ہم نجم سیٹھی کو سلیوٹ کیوں نہیں کرسکتے؟

ہم نجم سیٹھی کو سلیوٹ کیوں نہیں کرسکتے؟
ہم نجم سیٹھی کو سلیوٹ کیوں نہیں کرسکتے؟

  



لندن 17 دن کے لیے لاک ڈاؤن تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز اور فوج لندن میں تعینات کی گئی تھی۔ 41700لوگوں نے سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دیے۔ سپیشلسٹ ملٹری یونٹس ،بم کوناکارہ بنانے والے یونٹس اور سراغ رساں کتوں کی ٹیموں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ شاہی بری،بحری اور فضائی افواج کو سکیورٹی کا سپیشل ٹاسک دیا گیا۔لندن سترہ دنوں کے لیے فوجی کمپاؤنڈ میں تبدیل ہو گیا۔تھیمس دریا پر ایک ائیر کرافٹ ہر وقت موجود رہتا تھا۔ کسی بھی میزائل حملے سے بچنے کے لیے شہر کے وسط میں اینٹی میزائل سسٹم نصب کیا گیا۔ سکیورٹی کے پیشِ نظر تمام سٹیڈیمز کے اوپر ڈرونز کو استعمال کیا گیا جو کسی بھی حملے کی صورت میں جوابی کاروائی کر سکتے تھے اور اس تمام سکیورٹی پر 553ملین پاؤنڈز لا گت آئی۔ آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب تیاریاں کسی جنگ کے پیشِ نظر کی گئی ہوں گی لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ یہ تمام انتظامات 2012 کے لندن اولمپکس کو کامیاب بنانے کے لیے کیے گئے تھے۔ 

آپ اس بات پر بھی پریشان ہو رہے ہوں گے کہ لندن جیسے محفوظ شہر میں صرف کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے اس قدر سخت سکیورٹی کی کیا ضرورت تھی؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے آپ پاکستان کی مثال ہی لے لیجیئے۔ 2009میں لاہور کے لبرٹی چوک پر سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کیااور چھ لوگوں کو شہید کر دیا۔اس حملے نے پاکستان میں کھلاڑیوں کے لیے کیے گئے سکیورٹی انتظامات کا پول کھول دیا اور اس کے ساتھ ہی ملکِ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کا جنازہ نکل گیا۔ہم نے پوری دنیا کو اپنی بے گناہی کا یقین دلانے کے لیے دن رات پاپڑ بیلے۔ ہم نے بنگلہ دیش، زمبابوے اور افغانستان جیسی ٹیموں کے آگے ہاتھ جوڑے اور دنیا نے ہمارے ناک کی لکیریں تک نکلوا دیں لیکن ہمیں اس نا اہلی کی معافی نہیں مل سکی۔ہم کھلاڑیوں کو لاکھوں روپے د ینے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ پاکستان کا نام تک سننا نہیں چاہتے اور آج آٹھ سال بعد بھی ہم اس بدانتظامی کی سزا بھگت رہے ہیں۔

برطانیہ نے پاکستان کے ساتھ ہونے والے سلوک سے سبق سیکھ لیا تھا۔ اس نے ہر قیمت پر اولمپکس 2012کو کھیل اور کھلاڑیوں کیلئے محفوظ بنانے کا فیصلہ کیا اور ریاست کی تمام مشینری اور اربوں روپے کا بجٹ اسی سیکورٹی کے لیے وقف کر دیے۔ آپ لندن اولمپکس 2012کے انتظامات کو سامنے رکھیں اور ان کا موازنہ پی ایس ایل فائنل کے انعقاد کے لیے قذافی سٹیڈیم کے اطراف میں رینجرز اور فوج کی تعیناتی کے فیصلے سے کریں ۔ آپ کو نجم سیٹھی کا پی ایس فائنل فوج کی حفاظت میں کروانے کا فیصلہ عقلمندانہ بھی محسوس ہو گا اور دانشمندانہ بھی۔ اور اس فیصلے کی بدولت پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبائی دارالحکومت میں کرکٹ میچ کیلئے ہائی الرٹ سیکیورٹی پلان تشکیل دیا گیا اورحکومت نے پاکستان آرمی ،رینجرز اور پنجاب پولیس کو قذافی اسٹیڈیم کے اندراور اطراف کا کنٹرول دے دیا۔ اسٹیڈیم سے ملحقہ تمام عمارتوں، ہوٹلوں اور گھروں کو رجسٹرڈ کیا گیا اور سیکیورٹی چیکنگ کے بغیر ہر کسی کا داخلہ بند کر دیا گیا۔ کھلاڑیوں کیلئے بلٹ پروف بسوں کا انتظام کیا گیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آرمی چیف نے پنجاب حکومت کو سو فیصد فول پروف سیکیورٹی کی یقین دھانی بھی کروا دی ۔تمام کوششیں رنگ لائیں اور پی ایس ایل کا فائنل 5مارچ 2017کو کامیابی کیساتھ لاہور میں منعقد ہو کر خوشگوار ماحول میں اختتام پزیر ہو گیا ۔لیکن یہ میچ مکمل ہوتے ہی ہمارے لیے تین سبق بھی چھوڑ گیا ہے ۔پہلا سبق یہ کہ جب تک ہم اس ملک میں امن اور سکیورٹی کو اولین ترجیح نہیں دیں گے ہم انٹر نیشنل کرکٹ کو پاکستان میں بحال نہیں کر سکتے ۔ہم ہر مرتبہ پیسوں کا لالچ دیکر بین الاقوامی کھلاڑیوں کو پاکستان نہیں بلا سکتے ۔ہمیں سکیورٹی کے ایسے معیار اور مثالیں قائم کرنی ہونگی جنہیں دیکھ کر پوری دنیا پاکستان آکر کرکٹ کھیلنے کی خواہش کرے ۔دوسرا یہ کہ اگر ہماری فوج ،حکومت اور عوام کسی کام کو کرنے کا فیصلہ کر لیں تو دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمارے خوابوں کو مکمل کرنے سے نہیں روک سکتی ۔تیسرا اور آخری سبق یہ کہ ہم اپنے کاروباری طبقے کو نظر انداز کر کے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال نہیں کر سکتے ۔آج پاکستان میں پی ایس ایل کا فائنل جاوید آفریدی ،سلمان اقبال ، علی نقوی، فواد رانا اور ندیم عمرجیسے محب وطن کاروباری لوگوں کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے ۔اگر یہ رسک نہ لیتے تو پاکستان آج بھی تنہا اور کرکٹ کی دنیا میں یتیموں کی زندگی گزار رہا ہوتا ۔ان حقائق کے ساتھ ساتھ ہمیں آج یہ بھی اقرار کرنا ہوگا کہ ہم بحیثیت قوم کسی بھی قابل شخص کو اس کے کام کا صیح کریڈٹ دینے میں کنجوس ہو چکے ہیں ۔ہم ہر اچھے کام کا کریڈٹ فوج اور ہر برے کا م کا ڈس کریڈٹ حکومت کو دینا چاہتے ہیں ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کی سپورٹ کے بغیر پی ایس فائنل پاکستان میں کروانا نا ممکن تھا اور ہمیں پاک فوج کو ان کی انتھک محنت اور لازوال قربانیوں پر سلیوٹ بھی پیش کرنا چاہیے ۔لیکن اس کیساتھ ساتھ ہمیں شہباز شریف ،نواز شریف اور سب سے بڑھ کر نجم سیٹھی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہئے اور انہیں بھی اس کامیابی کا پورا پورا کریڈٹ دینا چاہیے ۔آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اگر پی ایس ایل فائنل کے دوران قذافی اسٹیڈیم میں کوئی ناخوشگوار واقع ہو جاتا تو کیا ہم نے نجم سیٹھی کو غدار اور زندہ جلانے تک کے فتوے جاری نہیں کر دینے تھے ؟ کیا ہم نے نواز شریف اور شہباز شریف سے فوراًََ استعفیٰ نہیں مانگ لینا تھا ؟ اب اگر پی ایس ایل فا ئنل پاکستان میں کامیابی سے منعقد ہو گیا ہے تو میری ملک پاکستان کی عوام سے گزارش ہے کہ جہاں ہم پاک فوج کو ان کی خدمات پر سلیوٹ پیش کر رہے ہیں وہاں نجم سیٹھی کی نیک نیتی ،محب الوطنی اور دن رات کی انتھک محنت کے بدلے ایک صرف ایک سلیوٹ ضرور کر دیں کیوں کہ یہ بھی سچ ہے کہ نجم سیٹھی کے بغیر پی ایس ایل فائنل لاہور میں کروانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن تھا ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