بہاول پور کا جلسہ اور نواز شریف کا اعلان بغاوت، سینٹ کا حیران کن الیکشن

بہاول پور کا جلسہ اور نواز شریف کا اعلان بغاوت، سینٹ کا حیران کن الیکشن

سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے

سپرد دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے

آحر کار سینٹ آف پاکستان کے الیکشن کے بعد چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین بھی منتخب کر لئے گئے جس کے لئے گذشتہ کئی روز سے سیاسی جوڑ توڑ جاری تھا چونکہ مسلم لیگ ن سینٹ میں سنگل لارجسٹ پارٹی تھی لہٰذا سیاسی طور پر یہی سمجھا جا رہا تھا کہ وہ اپنا چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین منتخب کروا لیں گے لیکن بلوچستان کے ایک آزاد سینیٹر کا چیئر مین منتخب ہونا اور وہ بھی دو انتہائی حریف سیاسی جماعتوں کے تعاون سے یہ ایک اپنی جگہ سیاسی اپ سیٹ ضرور ہے لیکن اس کے پیچھے جو سیاست کار فرما ہے وہ بالکل واضح ہو رہی ہے شاید یہی وجہ تھی کہ چند دن قبل بہاولپور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے واضح اعلان کر دیا تھا کہ 70 سال سے ملک کی سیاست میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے بغاوت کرتا ہوں اور اب حق مانگیں گے اگر نہ ملا تو چھین لیں گے انہوں نے اسی جوڑ توڑ کے حوالے سے واضح کہا کہ کسی کو ووٹ کی عزت پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے اور عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ سیاسی دشمنی تو ہم سے چل رہی تھی لیکن ہتھیار زرداری کے سامنے ڈال دئیے، اب یہ بات بڑی حیران کن اور سیاسی بصارت سے عاری لگتی ہے کہ اپنے آپ کو اپوزیشن قرار دینے اور بات بات پر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف پر شدید ترین تنقید کرنے والے قومی سطح کے سیاستدان اور تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے انتہائی غیر سیاسی انداز میں سینٹ میں اپنی تمام نشستیں وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے حوالے کر دیں ادھر پیپلز پارٹی نے بھی کم و بیش یہی طریقہ کار اپنایا اور چیئر مین کے لئے اپنے امیدوار سلیم مانڈوی والا کو ڈپٹی کی نشست پر لا کر وزیر اعلیٰ بلوچستان کے نامزد صادق سنجرانی کو اپنا امیدوار ڈیکلیئر کر دیا یہی نہیں بلکہ اس موقعہ پر ن لیگ کی میاں رضا ربانی کو دوبارہ چیئر مین بنانے کی آفر کو بھی انکار کر دیا اور انہیں آئندہ الیکشن کے بعد بہتر ایڈجسٹمنٹ کرنے کا وعدہ دے دیا تاہم ن لیگ نے بہت کوشش کی، شاید دیر ہو چکی تھی اور فیصلہ کہیں اور ہو چکا تھا کہ کس کو کیا عہدہ ملنا ہے کیونکہ سینٹ کے دونوں عہدوں پر کامیاب ہونے والے اتنے سیاسی نہیں مگر کاروباری ضرور ہیں سلیم مانڈوی والا کے بارے میں ان کا نام ہی کافی ہے لیکن صادق سنجرانی کو شاید عام لوگ نہ جانتے ہوں کہ وہ کبھی بھی سیاست میں متحرک نہیں رہے ان کا تعلق خان بہادر خاندان سے ہے یعنی انگریزوں کے مراعات یافتہ خاندان ہے یونیورسٹی آف بلوچستان سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کی ان کے ایک کزن عاطف سنجرانی 1997 سے 1999 تک رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں جبکہ ایک اور کزن مہر امان اللہ سنجرانی چاغی ہی سے بلوچستان اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں صادق سنجرانی سیاست میں نہ ہونے کے باوجود حکومت کے ہائی پروفائل عہدوں پر کام کر چکے ہیں 1999 میں جب نواز شریف کی حکومت تھی وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے شکایت سیل کے کوارڈینیٹر رہے پھر دس سال بعد اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے معائنہ کمیشن کے رکن اور پھر چیف کوارڈینیٹر اور پھر مشیر کے طور پر بھی کام کیا جبکہ اس وقت مائننگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ہیں جبکہ نیشنل انڈسٹریل پارکس ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی اور حب پاور کمپنی میں ہیومن ریسورسز کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں ان کے والد خان محمد آصف سنجرانی ضلع کونسل چاغی کے رکن ہیں جبکہ ایک بھائی رزاق سنجرانی سینڈیکیٹ پراجیکٹ میں ڈائریکٹر اور دوسرے بھائی مہر محمد سنجرانی سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کے مشیر رہ چکے ہیں صادق سنجرانی کا عوامی سیاست سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا بلکہ ان کی پہنچان ہمیشہ ایک کاروباری شخصیت کے طور پر رہی ہے ان کے متعدد کاربار ہیں جو دوبئی تک وسیع ہیں ایف ڈبلیو او اور این ایچ اے میں ٹھیکیداری کے ساتھ ساتھ اس وقت بلوچستان میں سی پیک کے حوالے سے کاموں میں بھی ان کا خاصا عمل دخل ہے یعنی دوسرے لفظوں میں دو بڑی کاروباری شخصیات اس وقت پاکستان کے ایوان بالا کے رکن بن چکے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سلیم مانڈوی والا اور صادق سنجرانی دونوں آصف علی زرداری کے قریبی سمجھے جاتے ہیں لہذا اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ دراصل سینٹ کا انتخاب آصف زرادری نے ہی جیتا ہے اس میں تحریک انصاف اور اس کے چیئر مین عمران خان کہاں نظر آرہے ہیں؟اس وقت تک یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایک نہیں دو نہیں بلکہ سات سیاسی جماعتوں نے اکٹھا ہو کر ن لیگ کو شکست دی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان کو اس حد تک اکٹھا کس نے کیا یہ وہ سوال ہے جو گھومتا رہے گا اور اس کا جواب 2018 کے انتخابات میں ملے گا کیونکہ سیاست کے افق پر جو دکھائی دے رہا ہے وہی درست ہے۔

