پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل سپلائی کا منصوبہ

پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل سپلائی کا منصوبہ

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ تیل ذخیرہ کرنے کے لئے ساڑھے سات ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد صارفین کو پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ منصوبہ صارفین کی سہولت کے حوالے سے بے حد مفید ثابت ہوگا۔ پٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں پچھلے پندرہ بیس سال سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ نصف صدی سے بھی پہلے جو طریق کار چلا آ رہا ہے، اسی پر انحصار کیا جاتا رہا ہے جبکہ پٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں دو سے تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ آٹھ سے دس روز تک استعمال کے لئے پٹرولیم مصنوعات کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ مختلف وجوہ سے جب کبھی پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں تعطل اور رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو صارفین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ٹرانسپورٹروں کی طرف سے اپنے مطالبات یا کسی فوری واقعہ پر احتجاج کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی روک دی جاتی ہے۔ اسی طرح دیگر معاملات کی وجہ سے صارفین کو پٹرول کی فروخت بند کر دی جاتی ہے۔ پٹرول پمپوں پر صارفین کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، کاریں، رکشہ، موٹرسائیکل والوں ہی کو پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، ویگنیں اور بسیں بھی سڑکوں پر نہیں چلتی ہیں تو عوام آمدورفت کے لئے مارے مارے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کاروں، رکشاؤں اور موٹرسائیکلوں کو کئی کئی کلومیٹر تک دھکیل کر پٹرول تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اگر پٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کی گنجائش زیادہ ہو اور صارفین کو معلوم ہو کہ اگلے ایک ہفتے تک سپلائی نہ بھی ہونے کی صورت میں پٹرولیم مصنوعات ملتی رہیں گی تو انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں بھی دکھائی نہیں دیں گی۔ صارفین کو پٹرولیم مصنوعات کی بروقت اور مسلسل سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے ساڑھے سات ارب روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ لائق تحسین ہے کہ یہ منصوبہ کئی سال پہلے مکمل ہونا چاہئے تھا، تاہم مشکل وقت گزرنے کے بعد یہ مسئلہ حل کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پندرہ نئی کمپنیوں کو پٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اجازت دی گئی ہے۔ سٹوریج کی سہولتوں میں اضافے کا یہ منصوبہ اگلے تین سال کے دوران پایہ تکمیل کو پہنچے گا تو پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں رکاوٹ کا مسئلہ پریشانی کا باعث نہیں بنے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سٹوریج کی سہولتوں میں اضافے کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کرکے ریکارڈ مدت میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ جس طرح پنجاب میں کئی منصوبوں کو مقررہ مدت سے پہلے مکمل کیا جاتا رہا ہے، اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرے کی گنجائش بڑھانے کے منصوبے کو بھی ریکارڈ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش ہونی چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