چیئرمین سینٹ کا انتخاب: اچھا کھیلنے والے جیت گئے

چیئرمین سینٹ کا انتخاب: اچھا کھیلنے والے جیت گئے
چیئرمین سینٹ کا انتخاب: اچھا کھیلنے والے جیت گئے

  


عجیب بات ہے کہ جو کام اظہار تشکر کے متقاضی ہیں، اُن میں کیڑے نکالے جاتے ہیں۔ آج سے دو چار مہینے پہلے تک یہ کہا جاتا تھا کہ سینٹ انتخابات میں رخنہ ڈالنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔

یہ انتخابات بروقت نہیں ہوں گے اور مارچ سے پہلے اسمبلیوں کو چلتا کیا جائے گا۔ اُس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات تک بھی نوبت آئے گی۔

آج جب یہ جمہوری عمل مکمل ہوگیا ہے اور ایوان بالا کی تشکیل نو ہوچکی ہے تو بجائے شکر کرنے کے کہ سب کچھ آئین و قانون کے مطابق پایۂ تکمیل کو پہنچا، اس میں خفیہ ہاتھ تلاش کئے جارہے ہیں۔ یہ خفیہ ہاتھوں والی تھیوری اب ختم ہونی چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) سینٹ کی اکثریتی جماعت بن گئی ہے، ہم سازشی تھیوری کو یہاں تو بھول جائیں اور سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کو متنازعہ قرار دیں، یہ جمہوری عمل کو فائدہ نہیں نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو مان لینا چاہئے کہ وہ اپنی 33 نشستوں کے ساتھ بیس اور ممبران ملانے میں ناکام رہی۔

اس میں جو بھی عوامل کار فرما رہے، حتمی نتیجہ یہی نکلا ہے کہ سینٹ کے 57 ارکان نے اپنے اکثریتی فیصلے کے ذریعے ایوان کے سربراہ کو منتخب کیا۔ حکومت ہونے کے باوجود اگر مسلم لیگ (ن) اپنا چیئرمین بنوانے میں ناکام رہی تو اسے کسی اور کے کھاتے میں ڈالنے کی بجائے، اس کی وجوہ اپنے گھر میں تلاش کی جانی چاہئیں۔

یہ کہنا بہت عام سی بات ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے کام دکھا دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کیا ہوا میں تیر چلاتی ہے اور زیر کو زبر کردیتی ہے؟ کچھ تو مسلم لیگ (ن) اپنی اداؤں پر بھی غور کرے۔

نااہلی کے بعد سے نواز شریف نے جو بیانیہ اختیار کیا، اُسے سیاسی سطح پر کتنی پذیرائی ملی؟۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کے حامی وکارکن تو اپنے قائد کے ساتھ ہیں، مگر جو دیگر سیاسی قوتیں ہیں، وہ اس کی حمایت نہیں کررہیں۔ اس بیانیہ کے ساتھ نواز شریف اپنے سیاسی مستقبل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

وہ سیاسی طور پر تنہا ہوتے جارہے ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ مسلم لیگ (ن) یہ دعویٰ کررہی تھی کہ اُس کی نمبر گیم پوری ہے، بلکہ کچھ اضافی ووٹ بھی حاصل ہو چکے ہیں۔۔۔ کہاں گئے وہ اضافی ووٹ؟۔۔۔ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ خود مسلم لیگ (ن) کے اپنے سینیٹرز میں سے کچھ نے آخر وقت پر بغاوت کردی۔

بالفرض مشاہد اللہ کی انتخاب سے پہلے کی گئی یہ بات مان لی جائے کہ انہیں 57 سینیٹرز کی حمایت حاصل ہوگئی ہے، تو پھر گیارہ سینیٹرز کہاں گئے؟ صرف 46سینیٹرز نے راجہ ظفر الحق کو ووٹ کیوں دیئے۔

کیا ان گیارہ سینیٹرز میں سب اتحادی جماعتوں کے تھے یا اُن کا تعلق مسلم لیگ سے بھی ہے؟ سینٹ چیئرمین کے انتخاب سے ایک دن پہلے تک نواز شریف کو جو لوگ حمایت کا یقین دلاتے رہے، کیا وہ کسی خفیہ اشارے پر بدل گئے، کیا ایسا ممکن ہے کہ وہ ایسے کسی اشارے پر خاموش ہو کر سر تسلیم خم کرگئے ہوں۔۔۔ اگر اُن کے معاملات نواز شریف سے طے ہوگئے تھے تو وہ یکطرفہ طور پر آخر وقت پر کیسے بدل گئے؟ وہ یہ بات نواز شریف کے نوٹس میں کیوں نہیں لائے کہ اُن پر دباؤ ڈالا جارہا ہے، ایسا تو کسی نے بھی کچھ نہیں کیا، اس کا مطلب ہے جو کچھ ہوا، وہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی ناکامی کے باعث ہوا۔

دوسری طرف اپوزیشن نے بہت اچھی اننگ کھیلی۔ فیصلہ تو تبھی ہوگیا تھا، جب دوبڑی سیاسی جماعتیں چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے ناموں پر متفق ہوگئیں۔ سب سے مشکل مرحلہ تو یہی تھا، جسے طے کرلیا گیا، اُس کے بعد تو بہت کانٹے دار مقابلہ تھا۔

اسحاق ڈار کے ووٹ کو نکال کے مسلم لیگ (ن) کے پاس بھی 32ووٹ تھے اور پیپلز پارٹی و تحریک انصاف کے بھی 32ووٹ موجود تھے۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ اچھی گیم کون کھیلتا ہے۔