موجودہ حکومت نے پرائیویٹ پاور کمپنیوں کا قرضہ ادا کرنے کے 2008 میں عائد کردہ نیلم جہلم سر چارج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بجلی کے صارفین سے 100 ارب روپے اضافی وصول کیے جا سکیں وزارت توانائی نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے باقاعدہ درخواست کی ہے کہ انہیں صارفین سے تین سرچارجز کی وصولی جاری رکھنے کی اجازت دی جائے ان سرچارجز میں ٹیرف ریشنلائزیشن، فنانسنگ کاسٹ اور نیلم جہلم سرچارج شامل ہیں سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ نیلم جہلم سر چارج 10 پیسے فی یونٹ اور فنانسنگ کاسٹ سرچارج 43 پیسے فی یونٹ اور ریشنلائزیشن سر چارج 1.82 روپے یونٹ یعنی مجموعہ طور پر 2.35 روپے فی یونٹ وصول کیے جائیں گے یہ سر چارجز مسلم لیگی حکومت نے مارچ، اپریل 2014 میں عائد کیے تھے جس کی وجہ سے بجلی کے نرخ بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے بڑھ گئے تھے جب صارفین نے عدالتوں میں ان سر چارجز کو چیلنج کیا تو نیپرا نے انہیں پاور ٹیرف کا حصہ بنانے پر رضا مندی ظاہر کی تاکہ صارفین کو ریلیف نہ مل سکے وفاقی حکومت نے نیپرا ایکٹ کی دفعہ 31 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے تینوں سرچارجز برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اسی طرح قرضوں کی ادائیگی کے لئے تمام کیٹیگریز کے صارفین سے 43 پیسے فی کلو واٹ پاور عائد کیا ہوا ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ عالمی اداروں کے دباؤ کے تحت حکومت نے ایک سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ (سی پی پی اے جی ایل) بنائی ہوئی ہے جو فنانسنگ کاسٹ فنڈ جمع کرتی ہے یہ فنڈ تمام صارفین سے فنانسنگ کاسٹ سر چارج کے نام پر وصول کیا جاتا ہے۔

خواتین کا عالمی دن گذشتہ روز منایا گیا سماجی و سیاسی تنظیموں کی جانب سے خواتین کے حقوق اجاگر کرنے بارے آگاہی واک، ریلیاں منعقد ہوئیں مذاکروں، سیمینارز میں خواتین کے ملکی ترقی میں نمایاں کردار کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے سول سوسائٹی کی جانب سے بھی ’’ہم مائیں، ہم بیٹیاں اور قوموں کی عزت ہم سے ہے‘‘ کے تصور کو ابھارنے کے لئے تقریبات کا اہتمام کیا گیا تقریبات میں مقررین نے وجود زن سے ہے تصویر کائنات کے رنگ کی حقیقت کو برملا تسلیم کیا ہے ملتان میں پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین، پاکستان تحریک انصاف شعبہ خواتین، خواتین کمیٹی میونسپل کارپوریشن، سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی شعبہ خواتین سمیت سماجی تنظیموں کی جانب سے تقریبات اور ریلیو کا اہتمام کیا گیا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1