بیرونی قوتوں کی پاکستان کو سیکولر اور لبرل بنانے کی سازش کامیاب نہیں ہو گی: حافظ سعید

بیرونی قوتوں کی پاکستان کو سیکولر اور لبرل بنانے کی سازش کامیاب نہیں ہو گی: ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بیرونی قوتیں پاکستان کو سیکولر اور لبرل بنانا چاہتی ہیں۔ ان کا سب سے بڑا ہدف طلباء اور تعلیمی ادارے ہیں۔اس مقصد کے لئے نظریہ پاکستان کو نوجوان نسل کے ذہنوں سے نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ اس یلغار کا مقابلہ طلبا سے بڑھ کر کوئی نہیں کر سکتا ۔نوجوان طلبا کو وطن عزیز کے نظریاتی دفاع کے لئے بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے صفہ ایجوکیشن سنٹر لاہور میں المحمدیہ سٹوڈنٹس کے زیر اہتمام یونیورسٹیز اور کالجز کے طلبا کے لئے دو روزہ یونائٹ اینڈ ڈیفنڈپاکستان ( Pakistan Unite and Defend) ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعۃالدعوۃ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، ڈائریکٹر فیل (FEEL)اور نامور تعلیمی ماہر انجینئر نوید قمر، المحمدیہ سٹوڈنٹس پاکستان کے مسؤل محمد راشدریسکیو ٹرینر انجینئر محمد حارث ،سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عبدالرحمن ،دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر ابو وقاص اور دیگر تعلیمی و سماجی ماہرین نے بھی خطاب کیا۔ ورکشاپ میں لاہور،فیصل آبادگوجرانوالہ،کراچی ،حیدر آباد، پشاور، ملتان، اسلام آباد،بہاولپور،مردان اور ملک بھر کی دیگر یونیورسٹیز اور کالجزکے طلبا کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعیدنے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست ہے۔ہمیں مدینہ کی طرز پرہی اس ملک کو چلانا ہو گا اسی صورت میں پاکستان کی فلاح ممکن ہے۔اسی کلمہ طیبہ کی بنیاد پر ہی نوجوان طلبا کی درست خطوط میں تربیت کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بیرونی قوتوں نے اس وقت مسلمانوں پر ایک جنگ مسلط کر رکھی ہے۔میدانوں میں انہیں شکست کا سامنا ہے جس پر انہوں نے تعلیمی اداروں کو خاص طور پر اپنا نشانہ بنا رکھا ہے۔ ہم نے ان شاء اللہ وہ نسل تیار کرنی ہے جو اسلام اور پاکستان کی صحیح معنوں میں محافظ ہو۔ دشمن ہماری نوجوان نسل کے ذہنوں سے نظریہ پاکستان ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ مشرقی پاکستان کی طرح باقی ماندہ پاکستان کو بھی نقصانات سے دوچار کیا جائے لیکن یہ سازشیں ان شاء اللہ کامیاب نہیں ہوں گی۔ جماعۃالدعوۃ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ پاکستان کو اللہ نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے ۔یہ ملک اسلام کی بنیاد پر بنا ہے اورامت مسلمہ کی قیادت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان طلبا کو مایوسی کی دلدل میں دھکیلنے کی بجائے ان کو صلاحیتوں کا مثبت استعمال سکھایا جائے ۔یہی طلبا یقیناًملک کا سرمایہ ہیں ۔ ڈائریکٹر فیل (FEEL)اور نامور تعلیمی ماہر انجینئر نوید قمرنے کہا کہ موجودہ نظام تعلیم میں اصلاح کی ضرورت ہے۔یہ ہماری ضروریات پوری کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ہمیں اپنی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیمی نظام پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ملکی شہرت یافتہ ریسکیو ٹرینر انجینئر محمد حارث نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر طلبا کے لئے سول ڈیفنس اور ریسکیو کی تربیت حاصل کرنے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ طلبا شہری دفاع اور ابتدائی طبی امداد کے ذریعے نہ صرف بہت سی قیمتی جانیں بچا سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں ایک مفید کردار کے طور پر سامنے آئیں گے۔سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اس وقت ایک باقاعدہ ہتھیار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔سوشل میڈیا کی صور ت میں نظریاتی تخریب کاری کے ذریعے طلبا کے ذہن سے اسلام اور نظریہ پاکستان کو کھرچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ضروراس امر کی ہے کہ طلبا اس محاذ پر بھی پاکستان کے دفاع میں اپنا کردار ادا کریں۔ دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر ابو وقاص نے طلبا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک چائنہ معاشی راہداری ایک گیم چینجر منصوبہ ہے۔اس کی تکمیل کی صورت میں پاکستان میں نہ صرف معاشی خوشحالی آئے گی بلکہ پاکستان کی اہمیت میں مزید اضافہ بھی ہو گا۔المحمدیہ سٹوڈنٹس پاکستان کے مسؤل محمد راشد نے ورکشاپ سے اختتامی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن قوتوں کا ہدف اعلی تعلیمی اداروں کے طلبا ہیں ۔اس لئے ان طلبا کی فکری و ذہنی تربیت ازحد ضروری ہے۔المحمدیہ سٹوڈنٹس وطن عزیز کے طلبا کو اس موقع پر نظریہ پاکستان کے دفاع کے لئے تیار کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

مزید :

صفحہ آخر -