مستقبل کا سیاسی منظر نامہ

مستقبل کا سیاسی منظر نامہ
مستقبل کا سیاسی منظر نامہ

  

زندگی کھوکھلے نعروں سے نہیں، عمل سے بنتی ہے۔ نعرے وقتی طور پر لوگوں کا لہو گرمانے کے لئے تیز ترین نسخہ تو ہو سکتے ہیں، لیکن کامیابی کے لئے نعروں کو عمل میں ڈھا لنا لازم ہے۔عمل بھی وہ جو نیک نیتی سے کیا گیا ہو۔حضرت اقبالٖ نے فرمایا تھا:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری ہے

اگلے عام انتخابات سے پہلے سینٹ انتخابات ایک ٹریلر کے طور پر سیاسی جماعتوں کی سوچ عیاں کر رہے ہیں کہ سیاسی جماعتیں غریبوں اور عام پبلک کی نمائندگی کے جودعوے کرتی ہیں، وہ سب شعبدہ بازی ہے ۔نعرے غریبوں کے، ٹکٹیں ارب پتیوں کو۔عام پبلک کا درد محسوس کرنے کے اعلانات، لیکن دلجوئی سرمایا داروں کی۔

سلوگن روٹی ،کپڑے اور مکان کا، جبکہ چاہتوں اور نوازشوں کی بارش روٹی، کپڑا اور مکان چھیننے والوں پر ۔ نغمے حبیب جالب کے، مگر کوشش اسی فرسودہ نظام کو مسلط رکھنے کی۔

ہر جگہ احتساب اور انصاف کے ترانے، لیکن سرپرستی دولت کے پجاریوں کی اورعنایات ایلیٹ کلاس پر۔۔۔یہ خواب شائد عام پاکستانی کا خواب ہی رہ جائے کہ پارلیمنٹ و سینٹ میں اس کی نمائندگی اس کے طبقے سے ہی کوئی کرے گا۔

اگلے انتخابات کیا کوئی بڑی تبدیے لا سکیں گے ؟توجواب نفی میں ہے ۔ ایک تو ہمارا الیکٹورل سسٹم کسی نو ٹنکی سے کم نہیں جس میں پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کا کھیل کھیلا جاتا ہے اور پیسے والے ہی یہ عیاشانہ کھیل کھیل سکتے ہیں۔ دوسرا الیکشن کمیشن اس قدر کمزور اور غیر متحرک ہے کہ آج تک کسی حلقے سے اخراجات کے بے دریغ استعمال پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔۔۔گیم اب کروڑوں سے اربوں میں جاپہنچی ہے۔

ایسے شرمناک منظر دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ اخلاقی زوال پر گھن آتی ہے۔سننے میں آرہا ہے کہ ایم پی ایز نے خود پارٹی لیڈروں کو یہ پیغام بھجوایا کہ حضو ر اپنی پارٹی کی طرف سے سینٹ کے ٹکٹ مالدار لوگوں کو دیجئے گا جو ہمارے ووٹ کی ’’قدر ‘‘کرسکیں، ایسا نہ ہو کہ آپ کسی عام غریب نظریاتی کارکن کوٹکٹ دے دیں اور ہم مخالف پارٹی کو ’’اپنے ضمیر کے مطابق‘‘ ووٹ دینے پر مجبور ہوجائیں۔

پارٹی لیڈر بے بس تھے کہ وہ سینٹ امیدوار کے لئے ایسے مقدر کے سکندر تلاش کریں جو آڑھت کا کاروبار اچھے طریقے سے سمجھتے ہوں اور اچھا ریٹ لگا کر ایم پی اے کو پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ ڈالنے پر مجبور نہ ہونے دیں۔ایم پی اے کا جتنا منہ کھلا ہو، ان کے نوٹوں سے بھرے بریف کیس کا منہ اسے بھرنے کے لئے دوگنا کھل سکے۔

ہندوستان کے سابق صدر عبدالکلام نے جمہوریت کے بارے میں کیا خوبصورت بات کہی ۔۔۔ ’’پیسے سے آپ بڑا عہدہ خرید سکتے ہیں، لیکن اس کی عزت نہیں‘‘۔