عمران خان نے بلوچستان سے سینٹ کے چیئرمین کا پتہ پھینک کر سب کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ گویا اب دونوں بڑی سیاسی جماعتوں، یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لئے ممکن نہیں تھا کہ وہ آپس میں اتحاد کئے بغیر چیئرمین سینٹ لاسکیں۔

نواز شریف نے رضا ربانی کو اپنی طرف سے نامزد کرکے یہ بات تسلیم کرلی تھی کہ اُن کا اُمیدوار انفرادی طور پر کامیاب نہیں ہوسکتا، اس لئے گیند پیپلز پارٹی کے کورٹ میں ڈال دی، وہ یہ نہ کرتے تو شاید اپوزیشن اکٹھی نہ ہوتی۔ آخر وقت تک اُمیدوار کا نام فائنل نہ کرنے کی وجہ سے بھی مسلم لیگ (ن) کی گرفت کمزور ہوئی۔ پھر راجہ ظفر الحق کوئی ایسے اُمیدوار نہیں تھے، جن کے لئے سینیٹرز میں یہ خیال پیدا ہوتا کہ نواز شریف اپنے بیانیہ کے مطابق چیئرمین سینٹ لانا چاہتے ہیں؂ رضا ربانی جیسے پارلیمنٹ کے حق میں بولڈ خیالات رکھنے والے اُمیدوار کی جگہ راجہ ظفر الحق کا انتخاب اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھیوری کے خلاف تھا۔

ہاں اگر نواز شریف سینیٹر پرویز رشید یا سینیٹر مشاہد اللہ کو میدان میں اُتارتے تو بات کچھ اور ہوتی۔اس انتخاب میں سب سے بڑا ٹرمپ کارڈ بلوچستان کی صورت میں کھیلا گیا، کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ بلوچستان کو نظر انداز کیا جائے۔ بلوچستان کے وہ سینیٹرز بھی، جو وہاں آزاد گروپ کا حصہ نہیں، فطری طور پر بلوچستان کے اُمیدوار کی حمایت پر مجبور ہوگئے ہوں گے۔

حاصل بزنجو ایک اور اچھا آپشن ہوسکتے تھے، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر انہیں چیئرمین سینٹ کے لئے سامنے نہیں لایا گیا۔ اب ظاہر ہے، جب آپ سیاست کے بنیادی عوامل کو پیش نظر رکھ کر فیصلے نہیں کریں گے تو مشکلات میں گھر جائیں گے۔

ایک زرداری سب پر بھاری، اس لئے ثابت ہوئے کہ انہوں نے کہیں پسپائی اختیار کی اور کہیں قدم آگے بڑھائے، ایک جگہ پر جمے رہنے سے وہ کبھی بھی نواز شریف کے اُمیدوار کو شکست نہ دے سکتے، اُن کے لئے سب سے مشکل کام یہ تھا کہ کسی طرح تحریک انصاف کو اپوزیشن اتحاد میں شامل کیا جائے، جو عمران خان کے آصف علی زرداری مخالف موقف کی وجہ سے آسان کام نہیں تھا۔

وہ اگر سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین سینٹ بنانے پر بضد رہتے تو شاید آج مسلم لیگ (ن) کا حمایت یافتہ اُمیدوار چیئرمین سینٹ ہوتا۔

وہ آخر وقت تک یہ کوشش کرتے رہے کہ بلوچستان سے ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عوض سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین بنوالیں، مگر عمران خان بڑی خوبصورتی سے سیاسی چال چل چکے تھے، اب اُن کے لئے پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی، جبکہ دونوں کا سیاسی ایجنڈا یہی تھا کہ کسی طرح نواز شریف کا نامزد کردہ چیئرمین سینٹ روکا جائے۔

اس نکتے پر اتفاق رائے کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف آگ اور پانی کی صورت ایک ہوگئے۔ جب یہ سب سے بڑی مشکل حل ہوگئی تو باقی ساری رکاوٹیں دور ہوتی چلی گئیں۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ نواز شریف اس گٹھ جوڑ کر توڑنے یا ناکام بنانے کے لئے کوئی بڑی چال چلتے، مگر انہوں نے اپنے روایتی اتحادیوں کو ساتھ ملانے پر اکتفا کیا اور یہ سوچ کر بیٹھ گئے کہ نمبرز گیم اُن کے حق میں ہوگئی ہے۔۔۔سینٹ کے انتخابات اور بعدازاں چیئرمین سینٹ کو منتخب کرنے تک جو کچھ ہوا ہے، اسے مستقبل کے سیاسی نقشے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک بڑے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔

میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اس بار شاید پنجاب بھی اُس کے ہاتھوں سے نکل جائے۔ یہ بات توواضح ہوچکی ہے کہ نواز شریف کا راستہ روکنے کے لئے اپوزیشن متحدہ ہوسکتی ہے۔

ممکن ہے عام انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹ منٹ کی جائے یا پھر جیتنے کے بعد حکومت سازی پر اتفاق کرلیا جائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ نواز شریف ٹھنڈے دل سے صورت حال کا جائزہ لے کر اپنی جماعت کا مستقبل کے لئے لائحہ عمل طے کریں۔

ابھی تو مسلم لیگ(ن) حکومت میں ہے، لیکن کامیاب نہیں ہوپارہی، جب حکومت میں نہیں ہوگی تو شیرازہ بکھرے سے کیسے روک سکے گی؟ سینٹ انتخابات آغاز سے لے کر تکمیل تک بہت کچھ واضح کرگئے ہیں، اگر اب بھی کسی کو سمجھ نہیں آرہی تو اس کا علاج میرے چارہ گرکے پاس نہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم