ایران میں اصلاح پسندوں اور انقلابیوں میں اختلافات کی خلیج وسیع تر ہو گئی

ایران میں اصلاح پسندوں اور انقلابیوں میں اختلافات کی خلیج وسیع تر ہو گئی

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

فروری کے پارلیمانی انتخابات کے بعد ایران میں سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی کے حامیوں کے درمیان الفاظ کی جنگ تیز ہوگئی ہے ایرانی پارلیمنٹ میں تہران کی تمام نشستیں صدر روحانی کے حامی اصلاح پسندوں نے جیت لی ہیں، باقی ملک میں بھی ان کے حامیوں کی بڑی تعداد کامیاب ہوئی ہے، تاہم پارلیمنٹ میں علی خامنہ ای کے حامیوں کی بھی ایک بڑی تعداد کامیاب ہوئی ہے، 88رکنی مجلس خبرگان رہبری نے سید علی خامنہ ای کی جگہ نیا سپریم لیڈر منتخب کرنا ہے یہ عہدہ پر کرنے کے لئے علی اکبر ہاشمی رفسنجانی امیدوار ہیں، ابھی تک اگرچہ اس کا وقت نہیں اور سید علی خامنہ ای اپنے عہدے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے مجلس خبرگان رہبری کے نومنتخب ارکان سے اپیل کی ہے کہ وہ سپریم لیڈر کے عہدے کے لئے کسی ایسی شخصیت کو منتخب کریں جو انقلاب کی حامی ہو، خود سید علی خامنہ ای کا تعلق بھی ان انقلابیوں سے ہے جو شاہ کا تختہ الٹنے کی جدوجہد میں پیش پیش تھے امام خمینی کے انتقال کے بعد انہیں ان کا جانشین منتخب کیا گیا تھا، ایران میں حکومت نظریہ ولایت فقیہ کے تحت چلائی جاتی ہے، امام خمینی نے اس عنوان کی ایک کتاب بھی لکھی ہے جو حکومت کے لئے رہنما کتاب کا درجہ رکھتی ہے، سابق صدر محمود احمدی نژاد کا تعلق بھی سید علی خامنہ ای کے متشدد حامیوں میں ہوتا ہے، انہوں نے موجودہ صدر حسن روحانی کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا ہے احمدی نژاد نے امریکہ اور مغربی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے، عالمی پابندیوں کے خاتمے اور اس کے نتیجے میں ایرانی عوام کو خوشحالی کے خواب دکھانے پر نکتہ چینی کی ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کی خوشحالی کے لئے جو وعدے کئے تھے وہ درست ثابت نہیں ہوئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ روحانی حکومت بری طرح ناکام ہوئی ہے ۔

صدرروحانی اپنی پالیسیوں کا کھل کر دفاع کررہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ مغربی ملکوں کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل اور تعلقات کی بہتری کا راستہ بہت اچھا ہے اور ان کے ’’انقلابی مخالفین‘‘ عوام کے مفاد کی بجائے اپنے مفاد کو پیش نظر رکھ رہے ہیں، وہ بظاہر محموداحمدی نژاد کے خیالات کا جواب دے رہے تھے محمود احمدی نژاد اور صدر حسن روحانی کے خیالات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران میں اصلاح پسندوں اور انقلابیوں کے درمیان اختلافات کی خلیج وسیع ہورہی ہے حالیہ ہفتوں میں سید علی خامنہ ای نے متعدد بار خود کو بڑے فخریہ انداز میں انقلابی کہا ہے اور ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ ان کا جانشین بھی کوئی انقلابی ہو۔ صدر روحانی کی ایک تقریر سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی جس میں انہوں نے کہا’’ یہ کہنے کا کیا فائدہ ہے کہ میں انقلابی ہوں ؟ اس کے بجائے ہم لوگوں کے آرام و آسائش اور اپنے ملک کی عظمت وشکوہ کے متلاشی کیوں نہیں ہوتے‘‘۔صدرروحانی ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد اس امر کے لئے کوشاں ہیں کہ ایران میں کاروبار پھلے پھولے، اور پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت کو جو نقصان ہوا ، اس کی تلافی ہوسکے،وہ مغربی سرمایہ کاروں کی بھی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ 26فروری کو جوپارلیمانی انتخابات ہوئے ہیں ان میں اصلاح پسندوں کی معقول تعداد کے منتخب ہونے کا مطلب ان کی پالیسیوں پر اظہار اعتماد ہے یہ ایک لحاظ سے ان پر اعتماد کے تازہ ووٹ کے مترادف ہے۔ ویسے تو امام خمینی کے انقلاب کے بعد جو حکومتیں بھی برسراقتدار رہیں اور جو رہنما بھی صدر یا وزیراعظم کے عہدے پر متمکن رہے (اب ایران میں وزیراعظم کا عہدہ ختم کردیا گیا ) وہ سب انقلاب اور اس کے مقاصد کے حامی تھے تاہم محمد خاتمی جیسے صدور کو اصلاح پسندی کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ محمد خاتمی کے دورمیں بعض ایسے اقدامات کئے گئے جس کے ذریعے بعض پابندیاں نرم کردی گئیں۔ پردے کی جتنی سختی ان سے پہلے تھی اس میں یہ ترمیم کردی گئی کہ سرکاری عمارات سکولوں، کالجوں ، دفاتر وغیرہ میں تو پابندی سخت رہی، مزارات پر حاضری کے لئے بھی پردہ لازمی رہا تاہم کچھ پابندیاں نرم ضرور کردی گئیں، بڑی چادرکی جگہ لمبے اوورکوٹ کو بھی پردے کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ صدر حسن روحانی بھی انقلاب کے مقاصد سے متفق ہیں تاہم اس وقت ’’انقلابی‘‘ کی اصطلاح ان سخت گیرعناصر کے لئے استعمال ہوتی ہے جو اصلاح پسندوں اور اعتدال پسندوں کے سیاسی مخالف ہیں۔

ایرانی جمہوریت میں صدر کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹ سے ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کے ارکان بھی وہی منتخب کرتے ہیں لیکن پارلیمنٹ میں سیاسی جماعتوں کی نمائندگی نہیں ہوتی، آزاد ارکان ہی منتخب ہوتے ہیں۔ ایران میں ’’انقلابیوں‘‘ کے حامی اخبارات صدر روحانی کی پالیسیوں کے زبردست ناقد ہیں اور صدر انہیں ’’توہین آمیز بلیٹن ‘‘ قرار دیتے ہیں ان کا خیال ہے کہ آپ یہ اخبار اس لئے کھولتے ہیں کہ دیکھیں آج انہوں نے کس تازہ توہین کا ارتکاب کیا ہے۔ صدر روحانی کا کہنا ہے کہ انقلاب اس لئے آیا تھا کہ اخلاقیات کو مضبوظ بنایا جائے گا ملکی اتحاد اور بھائی چارے کو مضبوط کیا جائے گا ۔ آپ انقلابی اس وقت ہیں جب لوگ آپ سے خوش اور محفوظ ہوں ‘‘۔

مزید :

تجزیہ -