ایسے لوگوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ جناب آپ کی پارٹی کے اتنے ووٹ تو تھے نہیں، پھر آپ کیسے سینٹر بن گئے؟ وہ آئیں بائیں اور شائیں کرنے لگتے ہیں۔کیسا اخلاقی زوال ہے،لیکن شائد ہمارے ہاں پیسے سے سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔

رہی عزت، تو جہاں عزت ہی پیسے کی ہو وہاں انسانی کردار کی کیا ضرورت ہے؟اندازہ لگایا جا سکتا ہے ضمیر خریدنے والے کل کو سینٹر بن کر کیا قانون سازی کریں گے اور ان کی کیسی عوام دوست پالیسیاں ہوں گی؟کیسی منڈی لگی ہوئی ہے، ضمیروں کے سودے کھلے عام ہو رہے ہیں۔

ضمیر فروشی جو کسی بھی مہذب معاشرے میں ایک قبیح فعل تصور ہوتی تھی، اخلاقی زوال کی انتہا دیکھیں تو اس پر آج لوگ نازاں ہیں۔

عدالت سے نااہلی کے بعد میاں صاحب نے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی سے جس طرح لوگوں کو متاثر کیا وہ تو سیاسی ضرورت تھی اور ان کے اس بیانئے کو مقبولیت بھی حاصل ہوئی، لیکن شریر مشیروں کے مشوروں پر جس طرح انہوں نے خود کو عدالتوں کے مقابل لا کھڑا کیا، وہ ناقابل فہم ہے۔

عہد مغلیہ گزرے صد یاں ہو گئیں ، مگر ہمارے حکمرانوں نے سرکاری کارپوریشنوں اور اداروں پر درباریوں کو مسلط کرکے بادشاہوں کی روایت زندہ رکھی ہوئی ہے ۔قصیدہ گو درباری بڑے طبیعت شناس ہوتے ہیں۔اکبر کا درباری ابوالفضل یاد آگیا۔

ابو الفضل کو جب اکبر کے سامنے لوہے کے پنجرے میں قید کرکے سزا کے لئے پہلی بار پیش کیا گیا کہ یہ شخص اپنے علم و مرتبے ا ور شاعری سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے اور لوگ اس کے دیوانے ہو رہے ہیں تو بادشاہ کے سزا سنانے سے پہلے ہی ابوالفضل نے دوسو پچاس اشعار کا ایسا کمال کا قصیدہ پڑھا کہ اکبر اس کی خوشامد سے متاثرہوکر اسے سزا دینے کی بجائے شاہی درباری کا رتبہ دینے پر مجبور ہوگیا۔بہر حال ان درباریوں کی صلاحیتوں کا ہمیں معترف ہونا پڑے گا ۔قصیدہ گوئی بھی ایک آرٹ ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ اس کے لئے ضمیر کو مردہ کرنا پڑتا ہے، لیکن جہاں سیاست ہی لاشوں پر ہورہی ہو، وہاں ضمیر کو مارتے ہوئے کہاں لاج آتی ہے۔حبیب جالب یاد آگئے:

ہر شاخ پہ برق تپاں ہے رقص کناں

فضائے صحن چمن تجھ پہ رحم آتا ہے

قدم قدم پہ یہاں پر ضمیر بکتے ہیں

میرے عظیم وطن تجھ پہ رحم آتا ہے

شاہی درباری ہوتے بڑے دلچسپ لوگ ہیں ۔ یہ کسی بادشاہ کے وفادار نہیں ہوتے ۔ ا ن کی وفاداری ہمیشہ تاج سے ہوتی ہے یہ تاج بے شک کسی انسان کے سر پر ہویا بچھڑے کے سر پر رکھ دیا جائے، یہ اس کے قصیدے کہنے شروع کر دیں گے۔

