پارلیمنٹ آئین کی ماں ہے ؟

پارلیمنٹ آئین کی ماں ہے ؟
پارلیمنٹ آئین کی ماں ہے ؟

  


مملکتِ خداداد کا قیام کسی عسکری طاقت سے نہیں ہوا، بلکہ جمہوریت پر ایمان رکھنے والے ایک اصولی سیاستدان کی طویل سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے جس کی سب سے بڑی طاقت عوام تھے یا ان کی نمائندہ سیاسی جماعت مسلم لیگ ۔

اس ملک کو کسی نے فتح کیا ہے نہ کسی عدالتی فیصلے نے وجود بخشا ہے۔۔۔ یہ ملک جس جمہوری پراسیس سے معرضِ وجود میں آیا ہے اسی سے آگے بڑھ سکتا ہے ۔

یہ بھی یاد رہے کہ جس لمحے ہم نے یہاں ووٹ کی طاقت پرکسی دوسری طاقت کو ترجیح دی، یہ ملک دولخت ہو گیا۔ اب بھی اگر کسی ذہن میں یہ خمار ہے کہ وہ عوامی ووٹ یا رائے کو روند سکتا ہے تو وہ جان لے کہ اس طرزِ فکروعمل سے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔

ان دنوں یہاں بڑی بحثیں ہو رہی ہیں، موضوع ہے ’’اداروں کا احترام‘‘۔ تمام قومی اداروں کا احترام سر آنکھوں پر، مگر پہلے یہ تو جان لیں کہ کس ادارے کی کیا اہمیت ہے؟سب کو برابر نہ سمجھ لیجئے۔

مالک اور ملازم کے جوہری فرق کو کچھ تو ملحوظِ خاطر رکھیے، پھر بحث کیجیے۔۔۔ صرف ایک لفظ یاد کر رکھا ہے ’’اداروں کا احترام ‘‘۔۔۔ جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا۔۔۔؟

آج یہاں جعلی پروپیگنڈے کے زور سے حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے، دو فٹے کو چھ فٹا اور چھ فٹے کو دو فٹا بتایا جا رہا ہے ۔ مالک کو ملاز م اور ملازم کو مالک کی کرسی پر بٹھایا جا رہا ہے، یہ انصاف کے مقدس نام پر کیسی نا انصافی ہے ؟

ہم پوچھتے ہیں کہ پاکستان کے حقیقی وارث و مالک کون ہیں؟ اگر یہ ایک آئینی و جمہوری ریاست ہے تو اس کے مالک و وارث یہاں بسنے والے بیس کروڑ عوام ہیں جن کی نمائندگی منتخب پارلیمنٹ کرتی ہے ۔

آمریت کے برعکس ، جمہوریت کی جان و پہچان اس ابدی اصول میں پنہاں ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں جو اپنی تمناؤں کا اظہار اپنے منتخب کردہ ادارے پارلیمنٹ کے ذریعے کرتے ہیں ۔ اس کائنات میں اگر انسانی عظمت اتنی فائق و بلند ہے کہ دیگر تمام ملکوتی قوتیں بشمول فرشتے عظمت انسانی کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں تو پھر کسی دوسرے ادارے کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنا تقابل پارلیمنٹ کی عظمت سے کرے یا میڈیا پر اس نوع کے تقابلی جائزے لینا شروع کردیئے جائیں ۔

پارلیمنٹ کا فیصلہ ہر دیگر فیصلے پر حرف آخر ہونا جمہوریت کی روح ہے۔اس کو چیلنج انسانی عظمت کے ازلی و ابدی مسلمہ اصول و فیصلے کو چیلنج ہے۔۔۔ عظمتِ انسانی کوجس نے ایک مرتبہ چیلنج کیا تو ہمیشہ کے لئے آؤٹ ہو گیا، جبکہ یہاں وطنِ عزیز پاکستان میں مسلسل عظمتِ انسانی کے سمبل ادارے پارلیمنٹ کی عزت افزائی کی جاتی رہی ہے اور کسی میں اتنی قوت نہیں چھوڑی گئی کہ ایسی بغاوت کرنے والے کوغلط کہہ سکے، جنہیں شک ہے وہ حوصلہ کرتے ہوئے ذرا 70 سالہ تاریخ اور تاریخی فیصلوں پر ایک نظر ڈال لیں، یہاں کون کون سی زیادتیاں نہیں ہوئی ہیں۔آج بتایا جا رہا ہے کہ آئین پارلیمنٹ سے بالاتر ہے۔

بالکل بالا تر ہے، اسی لیے تو جو کوئی بھی آئین شکنی کرتا ہے، اس پر احتجاج کرنے کی بجائے اُس کے عبوری حکم نامے کو قبول کر لیا جاتا ہے ۔ وہ آئین جس کے تحفظ کی لوگوں نے قسم اٹھائی ہوتی ہے کہ جو اسے توڑے گااس کے خلاف اٹھیں گے، لیکن اب تک کتنے آئین شکنوں کو سزائیں دی گئی ہیں؟ آئین شکنی تو دور کی بات ہے،یہاں تو ملک توڑنے والوں کو پورے عسکری اعزاز کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جاتا رہا ہے ۔۔

