حقانی کا سچ اور مکمل خاموشی۔۔۔!

حقانی کا سچ اور مکمل خاموشی۔۔۔!
 حقانی کا سچ اور مکمل خاموشی۔۔۔!

  

پیپلز پارٹی کے دور اقتدار کے دوران امریکہ میں پاکستان کے مقرر کئے جانے والے سفیر حسین حقانی جو آج کل بھی امریکہ میں مقیم ہیں اور وہاں پر نہ صرف وہ مختلف اداروں میں لیکچرز دیتے ہیں بلکہ آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کیلئے امریکی تھنک ٹینکس اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں لابنگ کے فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں۔ حسین حقانی کی زندگی کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی اور کن کن ادوار اور شخصیات سے ہوتی ہوئی آج کیا شکل اختیار کر چکی ہے اس پر کسی روز مکمل کالم لکھوں گا مگر سردست مجھے حسین حقانی کے نئے انکشافات پر بات کرنی ہے جس میں موصوف نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سی آئی اے کے جاسوسوں کو پاکستان آنے کیلئے کھلے دل کے ساتھ ویزے جاری کئے تھے ، پھر کہتے ہیں کہ سی آئی اے کے اہلکاروں نے پاکستانی ایجنسیز کی مدد کے بغیر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو تلاش کیا اور اس کیخلاف کامیاب آپریشن کیا اور اس آپریشن کی راہ اس لئے ہموار ہوئی کیونکہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے اوباما انتظامیہ سے مراسم بہت بہتر تھے یعنی حسین حقانی نے ماضی کے ان تلخ حقائق کو بے نقاب کر کے پوری قوم کے زخموں پر ایک بار پھر نمک پاشی کی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے حامل ادارے نہ صرف اسامہ بن لادن اور اس کے نیٹ ورک کے ساتھ ملے ہوئے تھے بلکہ یہ ادارے اس قدر نکمے ہیں کہ ان کو ایبٹ آباد کے سی آئی اے کے اتنے بڑے آپریشن کا بھی پتہ نہ چل سکا۔ کاش وہ اپنی تحریر میں یہ بھی قوم کو بتا دیتے کہ ان کو اور ان کے ایوان صدر میں بیٹھے قائد کو تو علم تھا انہوں نے پاکستان میں اس گھناؤنی کارروائی کے عوض کیا قیمت وصول کی۔ کتنی عجیب بات ہے کہ حالانکہ اس سازش کا براہ راست وہ خود بھی حصہ رہے ہیں حسین حقانی کے تازہ ترین انکشافات نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے حساس ادارے پیپلز پارٹی کی حکومت میں جو موقف رکھتے تھے کہ وزیر داخلہ رحمن ملک ، حسین حقانی اور پیپلز پارٹی کی حکومت کے کرتے دھرتے بغیر کلیئرنس کے امریکیوں کو تھوک کے حساب سے ویزے جاری کر رہے ہیں وہ موقف درست ثابت ہوا ہے پاکستان کے حساس ادارے چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے 6000 سے زائد امریکیوں کو ویزے جاری کئے ہیں جن میں سے بہت سے افراد مشکوک ہیں اور وہ سی آئی اے کیلئے کام کرتے ہیں پھر میمو گیٹ کی صورت میں سکینڈل بھی سامنے آیا مگر پاکستان کے اور بہت سے کیسز کی طرح یہ کیس بھی اپنی موت آپ مر گیا اور فائلوں کے سمندر میں غرق ہو گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کیس کو دفنانے اور اس کیس کی آخری رسومات میں میاں نواز شریف اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بھی شامل رہے جنہو ں نے حساس اداروں کی فائلوں کو اٹھا کر دور پھینک دیا اور کہا کہ ان میں کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ قوم کے محافظ چیختے رہے مگر قوم کی عزت اور وقار کو چند ٹکوں اور اقتدار کی خاطر فروخت کرنے والے آج بھی دھڑلے سے اعتراف کر رہے ہیں کہ امریکی ایجنٹوں کو پاکستان میں گھسنے اور کارروائیاں کرنے کی اجازت ہم نے دی تھی کاش حسین حقانی آدھے سچ کی بجائے پورا سچ بولتے اور قوم کو بتاتے کہ یہ ٹاسک سرانجام دینے اور امریکہ کی وفا داری کے عوض ان کو اور ان کے باس کو کیا ریوارڈ ملا ، پاکستان اور پاکستان کی سلامتی کے اداروں کی دنیا بھر میں رسوائی کا کیا صلہ اور انعام ملا ، قوم کا حق ہے کہ وہ جان سکے۔ جن کو وہ ووٹ دیکر منتخب کر کے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں وہ کس طرح ملک و قوم کی سلامتی کا سودا کرتے ہیں حسین حقانی جو پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکی شہریت بھی رکھتے ہیں اور امریکہ میں بیٹھ کر بھارت اور امریکہ کی زبان بولتے ہیں ، انہوں نے عین اس وقت یہ انکشاف کیوں کیا ہے کہ جب آصف علی زرداری ایک بار پھر پاکستان میں 2018 ء کے عام انتخابات کے بعد اپنی حکومت قائم کرنے کیلئے صف بندی کر رہے ہیں ۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا حسین حقانی نئے امریکی صدر اور نئی انتظامیہ کو اپنی ماضی کی خدمات گنواتے ہوئے آئندہ کیلئے اقتدار کی بھیک مانگ رہے ہیں اور امریکی انتظامیہ کو بتانا چا ہتے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں آجاتی ہے تو پھر وہ امریکہ کیلئے وہی خدمات سرانجام دے گی جو ماضی میں سرانجام دیتی رہی ہے اور ویسے بھی پیپلز پارٹی کے کو چیئر مین آصف علی زرداری آج کل آئندہ کیلئے حکومت سازی کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ ان کے قریبی ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ آصف علی زرداری سرعام پارٹی میٹنگز میں کہتے ہیں کہ اگلی حکومت ان کی ہوگی اس کیلئے ابھی سے وہ تیاریوں میں مصروف ہیں وہ کہتے ہیں کہ پچھلی بار ان کو ایمرجنسی میں حکومت ملی تھی اس لئے وہ بہتر طریقے سے ڈلیور نہیں کر سکے اب اس بار وہ ابھی سے شیڈو کیبنٹ تشکیل دے رہے ہیں پیپلز پارٹی کے رہنما دوسری دلیل اقتدار میں آنے کیلئے یہ دیتے ہیں کہ سی او ڈی میں پیپلز پارٹی کا ن لیگ کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ طے پایا تھا کہ آئندہ 15 سال کیلئے اقتدار کی تقسیم اس طرح سے ہوگی کہ پہلے 5 سال پیپلز پارٹی کی حکومت ہوگی اس کے بعد 5 سال کیلئے نواز لیگ کی حکومت ہوگی، اس کے بعد 5 سال کیلئے پھر پیپلز پارٹی کی حکومت بنے گی یعنی 5+5+5 کا فارمولہ طے ہے۔ امریکہ نے اسی معاہدہ کی گارنٹی دے رکھی ہے آصف علی زرداری تو آئندہ اپنی حکومت کے حوالے سے اس حد تک پرامید ہیں کہ انہوں نے پنجاب کی پارٹی قیادت پر واضح کیا ہے کہ مجھے پنجاب سے صرف قومی اسمبلی کی 20 نشستیں لے دیں تو وفاق میں حکومت میں بنا دوں گا۔ ایک طرف آصف علی زرداری کی آئندہ اپنی حکومت بنانے کی تیاریاں اور دوسری جانب حسین حقانی جو آصف علی زرداری کے دست راست ہیں ان کے انکشافات یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ پھر روزانہ کی بنیاد پر آپ نوٹ کر سکتے ہیں کہ اچانک آصف علی زرداری جن کی پارٹی ابھی خود اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے وہ اتنے اہم کیسے ہو گئے کہ دو روز قبل آصف علی زرداری کو ایک ہی دن میں سعودی ، چائنیز اور برطانوی سفیر ملتے ہیں اگلے روز جاپانی سفیر ملتے ہیں اور نبیل گبول ، فیصل صالح حیات اور ہوتی سمیت درجن کے لگ بھگ اہم افراد اچانک پیپلز پارٹی کا رخ اختیار کر لیتے ہیں یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ اس سے قبل آصف علی زرداری امریکہ میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک مہینے تک مہمان بن کر واپس لوٹتے ہیں اگر اس تھیوری کو مان لیا جائے کہ ایک زرداری سب پہ بھاری یعنی پیپلز پارٹی پھر اقتدار میں آ رہی ہے تو یہ سوال بہت اہم ہے کہ اس بار اقتدار کے بدلے امریکہ سے سودا کیا طے ہوا ہے یہ انکشاف لگتا ہے کہ جب تک سامنے آئے گا تب تک بہت کچھ ہو چکا ہو گا ، پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا ہو گا اور بہت دیر ہو چکی ہوگی اور ویسے بھی حسین حقانی کا انکشاف اس بات کی دلیل ہے کہ ہم اقتدار حاصل کرنے کیلئے سب کچھ بیچ دیتے ہیں اور ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ دوسرا سوال اس سے بھی اہم ہے کہ کیا پاکستان میں اقتدار کا فیصلہ اس بار بھی واشنگٹن سے ہی ہوگا؟ کیا بیجنگ واشنگٹن کے فیصلے کو ہضم کر لے گا اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ حسین حقانی کے بیان پر کسی ادارے یا کسی سیاسی جماعت کے رہنما کو ابھی تک کھل کر بات کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ بے حسی کا عالم یہ ہے کہ عام آدمی بھی قومی معاملات سے باکل الگ تھلگ ہو کر رہ گیا ہے کیونکہ جن اداروں نے ایسی بیہودہ اور ملک دشمنی پر مبنی حرکات کا نوٹس لینا ہوتا ہے وہ سب کے سب خاموش ہیں لیکن یہ خاموشی کب تک رہے گی ؟ پوری قوم یہی سوال کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

مزید :

کالم -