دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام جماعتوں کو مل کر کام کر نا ہو گا:بلاول بھٹو

دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام جماعتوں کو مل کر کام کر نا ہو گا:بلاول بھٹو

  

اسلام آباد(اے این این) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں وسیع تر سیاسی اتحاد کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے پیپلز پارٹی،مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف متحدہ ہو جائیں تو کیا نہیں ہو سکتا؟،ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا کسی اکیلی سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں ،دہشتگری کے خاتمے کے لئے تمام جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا،سب کو الیکشن جیتنے اور حکمرانی کرنے کی سوچ سے آگے نکلنا ہوگا ،نیب کو چھوڑیں اس پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں ایشیا کی سیاسی جماعتوں کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بلاول بھٹو نے اس وقت ملک کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لئے قومی اتحاد اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ان چیلنجزسے نمٹنا کسی اکیلی سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ اس کے لئے اتحاد کی اشد ضرورت ہے، سیاسی جماعتیں متحد ہو کرہی دہشت گردی سے نمٹ سکتی ہیں۔انھوں نے ملک میں وسیع تر سیاسی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف اکٹھی ہو جائیں تو کیا نہیں کر سکتیں ۔ہم سب کو الیکشن جیتنے اور پھر حکمرانی کرنے کی سوچ سے آگے نکل کر ملک کے لئے سوچنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ اکیسویں صدی میں انسانی غلامی کے برابر ہے جہاں اس کے خاتمے کے لیے دنیا کی تمام قوموں کو یکسوئی سے کام کرنا ہوگا۔خطاب کے بعد بلاول بھٹو سے صحافی کی جانب سے نیب کے حوالے سوال پوچھا گیا کہ نیب کے پرکاٹے جارہے ہیں اس پروہ کیا کہنا چاہتے ہیں جس پرانہوں نے جواب دیا کہ نیب کو چھوڑیں اس پر کیا بات کرنی ہے۔میں نیب کے معاملے پر کوئی بات نہیں کروں گا۔بلاول بھٹو نے مزید کہا انسانیت کو نئی عالمی حقائق اور چیلنجوں کا سامنا ہے اور کسی بھی ایک ریاست یا سیاسی پارٹی میں یہ استعداد نہیں کہ وہ ان سے نمٹ سکے اس لئے سب کو مشترکہ طور پر مل کر ان چیلنجوں سے نمٹنے کی کوششیں کرنی پڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ انسانیت کے ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے اور اس ظلم کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اکیسویں صدی میں یہ غلامی کی ایک شکل ہے اور اس کو ہر صورت میں مسترد کرنا چاہیے، اس کی مذمت کرنی چاہیے اور اس کو ختم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت پر اس دھبے کو تمام اقوام کی مشترکہ کوششوں ہی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس ورکشاپ کا اسلام آباد میں انعقاد پاکستان کی چار سیاسی پارٹیوں پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان مسلم لیگ(ن)، پاکستان مسلم لیگ(ق) اور پاکستان تحریک انصاف نے مل کر کیا تھا۔ جس سے یہ امید بندھی ہے کہ انسانیت کو درپیش مسائل سے ہم مشترکہ طور پر نمٹ سکتے ہیں۔ انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز دنیا کے پچاس ممالک کی 300 سے زیادہ سیاسی پارٹیوں پر مشتمل تنظیم ہے۔ دو روزہ ورکشاپ کے بعد اس تنظیم کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف کوششیں جاری رہیں گی۔ ورکشاپ میں ایک عملی منصوبہ بھی ترتیب دیا گیا جس میں عوام کو اس مسئلے سے آگاہ کرنا، ممالک کے درمیان سرحدوں پر تعاون بڑھانا اور انسانی اسمگلنگ کے کیسوں کے مقدمات کے فیصلے جلد کرنے کا نظام قائم کرنا ہے۔پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس دور روزہ ورکشاپ میں افغانستان، آذربائیجان، بنگلہ دیش، بھوٹان، کمبوڈیا، سری لنکا، ملائشیا، میانمار، فلسطین اور پاکستان کے علاوہ دیگر متعدد ممالک کی سیاسی پارٹیوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے شرکت کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز سے خاص لگاؤ ہے کیونکہ ان کی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو اس تنظیم کے بانیوں میں شامل تھیں۔

مزید :

صفحہ اول -