شام اور مسلمانوں کی حالتِ زار

شام اور مسلمانوں کی حالتِ زار
شام اور مسلمانوں کی حالتِ زار

  


کچھ روز سے دل بہت پریشان تھا، سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وجہ کیا ہے؟ بہت غور کیا تو پتہ چلا کہ ایسی ہی پریشانی اور بے چینی چند سال پہلے بھی رہی ہے۔ جی ہاں 2014ء میں جب پشاور میں آرمی پبلک سکول میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا، تو کئی ماہ تک ایسی ہی پریشانی اور اضطرابی کیفیت رہی۔ جب بھی ٹی وی لگاتے تو ہر چینل پر معصوم بچوں کے چہرے اور ان کے والدین کی دل کو چیر دینے والی چیخ و پکار سنائی دیتی، شاید ہی کوئی ہو جس کی آنکھ اشکبار نہ ہوئی ہو، پھر ایسا ہی ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں ایک معصوم بچی کی لاش سمندر کنارے پڑی ملی تو پوری دنیا میں کہرام مچ گیا، پھر اس معصوم بچی کے والد کا انٹرویو دیکھ کر کتنے دن پریشان رہا۔ کچھ دنوں سے پھر سے شام میں مسلمان بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو زخمی اور مردہ حالت میں دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر تو ہر وقت ایسی دل خراش تصاویر اور انٹرویوز دیکھ دیکھ کر ایک پریشانی سی طاری رہتی ہے۔ سوچا یہ تو ایمان کا سب سے کمزور ترین درجہ ہے کہ دل میں برا جانو، اس لئے مَیں نے اپنا حق ادا کرنے کے لئے ایک درجہ مزید اوپر جاتے ہوئے ان حالات اور اپنے جذبات کو قلمبند کرنے کا ارادہ کیا۔

آج مجھے صدام حسین کے وہ آخری کلمات رہ رہ کر یاد آرہے ہیں کہ ایک دن عرب دنیا کو اس بات کا احساس ہوگا کہ یہ لوگ اصل میں مسلمانوں اور عربوں کے دشمن ہیں۔ یہ آج صدام حسین کو مار رہے ہیں، یہ آج عراق پر حملہ آور ہوئے ہیں، عنقریب یہ پورے عرب پر حملہ آور ہوں گے اور ہر طرف تباہی پھیلا دیں گے

۔۔۔ پھر وہی ہوا، صدام حسین برا تھا، ایک ظالم حکمران تھا، لیکن امریکہ کو کیا حق تھا کہ وہ عراق میں جاکر صدام حسین کو گرفتار کرے ،پھر مار دے، اور پھر اس کے مرنے کے بعد بھی عراق میں جنگ چلتی رہی، پورے عراق کو تباہ کردیا گیا، کتنی معصوم جانیں چلی گئیں۔

نہ تو امریکہ کو عراق سے کسی قسم کے تباہ کن کیمیائی ہتھیار ملے اور نہ ہی امریکہ نے عراق کو کوئی بہتر نظام حکومت دیا، بلکہ اچھے خاصے عراق کو کھنڈرات میں بدل دیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عراق کا نظام صحیح تھا، یا غلط ،یہ عراقی قوم کا معاملہ تھا کہ وہ صدام حسین کے خلاف بغاوت کرتے یا جنگ کرتے، امریکہ کس بنیاد پر ایسا کرسکتا تھا؟ 9/11 کا ڈرامائی واقعہ بھی اسی ایجنڈے کے تحت ہوا، اور امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا، آج تک امریکہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکہ مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا جانتا ہے۔ امریکہ نے اس جنگ میں پاکستان کو ساتھ شامل کیا، بہرحال اس جنگ میں امریکہ کو تو بری طرح ناکامی ہوئی، لیکن پاکستان کو بہت بھاری قیمت چکانا پڑی۔

دہشت گردی کا ناسور پورے پاکستان میں پھیل گیا اور آج بھی ہم اس آگ میں جل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا ضرورت پڑی تھی کہ ہم امریکہ کی نام نہاد جنگ میں چند ڈالروں کے لئے اپنے ملک اور عوام کو اس آگ میں جھونکتے؟

شام میں جاری ظلم اور تباہی کے پیچھے بھی وہی یہودی اور امریکی طاقتیں ہیں جو مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر ختم کرنا چاہتی ہیں، کبھی مذہب اور فرقوں کی بنیاد پر تو کبھی اقتدار کی جنگ میں۔

*۔۔۔آخر 39 ممالک کے اتحاد کا کیا فائدہ؟

*۔۔۔یہ فوجی اتحاد کس مقصد کے لئے ہے؟

ضرور پڑھیں: "ہم ایک ہیں"

*۔۔۔انہیں شام میں مسلمانوں پر ظلم و زیادتی نظر نہیں آرہی؟

*۔۔۔کیا شام میں مرنے والے معصوم بچے باغی ہیں؟

سعودی عرب جسے مسلم ممالک میں ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے، جس کی ایک بڑی وجہ مکہ اور مدینہ ہیں، اس لئے ہم زیادہ تر مسلم ممالک سعودی عرب کو اپنا لیڈر سمجھتے ہیں۔سعودی عرب نے اپنی تمام تر پالیسیاں بدلنا شروع کردی ہیں جس کے تانے بانے امریکہ سے جا ملتے ہیں، جبکہ امریکہ کی تمام پالیسیوں کے پیچھے یہودی لابی ہے، اس لئے مسلم امہّ کے لئے یہ ایک لمحہّ فکریہ ہے۔

