A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

جنات کا غلام۔۔۔نویں قسط

جنات کا غلام۔۔۔نویں قسط

Mar 14, 2016 | 17:48:PM

شاہد نذیر چودھری

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

آٹھویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

وہ میرا گریبان پکڑ کر چلانے لگی اور میرے رہے سہے حواس بھی ختم ہو گئے۔ میں نے پیر ریاض شاہ کی طرف امداد بھری نظروں سے دیکھا تو وہ کمرے سے غائب تھا۔ میں جانتا تھا کہ اس نے یا اس کے بابا جی نے میرے غصے کے بدلے میں یہ اوچھی حرکت کی تھی لیکن پتر جی میں ان زمینداروں جیسا سفاک اور کڑیل نہیں ہوں جو اپنی انا اور ضد پر خون بہاتے پھرتے ہیں۔ میں کمزور بھی نہیں تھا لیکن پتر جی اولاد سے میری محبت نے مجھے بہت کمزور بنا دیا تھا۔

”شاہ صاحب“ میں انہیں آوازیں دیتا ہوا کمرے سے نکلا تو دیکھا ریاض شاہ اپنا سامان اٹھا کر حویلی سے باہر جا رہا تھا میری آواز سن کر بھی وہ نہیں رکا۔ میں بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا تو میری سانس پھول گئی ”شاہ صاحب“ میرے ہاتھ خود بخود آپس میں جڑ گئے اور معافی کے لئے اس کے سامنے بلند ہونے لگے۔ میری آنکھیں بے کسی اور بے بسی سے بھر گئی تھیں۔ لب سل گئے تھے۔ میرا اندر کٹ گیا‘ دل قیمہ قیمہ ہو گیا تھا پتر جی ، میں مر گیا تھا۔ مر گیا تھا اپنی بچی کی زندگی کے واسطے۔

شاہ صاحب کے چہرے پر فتح کا خمار تھا اور میرے جڑے ہوئے ہاتھ کسی گداگر اور کمی کی طرح بلند تھے وہ برابر مسکراتا رہا۔ شاید ابھی اس کی طمع کو قرار نہیں آ رہا تھا۔ میں اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا جھکنے لگا۔ اپنی خودداری کو توڑتے ہوئے‘ اس کے پیروں کو ہاتھ لگانے لگا تو اس بار اس نے مجھے کاندھوں سے پکڑ لیا۔

”نہیں ملک صاحب نہیں‘ آپ کی جگہ تو ہمارے دل میں ہے“ پھر وہ کچھ کہے بغیر ایک فاتح کی طرح واپس ہوا اس نے زلیخا کی طرف دیکھا اور مجھے دوبارہ پانی لانے کے لئے کہا۔ میں پانی لایا تو اس نے کچھ پڑھنے کے بعد دم شدہ پانی زلیخا پر چھڑکا۔ اس کے بے ہوش بدن کو جھٹکا لگا۔ پیر ریاض شاہ پانچ چھ منٹ تک کچھ پڑھتا رہا۔ آخر میں وہ اس کے سر کی جانب بیٹھ گیا اور اس کے ماتھے پر شہادت کی انگلی رکھ کر کچھ لکھنے لگا۔ چند لمحوں بعد وہ بولا تو ایسا لگا جیسے وہ نہیں اس کے اندر سے بابا جی بول رہے ہیں ”اٹھ میری بچی .... اٹھ .... شاباش“

یقیناً وہ باباجی ہی تھے جو ریاض شاہ کے اندر سے بول رہے تھے۔ ایک لمحہ کے لئے تو مجھے پھر یہ گمان ہوا تھا کہ باباجی کا بہروپ ریاض شاہ نے ہی نہ بھرا ہوا ہو۔ وہ اندھیرے میں باباجی کو حاضر کرتا تھا۔ کسی کو کیا معلوم کہ ریاض شاہ ہی آواز بدل کر بول رہا ہوتا ہے یا واقعی اس کے علاوہ کوئی دوسرا تیسرا وجود بھی وہاں ہوتا ہے۔ لیکن میرا یہ وہم اس وقت باطل ہو گیا۔

زلیخا کے چہرے سے تناﺅ ختم ہو گیا۔ آنکھیں معمول پر آ گئیں اور ایسے اٹھی جیسے بے ہوش ہی نہ ہوئی تھی۔ پہلے تو وہ ہم تینوں کے چہروں کو دیکھتی رہی پھر سر پر دوپٹہ درست کرنے لگی۔

