جامعہ نعیمیہ میں افسوسناک واقع، ملک بھر سے ہر طبقہ فکر نے مذمت کی

جامعہ نعیمیہ میں افسوسناک واقع، ملک بھر سے ہر طبقہ فکر نے مذمت کی

مسئلہ یہ نہیں، کیا ہوا، کیوں ہوا، سوال یہ ہے ایسا ہوا تو اس کی وجوہات کیا ہیں، معاشرہ کس طرف جا رہا ہے۔ ہم تو جس خطے کے باسی ہیں، وہاں بڑے کو میاں صاحب کہہ کر بلایا جاتا ہے۔ یہ ہماری معاشرت اور خصوصی طور پر دیہی انداز زندگی ہے اور پھر ہم تو اس نبی پاکؐ کے نام لیوا ہیں جن کی مکمل تعلیم ہی اخلاق ہے بلکہ کہنے والے تو کہتے ہیں، اسلام کے معنی ہی اخلاق ہیں، لیکن اسی معاشرے میں اتنی بے راہ روی، کہاں یہ کہ گالیاں کھا کر بے مزہ نہ ہوا اور کہا ہم پیروکار کہ بھرے مجمع میں کسی راہنما کا منہ کالا کر دیں اور کسی قائد کی طرف جوتا اچھال دیں۔ یہ تو برداشت ختم ہونے کی حد ہے، یہ کلچر امریکی صدر بش پر جوتا پھینکنے سے شروع ہوا اور بھارت میں پروان چڑھا لیکن پاکستان میں اس کی گنجائش نہیں تھی، یہاں تو محاذ آرائی فضا پیدا کرتی جا رہی ہے۔ معاشرے میں تقسیم در تقسیم ہونے لگی ہے۔ اب یہ سوچ پیدا ہوئی ہے کہ برداشت کا مادہ کم ہو گیا ہے اور اسے اور وسعت نہیں ملنا چاہئے۔

سابق وزیراعظم محمد نوازشریف ایک بڑی جماعت کے قائد ہیں، ان کے ساتھ اختلاف ہو سکتا ہے لیکن توہین کا حق کسی کو نہیں، جامعہ نعیمیہ میں ہونے والے واقعے بلکہ حادثہ کی سب نے مذمت کی، اطمینان ہوا لیکن بھلا ہو سیاست کا کہ اب پھر مین میخ نکالی جا رہی ہے۔ حالانکہ پہلا ردعمل بہت ہی مثبت تھا اور یہ اپیل بھی درست تھی کہ تشدد اور عدم برداشت کے رحجان پر قابو پایا جائے۔ اس سلسلے میں یہی رویہ ہونا چاہئے جو مطلب نکالنا شروع کر چکے وہ یہیں رک جائیں۔ ان کو غور کرنا چاہئے یہ کوئی الگ تھلگ واقع نہیں۔ اس رحجان والوں کے ہاتھوں دو قتل بھی ہو چکے ہیں، اس لئے بہتر یہ ہے کہ اس کا سدِباب کیا جائے اور غور کے بعد مثبت لائحہ عمل مرتب ہو۔

لاہور میں امام کعبہ الشیخ صالح بن ابراہیم آل طالب کی آمد اور مصروفیات نمایاں رہیں، حرمین شریفین سے جب بھی ایسے معزز مہمان تشریف لائیں، پاکستان والے دیدہ و دل فرش راہ کرتے ہیں۔ امام کعبہ کی بھی بہت پذیرائی ہوئی، مرکزی جماعت اہل حدیث متحد ہو گئی اور انہوں نے کانفرنس سے خطاب کیا، نماز جمعہ کی امامت کرانے کے علاوہ متعدد مساجد میں مختلف اوقات میں ان کے اقتدا میں نمازیں بھی پڑھی گئیں۔ امام کعبہ الشیخ صالح بن ابراہیم نے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے بھی ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ نے ان کے ساتھ عربی میں بات چیت کی اور ماحول بہت ہی خوشگوار رہا۔ امام کعبہ نے عالم اسلام کے مسائل پر بات کی اور امہ کو متحد ہونے کی تلقین کی۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی کو سراہا اور افواج پاکستان کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا کہ یہ فوج عالم اسلام کی فوج ہے۔ انہوں نے دہشت گردی اور فرقہ پرستی کی بھی مذمت کی۔

چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار اپنے کہنے کے مطابق جہاں ہفتہ کی چھٹی کے روز بھی کام کر رہے ہیں اور ضرورت کے مطابق اتوار بھی عدالتی کام میں لگا دیتے ہیں، ہفتہ رفتہ میں وہ لاہور میں تھے یہاں انہوں نے عدالتی کام نمٹایا تو ساتھ ہی سروسز ہسپتال اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا بھی دورہ کیا۔ دونوں ہسپتالوں کی انتظامیہ نے کوشش کرکے حالات کو موافق بنایا تاہم پریشان مریض اور ان کے لواحق فریاد کرتے رہے اور چیف جسٹس نے بعض احکام بھی دیئے اور کہا کہ ان کو تنقید کی فکر نہیں۔ عوامی بہبود کے لئے کوئی خدمت نیک عمل ہے۔

موسم میں تبدیلی شروع ہو گئی، درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، صفائی کی حالت تو بہتر ہو ہی نہیں پا رہی کہ اب پانی کی قلت اور لوڈشیڈنگ میں اضافے کی بھی اطلاعات آنا شروع ہو گئی ہیں۔ لاہور میں بھی کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ پانچ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ اس دوران مرمت کے نام پر روزانہ سو سے زیادہ فیڈرز سات سے آٹھ گھنٹے کے لئے بھی بند کر دیئے جاتے ہیں، یوں عوام کو وزیر محترم کی یقین دہانی اور اعلان پر اعتبار نہیں آ رہا۔

مزید : ایڈیشن 1