آئین تو یہ کہتا ہے کہ تمام ادارے سویلین اتھارٹی کی ماتحتی میں کام کرنے کے پابند ہوں گے، لیکن جب بھی آزمائش کی گھڑی آتی ہے تو دیگر اداروں کا رول ان کے شایانِ شان نہیں ہوتا ہے۔

جسے شک ہے وہ اخباری فائلیں نکال کر ہر واقعہ ملاحظہ فرما لے، کیونکہ بہت سے حقائق کالم میں بیان نہیں کیے جا سکتے ۔

کس قدر ستم ظریفی کی بات ہے کہ یہاں جھوٹ لکھنے اور بولنے کی کھلی چھوٹ ہے، لیکن سچ لکھنا یا بولنا چاہیں تو ایک سو ایک پابندیاں ہیں۔ آج کی دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہوئے جن تہذیبی ا صولوں کا تقاضا کرتی ہے، بالآخر ہمیں انہیں سمجھنا پڑے گا۔۔۔اب ہم آتے ہیں آئین اور پارلیمنٹ کے رشتے پر جو مخلوق اور خالق کا ہے جو بچے اور ماں کا ہے ۔ بچہ ما ں کی تربیت اور اصلاح نہیں کرتا، بلکہ یہ مقام ماں کا ہے جو اپنے بچے کی خامیاں کوتاہیاں درست کرتی رہتی ہے ۔

سیدھی زبان میں ہم کہیں گے کہ پارلیمنٹ جب چاہے دو تہائی اکثریت سے آئین کی نوک پلک سنوار سکتی ہے، اس ترمیم کے بعد آئین میں جو بھی تبدیلی آئے گی، وہی اصل آئین ہو گا اورہم اس کے محافظ یا پہرے دار ہوں گے ۔ہمیں تشریح کے نام پر کسی ترمیم کا کوئی حق نہیں ہے، اس لیے کہ ہمارا تو اپنا وجود ہی اس آئین کا مرہون منت ہے ۔

یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ ہم میں سے کوئی کسی عہدے پر بھی ہو، وہ آئینی طور پر اس مملکت کا ملازم ہے، جس کے لیے ’’پبلک سرونٹ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جبکہ عوام کے منتخب نمائندے جو پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں، اُن کے لیے Public

Representative کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، زیا دہ بحثیں کرنے سے پہلے ان دونوں اصطلاحات میں موجود جوہری تفاوت کو ضرور پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے ۔

اینکرز کی خدمت میں بھی گزارش ہے کہ وہ دورانِ مباحثہ جب آئینی اداروں اور پارلیمنٹ پر مکا لمہ کرواتے ہیں تو وہ اس بنیادی فرق کی حقیقت اور مقام کو ضرور یاد رکھا کریں۔

بلاشبہ بنیادی انسانی حقوق کو کتابِ آئین سے کوئی بھی طاقت ختم نہیں کر سکتی، لیکن یہاں بنیادی انسانی حقوق کی تفہیم کہاں شامل کی جارہی ہے؟

ا گرچہ ہم نے بحیثیت ریاست اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس ڈیکلریشن پر دستخط کر رکھے ہیں، لیکن کیا کبھی کسی نے یہ ضرورت محسوس کی کہ اس چارٹر کو سلیبس میں شامل کرتے ہوئے اپنے نونہالوں کو اس کی آگہی میں مدد گار ثابت ہوں۔یہی تو وہ رونا ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی لوگوں نے بڑی زیادتیاں کی ہیں، لہٰذا زیادتیوں کا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے، جس کا جو کام ہے اُسے وہی کرنا چاہیے۔

ارکانِ پارلیمنٹ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اصل کام قانون سازی پر توجہ دیں ۔آخر میں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ اس وقت جتنی بھی چالیں چلی جا رہی ہیں، ان سب کے پیچھے یہ خدشہ کارفرما ہے کہ کہیں وطنِ عزیز میں دو تہائی اکثریت کی حامل ایسی مضبوط پارلیمنٹ نہ آ جائے جو تمام غیر جمہوری و غیر آئینی سوراخوں کو بند کرنے کا کام کرنے لگے، حالانکہ طاقت کے سامنے ایسی اکثریت رکھنے والی پارلیمنٹ یا اس کے منتخب محتر م قائد کی کیا حیثیت ہے، مگر خدارا شخصیات سے منافرت اور تعصب میں جمہوریت کی روح آئین اور پارلیمنٹ کے مقام کو مسخ نہ کریں ۔ تمام تر قومی فیصلے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے اس ملک کے بیس کروڑ عوام کوکرنے د یں۔

مزید : رائے /کالم