”بابا جی کہاں ہیں“ وہ آہستگی سے بولی۔ تو ایک ہلکے سے کھٹکے کے ساتھ باباجی کی آواز آئی

”میری بچی .... میں یہیں پر ہوں“ میں نے دیکھا اب کی بار شاہ صاحب کے لب بند تھے اور ان کے عقب میں ایک سفید رنگ کے لبادے میں ملبوس دراز کشیدہ قامت انسان کھڑا تھا۔ اس نے اپنے سر سفید چادر لی ہوئی تھی اور سر جھکا ہوا تھا۔

”بابا جی سرکار“ پیر ریاض شاہ اٹھنے لگا تو باباجی نے ہاتھ ان کے سر پر رکھ کر انہیں اٹھنے نہیں دیا۔ وہ زلیخا کے پاس گئے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے ”میں نے اپنی بیٹی کہا ہے تجھے زلیخا۔ مجھے تیرے باپ سے زیادہ فکر ہے“ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنا چہرہ بلند کیا تو چادر سے ان کا چہرہ صاف نظر آنے لگا۔ سانولی رنگت‘ سفید دودھیا لمبی داڑھی‘ موٹی موٹی سیاہ سرمگیں آنکھیں۔ وہ گزرے وقتوں کے کسی اساطیری مرد کی شکل میں میرے سامنے موجود تھے۔

”ملک .... تو نے ہمارے بیٹے پر شک کیا اور ہمیں رسوا کیا۔ شکر کرو ہمارے بیٹے نے تمہیں معاف کر دیا ہے ورنہ جتنا تو نے ہمیں بے عزت کیا ہے اس کا بدلہ لئے بغیر ہم واپس نہ آتے .... بہرحال تو نے ہمارا بہت دل دکھایا ہے“

بابا جی کی شخصیت کا ایسا نورانی رعب مجھ پر طاری ہوا کہ میرے لبوں سے نکلا۔ ”بابا جی مجھے معاف کر دیں۔ بشر ہوں غلطی تو کروں گا“

”آہا .... اے ابن آدم .... تو نے اچھا جواز گھڑا ہوا ہے۔ اوئے تم غلطی عمداً کرتے ہو اس لئے جلدی معافی مانگ لیتے ہو کہ تم خطا کے پتلے ہو۔ اپنی غلطیاں اپنے بزرگوں کے کھاتے میں نہ ڈالا کرو۔ غلطی تو اے ابن آدم تجھ سے بھی ہوئی۔ ابلیس نے بھی غلطی کی .... پچھتاوا تو اسے بھی ہے لیکن تو خوش قسمت ہے اور وہ بدبخت۔ تو معافی مانگتا ہے دل سے تو اللہ تیری خطا معاف کر دیتا ہے۔ مگر وہ ابلیس خلق سے اوپر پچھتاتا ہے۔ اس کے لئے معافی کیسی، ملک .... تو معافی دل سے مانگے گا تو اللہ تجھے معاف کر دے گا۔ ہمارے دلوں میں بھی تمہارے لئے نرمی اور محبت پیدا ہو جائے گی۔ مگر تجھے تیرا وہم اور تری خودداری سکون نہیں لینے دے گی۔ ہاں .... ایک بات یاد رکھنا۔ اب میرے بیٹے کو کوئی تکلیف نہ دینا۔ ریاض شاہ تو بھی ملک کی طرف سے اپنا دل صاف کر لے“

”جی اچھا سرکار“ ریاض شاہ نے ایک سعادت مند بچے کی طرح سر ہلایا۔

”رضیہ پتری .... آج ہماری سیوا نہیں کرے گی“ باباجی خوشگوار انداز میں بولے ”زلیخا .... تیری ماں حلوا بڑا مزے کا بناتی ہے تو بھی حلوہ بنانا سیکھ لے“

زلیخا جواباً مسکرانے لگی ”لیکن باباجی آپ کی دنیا کا حلوہ تو ہمارے حلوے سے زیادہ مزیدار ہے“

”تو نے کھایا ہے“ بابا جی دھیرے سے مسکرائے تو ان کے سفید موتیوں جیسے دانت نمایاں ہو گئے

