’سعودی عرب نے اپنے بہترین ہتھیار سے خود کو ہی نشانہ بنالیا‘

’سعودی عرب نے اپنے بہترین ہتھیار سے خود کو ہی نشانہ بنالیا‘
’سعودی عرب نے اپنے بہترین ہتھیار سے خود کو ہی نشانہ بنالیا‘

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہونے والی غیر معمولی کمی اور دنیا بھر کی معیشت و سیاست پر اس کے گہرے اثرات کو عالمی سیاست کا رخ بدلنے والے اہم ترین واقعات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک سعودی عرب نے عالمی معیشت کی سست روی کے باوجود تیل کی پیداوار میں کمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد قیمتوں میں غیر معمولی کمی ہونا شروع ہوگئی اور نتیجتاً سعودی مملکت کو بھاری مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔سعودی معیشت آج جن مسائل سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ تیل کی پیداوار بدستور جاری رکھنے کافیصلہ ہے، لیکن سعودی عرب نے ایسا کیوں کیا، اور کیا اس فیصلے کے نتائج سعودی مملکت کی توقع کے مطابق نکلے؟ مشہور مصنف اینڈریو سکاٹ کوپر نے اخبار ”نیویارک ٹائمز“ میں شائع ہونیوالے اپنے مضمون میں سعودی عرب کے اسی فیصلے اور اس کے نتائج کو موضوع بحث بنایا ہے۔

کوپر کہتے ہیں کہ تیل سعودی عرب کا سب سے مﺅثر ہتھیار ہے، لیکن اس بار سعودی عرب نے اس ہتھیار سے خود کو ہی نشانہ بنا لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ گزشتہ نصف دہائی کے دوران سعودی عرب نے تیل کے ہتھیار کا انتہائی مو¿ثر استعمال کیا اور متعدد بار اس طاقت کو استعمال کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

مزید جانئے: یمن میں متحدہ عرب امارات کا جنگی طیارہ لاپتہ ہوگیا

1973ءمیں سعودی عرب نے امریکہ کی اسرائیل کےلئے حمایت پر برہم ہو کر مغربی ممالک کو تیل کی سپلائی بند کر دی، جس کے نتیجے میں مغربی ممالک کی معیشتیں بری طرح لڑکھڑانے لگیں۔ اسی طرح 1977ءمیں ایک دفعہ پھر سعودی عرب نے عالمی مارکیٹ میں ”سیلابی“ کیفیت پیدا کرتے ہوئے تیل کی پیداوار بڑھا دی ، جس کے نتیجے میں قیمتیں تیزی سے نیچے آگئیں اور اس بار ایران کےلئے صورتحال گھمبیر ہو گئی، کیونکہ اس کی معیشت کا تیل کی آمدن پر بھاری انحصار تھا ۔ کوپر کے مطابق یہ صورتحال رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹنے کے بنیادی ترین اسباب میں سے ایک تھی، جس کے نتیجے میں انقلاب ایران کی راہ بھی ہموار ہوگئی۔ اسی طرح جب ستمبر 1985ءمیں سعودی وزیر تیل شیخ احمد زکی یمنی نے آئل پالیسی میں بڑی تبدیلی کے فیصلے کا اعلان کیا تو سوویت یونین کی معیشت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا، جس کا نتیجہ بالآخر سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کی صورت میں سامنے آیا۔

کوپر کہتے ہیں کہ ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان تعلقات کی بہتری، مشرقی وسطیٰ میں روس کی مداخلت، اور امریکہ میں شیل گیس انڈسٹری کی ترقی کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب نے ایک دفعہ پھر تیل کے ہتھیار کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ایران پر لگی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں اس کی تیل کی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ متوقع تھا، جو کہ سعودی عرب کے لئے یہ قابل قبول نہیں تھا۔ دوسری جانب امریکہ میں شیل گیس انڈسٹری کی ترقی بھی سعودی عرب کو توانائی کے میدان میں اپنی حکمرانی کےلئے چیلنج نظر آ رہی تھی۔عالمی معیشت کی سست روی اور خصوصاً چینی معیشت کی شرح نمو میں کمی کی وجہ سے تیل کی طلب میں کمی ہوئی، لیکن سعودی عرب نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کےلئے پیداوار میں کمی سے انکار کر دیا، جس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ تیل کی قیمت جو تقریباً ڈیڑھ سال قبل 100ڈالر فی بیرل سے زیادہ تھی آج تقریباً 30ڈالر فی بیرل کی سطح پر آچکی ہے۔

مزید جانئے: سعودی عرب میں دنیا کے سب سے بڑے منصوبے کا اعلان ہو گیا، تفصیلات ایسی کہ دنیا دنگ رہ گئی، اگر پاکستان بھی یہ کام شروع کر دے تو بیشترمسائل حل ہو جائیں

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ اس دفعہ سعودی ہتھیار کے وارنے مخالفین کو اتنا متاثر نہیں جتنا نقصان خود سعودی عرب کو پہنچا دیا ہے۔ تیل کی آمدنی میں ہونیوالی بھاری کمی کی وجہ سے سعودی عرب کو پہلی دفعہ اربوں ڈالر کے بجٹ خسارے کا سامنا ہے، جبکہ اربوں ڈالر کے قرضوں کی ضرورت بھی پیش آگئی ہے۔ عالمی ادارے آئی ایم ایف کی طرف سے یہ وارننگ بھی دی جا چکی ہے کہ اگر سعودی حکومت نے اپنے اخراجات میں غیر معمولی کمی نہ کی تو 2020ءتک سعودی معیشت دیوالیہ ہو سکتی ہے ۔ تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک مثلاًوینزویلا، نائیجریا، آذربائیجان،قازقستان اور روس بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ سعودی عرب نے حال ہی میں روس اور قطر کے ساتھ مل کر پیداوار میں کمی کی کوشش بھی کی لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی۔

کوپر کہتے ہیں کہ تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سعودی پالیسی کے امریکی شیل گیس انڈسٹری ، روسی مداخلتی پالیسی اور ایرانی معیشت پر پڑنے والے اثرات ابھی واضح نہیں ہیں، البتہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ سعودی عرب کی معیشت شدید بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تیل پیدا کرنے والے چھوٹے ممالک کی بدحالی بھی جاری رہے گی، لیکن اصل کہانی یہ ہے کہ اس دفعہ سعودی عرب اپنے ہی ہتھیارکا نشانہ بن گیا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -