ناموس رسالتؐ کے قانون کا خاتمہ یا تبدیلی ممکن نہیں ، طاہر محمود اشرفی

ناموس رسالتؐ کے قانون کا خاتمہ یا تبدیلی ممکن نہیں ، طاہر محمود اشرفی

  

لاہور( نمائندہ خصوصی)خواتین پر تشدد اسلام میں حرام ہے ۔تحفظ حقوق نسواں بل کو مکمل غیر شرعی نہیں کہا جا سکتا، بعض شقوں پر تحفظات ہیں جن کی اصلاح کیلئے حکومت نے آمادگی ظاہر کی ہے اور کمیٹی قائم کر دی ہے ۔ناموس رسالتؐ کے قانون کا خاتمہ یا تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے۔ انتہاء پسندی ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کیلئے اسلام اور وطن دوست قوتوں کو متحدہونا ہو گا۔سعودی عرب کی طرف سے عالمی عسکری اسلامی اتحاد کے قیام کیلئے کوششیں قابل تحسین ہیں۔ پاکستان علماء کونسل کے تحت ملک بھر میں مئی اور جون میں مدارس عربیہ کے اساتذہ ، طلباء اور آئمہ مساجد کیلئے عصر حاضر کے مسائل پر تربیتی اور معلوماتی نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا۔پاکستان علماء کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کااجلاس اور علماء کنونشن 27مارچ کو فیصل آباد میں ہوگا ۔ یہ بات پاکستان علماء کونسل لاہور کے زیر اہتمام دارالعلوم حنفیہ لبرٹی مارکیٹ لاہور میں ہونے والے علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہی۔ کنونشن کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ناموس رسالت ؐ کے قانون کی پاکستانی قوم خود محافظ ہے۔ناموس رسالت ؐ کے قانون کو نہ ختم کیا جا سکتا ہے ، نہ تبدیل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان کو لادین ریاست بنا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام میں عورتوں پر تشدد حرام ہے اور کوئی بھی گروہ ، جماعت یا فرد عورتوں پر تشدد کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔ عورتوں پر تشدد کے خاتمے کے بل کے ساتھ جہیز کی رسم کے خاتمے اور بچیوں کی تعلیم کو لازمی قرار دینے سے متعلق بھی حکومت کو قوانین لانے چاہئیں۔ پاکستان علماء کونسل کے مرکزی وائس چیئرمین مولانا محمد ایوب صفدر نے کہا کہ پاکستان سمیت عالم اسلام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔پاکستان علماء کونسل کے مرکزی فنانس سیکرٹری مولانا اسد اللہ فاروق ،پاکستان علماء کونسل لاہور کے صدر مولانا محمد مشتاق لاہوری نے بھی خطاب کیا۔اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے پاکستان علماء کونسل اسلام آباد کے صدر مولانا عبد الحمید صابری پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان علماء کونسل کے ذمہ داران کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور مولانا عبد الحمید صابری پر حملہ کرنے والے مجرمین کو گرفتار کیا جائے۔

طاہر محمود اشرفی

مزید :

صفحہ آخر -