”ہاں جی .... وہ غازی لے کر آیا تھا۔ اس نے اس وعدہ پر مجھے حلوہ کھلایا تھا کہ میں اسے کوئی اچھی سی شے بنا کر کھلاﺅں گی“ یہ سن کر باباجی نے قہقہہ لگایا اور بولے ”غازی بڑا حرام خور ہے۔ وہ کہیں سے چرا لایا ہو گا حلوہ اور تجھے کھلایا ہو گا“

اسی لمحہ مجھے اپنے عقب میں کسی سرسراتے وجود کا احساس ہوا ”لو آ گیا ہے شیطان“

”بابا جی .... شکر ہے آپ نے مجھے شیطان کا چیلا نہیں کہہ دیا“ غازی کی شرارتوں سے بھری آواز آئی۔ وہ سفید لبادے میں چھپا ہوا تھا اور اس کا چہرہ خاص طور پر ڈھکا ہوا تھا۔

”بابا جی میں وہ حلوہ مدینے سے لایا تھا۔ بھلا میں اپنی بہن کو چوری کا حلوہ کھلا سکتا ہوں“

”تیرا کوئی پتہ نہیں ہے غازی“ بابا جی نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور پھر بولے ”غلام محمد کو بھی بلاﺅ .... سب آ جاﺅ .... رضیہ پتری پوری دیگ چڑھانا حلوے کی“

”لیکن میں تو باﺅلی پیوں گا“ غازی مچل اٹھا۔

”باﺅلی کہاں سے لاﺅں گی میں“ رضیہ بولی

”لیں ماسی .... آپ کو پتہ ہی نہیں آپ کی گائے نے بچھڑا دیا ہے حیرت ہے بھئی“ غازی ہنستے ہوئے بولا ”آپ کا ملازم کرموں ادھر باڑے میں ساری رات سے گائے کی سیوا میں لگا ہوا ہے“

”اچھا یہ تو اچھی خوشخبری ہے“ میں نے کہا ”لے رضیہ میں گائے کا دودھ لاتا ہوں تو اسے باولی بنا کر دے“ یہ کہہ کر میں نے بابا جی سے اجازت لی اور جب میں آدھ گھنٹہ بعد واپس اس کمرے میں پہنچا تو وہاں کا ماحول خاصا گرم ہو چکا تھا نصیر بھی ادھر آ گیا تھا۔ بابا جی پلنگ پر گاﺅ تکیہ کے ساتھ دراز تھے‘ نصیر اور زلیخا ان کی پائنتی جانب بیٹھے تھے اور پیر ریاض شاہ چٹائی پر تکیہ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ کمرے میں غازی کے قہقہے گونج رہے تھے۔ کمرے میں اگربتیاں جلا کر ماحول کو خوشگوار بنا دیا گیا تھا

”اجی ملک صاحب مزہ آ گیا ہے۔ غازی تو باولی پئے گا اور ہم حلوے کے ساتھ آم کھائیں گے“

ان کے سامنے بڑی تھالی میں آم کاٹ کر رکھے ہوئے تھے اور بابا جی بڑے مزے سے آم کھانے میں مصروف تھے۔ ایک گھنٹہ بعد رضیہ دیگچے میں حلوہ بھر کر لائی تو دیسی گھی سے تیار کئے گئے حلوے کی خوشبو سے میرے منہ میں بھی پانی آیا۔ رضیہ نے حلوے میں خوب بادام گریاں ڈالی تھیں۔ اس نے پلیٹوں میں حلوہ ڈالا اور چٹائی پر رکھ دیں۔

”نہیں بھئی یوں نہیں .... پہلے ہم غلام محمد سے نعت رسول مقبول ﷺ سنیں گے۔ پھر دعا ہو گی اور اس کے بعد حلوہ کھائیں گے“ بابا جی نے کہا تو غلام محمد بھی حاضر ہو گیا۔ اس نے احرام باندھا ہوا تھا۔ پاﺅں میں نیلے رنگ کی چپلی تھی۔ وہ کسی عرب نوجوان کی شکل اختیار کئے ہوئے تھا۔ اس نے ہم سب کی طرف دیکھا اور نہایت پرسوز آواز میں بولا”آپ سب درود ابراہمی پڑھئے“۔ہم سب نے درود پڑھنا شروع کیا اور پھر کچھ ہی دیر بعد جب غلام محمد نے ایک پنجابی نعت پڑھنی شروع کی تو یوں لگا جیسے عرش تا فرش وجد طاری ہو گیا۔

دسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزیدخبریں