واشنگٹن اور وائیومنگ میں شکست کے باوجود ٹرمپ کی برتری برقرار

واشنگٹن اور وائیومنگ میں شکست کے باوجود ٹرمپ کی برتری برقرار

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) ری پبلکن پارٹی کی صدارتی ٹکٹ کے حصول کیلئے جاری انتخابات میں واشنگٹن ڈی سی اور وائیومنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس کی قومی سطح پر اجتماعی برتری بدستور برقرار رہی۔ ادھر نارتھ ماریاز میں ڈیمو کریٹک کاکسنر میں ہیلری کلنٹن نے مزید چار مندوب حاصل کرکے اپنی برتری قائم رکھی، جہاں سے سینیٹر سینڈرس کو صرف دو مندوب حاصل ہوئے۔ری پبلکن پارٹی کے تیسرے نمبر پر رہنے والے سینیٹر مارکو روبیو نے واشنگٹن ڈی سی میں کل 19 میں سے دس مندوب حاصل کرلئے اور بہت پیچھے رہ جانے والے جان کیسک نے ڈرامائی طور پر باقی نو مندوب جیت لئے۔ قومی سطح پر اول اور دوم رہنے والے ڈونلڈ ٹرمپ اور سینیٹر ٹیڈکروز یہاں سے کوئی مندوب حاصل نہیں کرسکے۔ تاہم سینیٹر ٹیڈکروز نے وائیومنگ کی ریاست میں ری پبلکن پارٹی کے کنویشنز میں کاسٹ ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے نومندوب حاصل کرلئے جبکہ سینیٹر مارکو روبیو اور ڈونلڈ ٹرمپ کو یہاں سے صرف ایک ایک مندوب ملا۔ نارتھ ماریاناز میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے کاکسنر میں ہیلری کلنٹن کو 4 اور سینیٹر برنی سینڈرس کو 2 مندوب ملے۔ ہفتے کے روز گوام میں بھی ری پبلکن پارٹی کے کنوینشنز ہوئے جہاں سے کل ایسے نو مندوب منتخب ہوئے ہیں جو فی الحال کسی امیدوار کے پابند نہیں ہیں۔مشکل کے روز پانچ بڑی ریاستوں کے اہم پرائمری انتخابات ہونے جا رہے ہیں جس سے قبل ہفتے کے روز والے انتخابات کے بعد امیدواروں کی جو صورت حال ہے، اس میں اجتماعی طور پر بدستور ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن پارٹی اور ہیلری کلنٹن ڈیمو کریٹک پارٹی میں پہلے نمبر پر ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس کل 460 مندوب ہوچکے ہیں جبکہ انہیں صدارتی ٹکٹ جیتنے کیلئے 1237 مندوب درکار ہیں۔ ٹیڈ کروز کے کل مندوب کی تعداد 370 ہے۔ 163 مندوب کے ساتھ مارکو روبیو تیسرے اور 63 مندوب کے ساتھ جان کیسک چوتھے نمبر پر ہیں۔ ہیلری کلنٹن کے مجموعی مندوب کی تعداد اب 1231 ہوچکی ہے جبکہ سینیٹر برنی سینڈرس کو کل 576 مندوب مل چکے ہیں۔ کم از کم 2383 مندوب حاصل کرنے ہوں گے۔

مزید :

صفحہ اول -