عالمی ابلیسی قوتوں نے عالم اسلام بالخصوص اسلامی نظریے پر معرض وجود میں آنے والے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف بدترین منصوبہ بندی کررکھی ہے اور ہمارے ملک کے کمزور حکمرانوں پر دباؤکے ذریعے اپنا ایجنڈا مسلط کررکھا ہے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی طرف سے پاکستان کا لبرل پاکستان کے لئے عزم کا اظہار آئین پاکستان سے بغاوت کے مترادف ہے لیکن یہ ہمارے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔

مزید :

علاقائی -