’یہ اچھا بھلا ملک تھا لیکن پھر سعودی عرب نے۔۔۔‘ باراک اوباما نے اپنے قریبی ترین اتحادی سعودی عرب کے خلاف ایسی بات کہہ دی جس کی کسی کو توقع نہ تھی، بڑا تنازعہ

’یہ اچھا بھلا ملک تھا لیکن پھر سعودی عرب نے۔۔۔‘ باراک اوباما نے اپنے قریبی ...
’یہ اچھا بھلا ملک تھا لیکن پھر سعودی عرب نے۔۔۔‘ باراک اوباما نے اپنے قریبی ترین اتحادی سعودی عرب کے خلاف ایسی بات کہہ دی جس کی کسی کو توقع نہ تھی، بڑا تنازعہ

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور سعودی عرب کا اتحاد نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے درمیان اس اتحاد میں کئی اتار چڑھاﺅ آئے لیکن مجموعی طور پر یہ قریبی تعلق مضبوطی کے ساتھ برقرار رہا ہے۔ صدر باراک اوباما کے دور میں بھی یہ اتحاد بظاہر تو قائم ہے، لیکن اصل حقائق خاصے مختلف ہوچکے ہیں۔ جریدے ”دی اٹلانٹک“ میں شائع ہونے والے جیفری گولڈ برگ کے مضمون میں امریکی صدر کے سعودی عرب کے بارے میں کچھ ایسے خیالات سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات میں گہری دراڑ کے آثار واضح نظر آ رہے ہیں۔

مضمون نگار نے ایک اہم واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اوباما نے آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرن بل کے ساتھ ایک ملاقات میں انڈونیشیاءمیں بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ جب آسٹریلوی وزیر اعظم نے اس صورتحال کی وجہ جاننا چاہی تو بارک اوباما نے اس کے لئے سعودی عرب کو ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا ایک اعتدال پسند ملک تھا مگر سعودی عرب نے اس ملک میں اپنا پیسہ، اپنے امام اور اساتذہ بھیجے، جنہوں نے شدت پسندی کی تبلیغ کی۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے کئی دیگر ممالک میں بھی اسی طرح کی شدت پسندی کا فروغ جاری ہے جو کہ دراصل امریکی مفادات کے لئے بھی خطرہ ہے۔

مزید جانئے: شمالی کوریا کی ایک آبدوز لاپتہ ہو گئی، ڈوبنے کا امکان

مضمون نگا ر کے مطابق امریکی صدر کے نیشنل سکیورٹی افسران بھی گاہے بگاہے یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ 9/11 کے حملہ آور ایرانی نہیں تھے، وہ سعودی تھے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکی صدر ماضی کے امریکی رہنماﺅں کے برعکس سعودی عرب کو امریکا کے لئے اہم نہیں سمجھتے۔ صدر اوباما سمجھتے ہیں کہ امریکا میں توانائی کے انقلاب کے بعد سعودی عرب کی اہمیت پہلے سی نہیں رہی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اب امریکا کے مفادات سعودی عرب کے ساتھ وابستہ نہیں رہے، تو اس کی خاطر مشرق وسطیٰ میں جاکر جنگیں لڑنے اور اسے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش میں اپنے لئے مسائل پیدا کرنے کی بھی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔

مزید :

بین الاقوامی -