جزیرۂ اندلس پر معتمد علی اللہ کے خلاف معرکے میں امیر یوسف نے فتح حاصل کی اور معتمد اللہ کو معزول کرکے قید میں ڈال دیا اور اس کے سبھی قصیدہ گو درباری بھی قید کر لئے اور ان سب کو جب امیر یوسف کے سامنے پیش کیا گیا تو ایک درباری نے ان سہانے دنوں کی یاد میں درد ناک شعر سنا کر معتمد علی اللہ کو آبدیدہ کردیا۔ان اشعار سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شاہی قصیدے لکھنے والوں سرکاری اداروں کی چیئرمینیوں کے مزے لینے والوں کی اس وقت کیا حالت ہے۔

( میں جب آپ کے پچھلے روشن زمانے کو یاد کرتا ہوں تو صبح کی روشنی میری آنکھوں میں تاریک لگتی ہے۔ آپ کے عہد میں ہم صبح کے خواب شیریں میں تھے، لیکن جب آپ نہ رہے تو ہم اندھے ہو گئے)

اکبر کے بعد جب ہندوستان کی بادشاہت جہانگیر کو ملی تو ملکہ نورجہاں نے اسے سب سے پہلا جو مشورہ دیا، وہ یہ تھا کہ فوراً اکبر کے خوشامدی درباریوں کی چھٹی کرا دیں۔

نور جہاں کا خیال تھا کہ خوشامدی، درباری اور شاہی قصیدہ گو چونے اور مٹی کی وہ ڈھیری ہیں جو گندگی کے اوپر ڈال کر اسے ڈھانپ کر ہم اپنی آنکھ کو دھوکہ دیتے ہیں۔

نور جہاں کا خیال تھا کہ شاہی دربار میں ایسے چاپلوسوں کی بجائے حقیقت پسند لوگ ہونے چاہئیں۔۔۔سینٹ انتخابات دیکھ کرہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ سیاست شعبدہ بازی کا روپ دھار چکی۔

جادوگر کا لفظ زمانہ قدیم میں ان عاملوں کے لئے بولا جاتا تھا جو اپنے عمل سے حیرت انگیز کرتب دکھا کرلوگوں کو خیرہ کردیتے تھے۔ہمارے آج کے سیاستدانوں کی سیاسی جادوگری دیکھیں تو پرانے وقتوں کے بڑے بڑے سامری جادو گران کے سامنے معمولی بلونگڑے لگتے ہیں جو ایک چھوٹے سے مجمع کو ہپناٹائز کر دیتے تھے، یہ تو کروڑوں لوگوں کی عقل پر پردہ ڈالنے کا فن اس قدر مہارت سے استعمال کرتے ہیں کہ عوام کو پانچ سال تک اس کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔

سینٹ انتخابات اور اس کے بعد سینٹ کے چیئر مین و وائس چیئر مین کے انتخاب نے یہ بات بہت اچھی طرح واضح کر دی ہے کہ عام انتخابات میں بھی جو جتنا دولت مند ہو گا، وہ اتنا فتح مند ہوگا ۔پس پردہ کھیل جاری ہے اور انتخابات وہی جماعت جیتے گی جو اصل کھلاڑیوں کو خوش کرنے کے لئے کمپرومائز کرے گی۔یہاں جو جتنا طاقتور ہے وہ اتنا بخت آور ہوگا۔

عام آدمی کے لئے یہاں کوئی نمائندگی نہیں ، چاہے وہ پی ایچ ڈی کرلے۔ سارا حق اسی ایلیٹ کلاس کے ہکلاتے خالی دماغ برگر بچوں کے لئے ہے۔ایسے لوگ جو اہلیت نہیں رکھتے اور پیسے سے سیٹ خریدتے ہیں۔

ان کے ہوتے سسٹم میں بہتری کی امید بے وقوفی ہی کہی جا سکتی ہے ۔جو شخص جس پوسٹ کا اہل نہ ہو، اسے اس پوسٹ پر لگاکر بہتری کی امید ایسے ہی ہے جیسے دیمک زدہ ٹہنی کو زمین میں بو کر نیا شجر اگنے کی امید لگانا۔

مزید : رائے /کالم