چینی فوج کی پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے تعیناتی ، بھارت پریشان

چینی فوج کی پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے تعیناتی ، بھارت پریشان
چینی فوج کی پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے تعیناتی ، بھارت پریشان

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی حفاظت کیلئے پاکستان میں چینی فوج کی تعیناتی پر بھارت پریشان ہوگیا اور اس پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

این ڈی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے بھارتی سرکارکے اعلیٰ عہدیدارکاکہناتھاکہ ’ہم باریک بینی سے ساری صورتحال کو دیکھ رہے ہیں ، پاکستان میں ممکنہ طورپر تعینات ہونیوالے چینی فوجیوں کی تعداد کے بارے میں بھی اندازہ ہے ‘۔

رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ گوادر کو چین کے علاقے ژنجیانگ سے ملانے والے 3000کلومیٹر طویل اس منصوبے کی حفاظت چین کی پیپلزلبریشن آرمی کرے گی جبکہ پاکستان نے روٹ کی حفاظت کیلئے تین خود مختارانفنٹری بریگیڈ اور دواضافی آرٹلری رجمنٹس تشکیل دیئے ہیں ۔

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو حتمی شکل دیئے جانے پرگزشتہ سال ہی بھارت نے گلگت بلتستان میں چینی دستوں کی تعیناتی پر احتجاج کیاتھااور کہاتھاکہ یہ بھارت کیلئے قابل قبول نہیں ۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاون لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی کی جواہرلعل نہرویونیورسٹی میں چائنیز سٹیڈیز کے پروفیسر اورچین کیلئے بھارتی پالیسی سے متعلق تھنک ٹینک کا حصہ سری کانتھ کونڈاپالی نے کہاکہ چین کی پیپلزلبریشن آرمی کے اہلکاروں کی غیرضروری موجود گی بھارت کیلئے پریشانی کا باعث ہے ، چین کا منصوبہ سمجھنے کی ضرورت ہے ، وہ آزادکشمیر میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے فوج کے تین ڈویژن تعینات کرنے جارہاہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس ضمن میں بھارتی فوج نے چپ سادھ رکھی ہے اور باضابطہ طورپر کوئی موقف سامنے نہیں آسکا تاہم وہ بھی اس ضمن میں نظررکھے ہوئے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -اہم خبریں -