فوائد کا رخ موڑ کر چائنہ پاک کاریڈور کو متنازعہ بنایا گیا :پروفیسر عالم محسود

فوائد کا رخ موڑ کر چائنہ پاک کاریڈور کو متنازعہ بنایا گیا :پروفیسر عالم محسود

  

پشاور(عمران رشید )پختونخوا اولسی تحریک کے رہنما ڈاکٹر سید عالم محسود نے کہا ہے کہ چائنہ پاکستان اقتصادی کاریڈور قسمت بدلنے والا منصوبہ ہے پاکستان میں کوئی بھی شہری اس عظیم منصوبے کا مخالف نہیں چین نے گوادر تک پہنچنے اور اپنے مغربی حصے کی پسماندگی ،احساس محرومی اور دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے پاکستان کے اشتراک سے یہ منصوبہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیش کیا سابق صدر آصف زرداری کے دور میں کاریڈور کیلئے مغربی روٹ کے نقشے پر اصولاً اتفاق ہوا ،نواز شریف کی حکومت نے اس منصوبے کو لاہور کی طرف موڑ کر تنگ نظری کا ثبوت ہے اور اس طرح اس منصوبے کو متنازعہ بنا دیا گیا ان خیالات کا اظہار پختونخوا اولسی تحریک کے سینئر رہنما ء پروفیسر ڈاکٹر عالم محسود نے روزنامہ پاکستان کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہم چائنہ پاکستان اقتصادی کاریڈور کی حمایت کرتے ہیں لیکن چائنہ پنجاب کاریڈور کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے، 28مئی کووزیراعظم کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں روٹ کیلئے جن شہروں کے نام لیے گئے تھے ان میں مغربی روٹ پر برہان، فتح جنگ ،میانوالی ،ڈیرہ اسماعیل خان ،ژوب ،قلع سیف اللہ اور کوئٹہ شامل تھے یہ روٹ فوجی لحاظ سے مکمل طور پر محفوظ ہے جبکہ موسم سرما،موسم گرما،دھند اور سیلاب وغیرہ سے بھی محفوظ اور وسطی ایشیاء سے قریب تر ہے ،اے پی سی میں ان ہی نکات پر اتفاق ہوا تھاجبکہ مغربی روٹ کی تعمیر پہلے مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن اس کے برعکس پلاننگ کمیشن کے نقشے میں مشرقی روٹ پر واقع اسلام آباد،لاہور ،ملتان،سکھر ،حیدر آباد ،کراچی کوسٹل ہائی وے کے راستے گوادر سے ملایا جارہا ہے اور منصوبے کی مراعات پنجاب کوہی دی جارہی ہیں جو کہ اے پی سی میں کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی اور قوم سے وعدہ خلافی ہے جس پر وفاقی حکومت قوم سے معافی مانگے ،گوادر پر سب سے زیادہ حق بلوچستان کا ہے گوادر ہی کی وجہ سے یہ منصوبہ قسمت بدلنے والا منصوبہ کہلاتا ہے پنجاب کا اس پر کیا حق بنتا ہے منصوبے کے حقداربلوچستان کے عوام ہیں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اپنی تنگ نظری کی وجہ سے عوام میں اپنا اعتماد کھو چکے ہیں ،پاکستان پلاننگ کمیشن ابھی تک دو سو ارب روپے سے زیادہ کے منصوبے کا تجربہ نہیں رکھتا اس کو 15000ارب روپے کے منصوبے کیسے حوالے کئے جاسکتے ہیں ڈاکٹر سیدعالم محسود نے کہا کہ پختونخوا اولسی تحریک 12اپریل 2014میں شروع کی گئی ،ہماری تحریک کا مقصد مسائل کو اجاگر کرنا اور قومی وسائل سے متعلق عوام کو آگاہ کرنا ہے ہم پر امن جدوجہد کے قائل ہیں اولسی تحریک کیلئے حکومت یا کسی این جی او کا سہارا نہیں لیتے بلکہ چندہ جمع کرکے اپنے امور نمٹاتے ہیں اپنی مدد آپ کے تحت سادگی سے تمام پروگرامات ترتیب دیئے جاتے ہیں پروفیسر ڈاکٹر سید عالم محسود نے کہا کہ اولسی تحریک کا کوئی فیصلہ انفرادی طور پر نہیں ہوتاتمام معاملات پر مشاورت کے بعد اجتماعی فیصلہ کیا جاتا ہے اقتصادی راہداری کے حوالے سے حکومت نے ہمارا ساتھ نہ دیا تو مجبوراً ملکی و بین الاقوامی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -