عدالتی کمروں ،بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث ماتحت عدالتوں کے ججوں کی 650اسامیاں خالی

عدالتی کمروں ،بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث ماتحت عدالتوں کے ججوں کی ...
عدالتی کمروں ،بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث ماتحت عدالتوں کے ججوں کی 650اسامیاں خالی

  

لاہور(کامران مغل)عدالتوں کے نئے کمرے بنانے اور بنیادی سہولتوںکی فراہمی میں حکومت پنجاب کی عدم دلچسپی کے باعث صوبہ بھرمیں 650جوڈیشل افسروں کے عہدے 2سال سے خالی ہیں،صرف صوبائی دارلحکومت میں 47ایڈیشنل سیشن ججوں اور93سول ججز کی اسامیاں تعیناتیوں کی منتظرہیں، جوڈیشل افسران کے بھرتیاں نہ ہونے سے شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی میں شدیدمشکلات کا سامناکرنا پڑرہا ہے جبکہ ججز کی کمی کے باعث ہزاروں مقدمات التوا کا شکار بھی ہو رہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق لاہورسمیت پنجاب بھر کی ماتحت عدالتوں میں 650جوڈیشل افسروں کی آسامیاں گرشتہ 2سالوں سے خالی پڑی ہیں ، صوبہ بھر کی ضلعی عدالتوں میں 120ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور 530سول ججز کی آسامیاں خالی ہیں ،پنجاب کے دارلحکومت لاہورمیں ماتحت عدالتوں میں بھی 140جوڈیشل افسروں کی کمی ہے، لاہورمیں 104ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی اسامیاں منظورشدہ ہیں لیکن 57ایڈیشنل سیشن ججز کام کررہے ہیں اور47ایڈیشنل سیشن ججز کی ابھی بھی کمی ہے، لاہورکی ماتحت عدالتوں کے لئے 104سول ججز کی اسامیاں منظورشدہ ہیں جبکہ صرف57سول ججز کام کررہے ہیں اور 47سول ججز کی کمی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے نئی عدالتوں اوران میں انفراسٹرکچر کے حوالے سے عدم دلچپسی کا مظاہرہ کی جارہا ہے جس کی وجہ سے نئے جوڈیشل افسروں کی بھرتیوں کا عمل التواءکا شکاراورسائلین کو بھی بروقت انصاف کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس حوالے سے سینئر ایڈووکیٹ پاکستان بار کونسل میڈیا سیل کے کوارڈینٹر مدثر چودھری نے کہا کہ عدالتوں میں ججز کی بھرتیوں کے حوالے سے حکومت کی عدم دلچسپی لمحہ فکریہ ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی اس لاپرواہی کے باعث روزانہ ہزروں سائلین عدالتوں میں مشکلات کا شکار ہیں اور یہ ہی نہیں عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی بھی اسی وجہ سے متاثر ہورہی ہے تاہم پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری جوڈیشل افسران کی کمی پوری کرتے ہوئے بھرتیوں کے عمل کو مکمل کیا جائے تا کہ عوام الناس کو برقت انصاف فراہم کیا جاسکے ۔

مزید :

لاہور -