شام میں جاری خون کی ہولی کے ذمہ دار تمام مسلم ممالک بھی ہیں۔ یاد رکھیئے کہ آج شام ہے، کل ہمارا ملک بھی ہوسکتا ہے، آج ہم خاموش ہیں، کل باقی دنیا بھی خاموش رہے گی، آج ہم جو بیج بوئیں گے کل وہی کاٹیں گے۔آج آواز بلند کریں گے، آج اس کے خلاف باہر نکلیں گے، آج ہمارے حکمران اگر اس پر سراپا احتجاج بنیں گے تو کل کوئی ہمارے لئے بھی آواز اٹھائے گا، ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو سوائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے اور کوئی کام نہیں۔

کیا کسی حاکم نے، کسی سیاستدان نے شام میں جاری ظلم و زیادتی پر آواز اٹھائی ہے؟ الیکٹرانک میڈیا بھی اپنا حق صحیح ادا نہیں کررہا، سوشل میڈیا پر لوگ بہت احتجاج کررہے ہیں، کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ 39 ممالک کی افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو چاہیے کہ وہ شام میں مسلمانوں کی مدد کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات کریں، ورنہ اس اتحادی فوج کا ہمیں یا کسی اور مسلم ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہے، مجھے تو ایسے لگتا ہے، امریکہ نے سعودی عرب کو آگے لگا کر اسلامی ممالک کا ایک اتحاد بنایا ہے اور اب اس کا ریموٹ کنٹرول بھی امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ فی الحال اس ریموٹ کی بیٹریاں نکال کر رکھ لی گئی ہیں، سو کہنے کو اسلامی ممالک کا نام نہاد اتحاد موجود ہے۔

شام میں اب تک تقریباً 5 لاکھ افراد لقمہء اجل بن چکے ہیں، ایک کروڑ سے زائد لوگ گھروں سے بے گھر ہوچکے ہیں، کچھ ہمسایہ ممالک میں ہجرت کرچکے ہیں اور کچھ یورپ تک زندہ یا مردہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اور جو لوگ اب بھی شام میں موجود ہیں، وہ بھی خوراک، دوا، صاف پانی اور بنیادی ضروریات زندگی کے بغیر زیر زمین بنکرز میں رہائش پذیر ہیں۔

ان زیر زمین بنکرز میں نہ پوری آکسیجن میسر ہے اور نہ ہی ٹوائلٹس کا کوئی انتظام موجود ہے، لوگ مجبوراً وہاں قید ہیں، خود مسلمان دوسرے مسلمانوں کو مار رہے ہیں، وجہ کچھ اور ہے، ایجنڈا کچھ اور ہے،مارنے والے کو یہ نہیں علم کہ مار کیوں رہا ہے، مرنے والے کو یہ نہیں پتا کہ مر کس وجہ سے رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ ایک خاموش تماشائی بن کر یہ سب ظلم دیکھ رہا ہے۔ ایک آدھ قرارداد پاس کردے گا، نہ ان مظالم کو روکنے کے لئے کوئی اقدامات کرے گا اور نہ ہی کوئی فوج بھیجے گا۔

تو پھر میرا سوال یہ ہے کہ اس یو این یا اس اسلامی ممالک کے اتحاد کا آخر کیا فائدہ ہے؟ یہ اتنے غیر فعال ہیں تو ان اداروں کو ختم کردینا چاہئے، جو آج تک ایسے حملوں کو روک نہیں سکے۔

اور کچھ نہیں تو زخمیوں کے لئے طبی امداد اور میڈیکل کی سہولتیں ہی مہیا کردیں، ادویات کا انتظام کردیں، سیز فائر کے باوجود جنگ چل رہی ہے، کوئی روکنے والا نہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، خوراک اور پینے کے صاف پانی کا انتظام کردیں، چھوٹے بچے بھوک اور پیاس سے مررہے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم سب مل کر شام کے مسلمانوں کے لئے کچھ کریں، ان کی آواز بنیں، احتجاج کریں اور ان کے لئے کھانے پینے کی اشیاء اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کا انتظام کریں، ایسی بہت سی این جی اوز ہیں جو شام کے مسلمانوں کے لئے یہ تمام تر ضروریاتِ زندگی کا انتظام کررہی ہیں۔

اس کے علاوہ پُر امن احتجاج، جلسے اور جلوس کا بھی انتظام کرنا چاہئے اور شام کے ظالم حکمرانوں تک اپنی آواز پہنچانی چاہئے کہ یہ ظلم و زیادتی کا بازار بند کریں، ورنہ یہ نہ ہو کہ مستقبل قریب میں آپ کا حال بھی صدام حسین اور کرنل قذافی والا ہو، اس لئے یہودیوں اور ہندوؤں کے آلۂ کار نہ بنیں، اپنے ملک، اپنی دھرتی ماں کے سچے اور جانثار سپوت ہونے کا ثبوت دیں، یہ کھوکھلے نعرے اور جذباتی تقریریں اب عوام کو مزید بیوقوف نہیں بنا سکتیں؟

مزید : رائے /کالم