سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس ،عوامی تحریک کے کارکنوں نے ہمیں مار ہی دیا تھا ،اللہ نے نئی زندگی دی ،پولیس اہلکاروں کا عدالت میں بیان

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس ،عوامی تحریک کے کارکنوں نے ہمیں مار ہی دیا تھا ،اللہ نے ...
سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس ،عوامی تحریک کے کارکنوں نے ہمیں مار ہی دیا تھا ،اللہ نے نئی زندگی دی ،پولیس اہلکاروں کا عدالت میں بیان

  

لاہور(نامہ نگار)سانحہ ماڈل ٹاو ¿ن کیس کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت ہوئی ، ڈی ایس پی کشف خلیل ، ایس ایچ او رضوان اور اے ائے ایس ائی شریف نے شہادتیں قلمبند کروادیں،بیانات قلمبند کرواتے ہوئے مذکورہ پولیس افسران کا کہنا تھا پاکستان عوامی تحریک کے مشتمل کارکنوں نے ان کو ٰیرغمال بنا کرشدید تشدد کا نشانہ بنایا،کارکنوں نے اپنی طرف سے ان کو تشدد کر کے مار ہی دیا تھا مگر خدا نے ان کو نئی زندگی دی ۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج خواجہ ظفر اقبال کی عدالت میں ڈی ایس پی کاشف خلیل نے شہادت قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ ڈی سی او لاہور نے تجاوزات اٹھانے کے لئے پولیس فورس کی مددمانگی تھی ،پاکستان عوامی تحریک کے مسلح کارکنوں نے اپریشن روکنے کے لئے بھر پور مزاحمت کی اور مذاکرات کے دوران مشتمل کارکنوں نے ان کو ساتھ پولیس اہلکاروں کے ساتھ یرغمال بنا لیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا اضافی نفری پہنچے پر ان کو بازیاب کرایا گیا۔ان کا کہنا تھا کارکنو ںکے مشتعل ہجوم نے پولیس پر حملہ کیا ،پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس استعمال کی جبکہ کارکنوں نے پولیس پر پیٹرول کے بم پھینکے جس پولیس اہلکاروں سمیت لاتعداد افراد ذخمی ہوئے۔ ان کہنا تھا کہ کارکن ملحقہ عمارتوں کی چھتوں سے فائرنگ کر رہے تھے جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔ایس ایچ او تھانہ فیصل ٹاون رضوان اور اے ایس ائی شریف نے اپنے بیان قلمبند کرواتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کارکنوں نے اپنی طرف سے ان کو تشدد کر کے مار ہی دیا تھا مگر خدا نے ان کو نئی زندگی دی ،دونوں افسران نے ٹوٹی ہوئی انگلیاں اور جسم کے دیگر حصوں پر زخموں کے نشانات بھی عدالت کو دکھائے اور میڈیکل رپورٹس اور ویڈیو فوٹیج کا حوالہ بھی دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 15مارچ تک ملتوی کردی ہے ۔

مزید :

لاہور -