’’مثبت نتائج‘‘ کے لئے متحارب سیاسی قوتوں کو متحد کرنے کا کامیاب تجربہ

’’مثبت نتائج‘‘ کے لئے متحارب سیاسی قوتوں کو متحد کرنے کا کامیاب تجربہ

جناب سید ضمیر جعفری مرحوم کا یہ شعر آج بھی ہمارے حسب حال ہے :

جب تلک آمر پلیں گے ’’پارلیمانوں ‘‘ کے بیچ

تب تلک جمہوریت بھی خیمہ لشکر میں ہے

اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ سینٹ کے ارکان کے انتخاب کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب بھی ہو گیا۔ جس کے بارے میں سال بھر سے کہا جا رہا تھا کہ سینٹ کے انتخاب نہیں ہوں گے۔ یہ الگ بات ہے۔انتخاب میں سندھ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں چمک کی چاندی کی چارہ گری اور ’’بالادستوں کی طاقت‘‘ نے جو منظر تخلیق کیا اس کی آہ و بقاء کرنے والی ان سیاسی جماعتوں نے بھی سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں وہی کردار ادا کیا ہے۔جس کا رونا وہ اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر رو رہے تھے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) جس کے پاس 104کے ایوان میں 34ارکان کی تعداد کے ساتھ واضح اکثریت تو نہیں تھی، مگر وہ ایوان میں عددی برتری کے اعتبار سے سب سے بڑی جماعت ضرور تھی اور اس کا اور اس کے اتحادیوں کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کرانے کے لئے مطلوبہ اکثریت 53 ارکان کیحمایت حاصل ہے، مگر نتیجہ اس کے برعکس برآمد ہوا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سات ووٹ کیسے کم ہو گئے؟ اس کے لئے حکمران جماعت اور اتحادیوں کو اپنی اپنی ’’چارپائیوں‘‘ کے نیچے جھانکنے کی بھی ضرورت ہے اور اپنے طرز عمل کا خود احتسابی کے ساتھ جائزہ بھی لینا ہوگا، ورنہ آنے والے دنوں میں جو کچھ ہونے جا رہا ہے اس سے عہدہ برا ہونا محض سڑکوں پر بڑے بڑے جلسوں سے ممکن نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی اس ’’بیانیہ‘‘ کی مقبولیت سے، جسے لے کر حکمران جماعت 2018ء کے عام انتخابات میں جانے کا عزم رکھتی ہے۔ میاں نواز شریف آج ملک کے مقبول عام لیڈر ہیں، مگر مقبولیت کی یہ لہر اسی وقت انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے لئے کارگر ہو سکے گی۔ جب مسلم لیگ (ن) کے بارے میں یہ ’’تاثر‘‘ قائم رہے گا کہ وہ متحد ہے اور رہے گی اس کے لئے مسلم لیگ (ن) کے قائد جناب میاں نوازشریف کو بانی پاکستان قائداعظمؒ کے بحیثیت آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ، اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ طرز عمل کو رول ماڈل بنانا ہوگا جو وہ اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ کرتے تھے جو قائد اعظم، آل انڈیا مسلم لیگ کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں میں یا کھلے اجلاسوں میں ان سے اختلاف کرنے والوں کے ساتھ روا رکھتے تھے۔ یہاں دو مثالیں دینا کافی ہوں گی۔ نواب اسماعیل خان مرحوم 1945ء میں ایک بار قائداعظم سے ذاتی شکایت کی وجہ سے اجلاس سے یہ کہہ کر چلے گئے تھے کہ میں نہ تو مسلم لیگ سے الگ ہو رہا ہوں اور نہ ہی مجھے مسلم لیگ کے مقصد سے کوئی اختلاف ہے۔ نواب اسماعیل خان کے چلے جانے کے بعد قائداعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل نواب زادہ لیاقت علی خان کو کہا کہ آپ ان کو منا کر لے کر آئیں۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کا جواب تھا کہ وہ مسلم لیگ سے ناراض ہو کر جاتے تو بحیثیت سیکرٹری جنرل ان کو منا کر لانے کی ذمہ داری میری تھی، مگر وہ تو جناب سے ناراض ہو کر گئے ہیں۔ ان کو منانا آپ کی ذمہ داری ہے البتہ ہم آپ کے ہمرکاب ہوں گے۔ قائداعظم اسی وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ نواب اسماعیل خان (مرحوم) کو منانے کے لئے میرٹھ گئے اور منا کر واپس لائے۔ ایک موقع پر مولانا حسرت موہانی مرحوم نے جلسہ عام میں قائداعظم کی موجودگی میں ان کی رائے سے اختلاف کیا تودیگر قائدین نے مولانا حسرت کی توجہ دلائی کہ اس کے اظہار کا یہ مناسب فورم نہیں ہے تو قائداعظم جو اس جلسہ کی صدارت فرما رہے تھے۔ اٹھے اور لوگوں کو منع کیا کہ وہ مولانا حسرت موہانی کی تقریر میں مداخلت نہ کریں۔ انہیں حق ہے کہ وہ اپنا اختلاف جس فورم پر کرنا چاہیں کریں۔قائداعظم نے تقسیم ہند کے برطانوی فارمولے کی اس شرط کے ساتھ منظوری دی تھی کہ اگر اس پلان کو آل انڈیا مسلم لیگ کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی بھی منظور کرے۔ اس پر سنٹرل کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان کے صدر قاضی عیسیٰ مرحوم (سپریم کورٹ کے موجودہ جج جناب جسٹس فائز عیسیٰ کے والد) نے دریافت کیا کہ کیا آپ برطانوی حکومت کے فارمولے سے متفق نہیں ہیں جس پر قائداعظم نے جواب دیا تھا کہ میں متفق نہ ہونا تو اس کو منظور ہی کیوں کرتا، جس پر قاضی عیسیٰ نے سوال کیا کہ پھر آپ نے سنٹرل کمیٹی کی منظوری کی شرط کیوں لگائی؟ جس پر قائداعظم نے جو جواب دیا تھا، وہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے ہی قابل ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے لئے اسے اصول کے طور پر اپنانا چاہیے۔قائداعظم نے قاضی عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میں ایسا نہ کرتا تو غلط کرتا، کیونکہ میرے ساتھ حصول پاکستان کی جدوجہد میں شریک نہ تو میرے ذاتی ملازم ہیں اور نہ ہی یہ لوگ کسی کے مزارع ہیں۔ یاد رکھنا سیاسی جدوجہد اسی وقت کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے جب اس کے تمام شریک سفر یہ محسوس کریں کہ وہ اس کے اسٹیک ہولڈرز ہیں پارٹی میں شامل لوگوں کی اجتماعی دانش بروئے کار آتی ہے۔ تو منزل کامیابی کے قدم چومتی ہے۔ قائد اعظم نے اسی موقع پر یہ بھی فرمایا تھا کہ سیاست میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ مذاکرات کے دروازے کبھی بند کئے جاتے ہیں۔ اور نہ ہی سیاست میں ’’دروازے‘‘ اور کھڑکیاں بند کی جاتی ہیں نکلنے اور داخل ہونے کے راستے ہمیشہ کھلے رکھنا چاہئیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا المیہ یہی ہے کہ نہ تو ہماری سیاست اور ہماری سیاسی جماعتیں خاص طور پر وہ سیاسی شخصیات اور جماعتیں جو برسراقتدار ہوں یا اقتدار میں آنے کی پوزیشن میں ہوں ’’آئین پاکستان‘‘کی طے کردہ حدود و قیود کے اندر رہنے کو تیار ہوتی ہیں اور نہ ہی ریاست کے طاقت ور ادارے سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو آئین کے طے کردہ دائرہ کار کے سوا کسی دوسرے ادارہ جاتی دائرہ کار سے آزادا رہ کر کام کرنے کا ماحول فراہم ہونے دیتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کے لئے چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے نتائج جتنے بھی حیران کن ہوں اور اس پر جتنے بھی خدشات اور تحفظات ہوں۔ ’’لمحہ موجود کی زمینی حقیقت یہ ہے سینٹ کا چیئرمین وہ آزاد سینیٹر بن گیا ہے جس کو نامزد کرنے والے گروپ کے پاس 104 کے ایوان میں کل چھ سینیٹر تھے۔ خدا کرے نو منتخب چیئرمین جناب محمد صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین جناب سلیم مانڈوی والا اپنے حلف کی پاسداری کر پائیں اور ایوان کے تقدس اور وقار کو یقینی بنانے میں وہی کردار ادا کر پائیں جو ان کے پیش رو چیئرمین میاں رضا ربانی نے آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے ضمن میں ادا کیا ہے۔ جس کی تحسین وہ بھی کر رہے ہیں۔ جنہوں نے انہیں دوسری بار سینٹ کا چیئرمین منتخب نہیں ہونے دیا۔ پیپلزپارٹی کے جیالے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کاسہرا جناب آصف علی زرداری کے سر باندھ کر ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرہ سے سرشار ہو رہے ہیں تو کوئی ایسا غلط ہے اور نہ ہی جناب عمران خان کے ’’جنون‘‘ میں مبتلا اس کامیابی کو جناب عمران خان کا چکما قرار دے رہے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر آزاد دنیا اور دنیا بھر کا آزاد میڈیا مین آف دی میچ تو پھر بھی اسی قوت کو قرار دے رہا ہے جواب نادیدہ قوت کے بجائے ’’دیدہ قوت‘‘ کے طور پر سب کے سامنے ہے۔ جماعتی سیاست کو جماعتوں کے نظم سے آزاد کرنے کیف ’’مثبت نتائج‘‘ برآمد کرنے کا تجربہ ایک بار پھر وطن عزیز میں شروع ہو گیا ہے۔ نئے تجربے کے تحت باہم دست و گریباں متحارب سیاسی قوتوں کے ملاپ سے غیر جماعتی سینٹر کو سینٹ کا چیئرمین منتخب کرایا گیا ہے۔ اس طرح کے تجربات ماضی میں کئی بار ہو چکے ہیں۔

1960ء کے عشرے میں بھی یہ تجربہ ہوا1980ء کے عشرے میں بھی یہ تجربہ ہوا اور 2000ء کے پہلے عشرے کے بعد اب دوسرے عشرے کے اختتام پر ایک بار پھر وہی سیاسی منظر تخلیق کرنے کی خواہش امڈتی نظر آ رہی ہے، اس طرح کے عمل سے ماضی میں کوئی ملک و قوم کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکا تھا اور نہ اب اس کا کوئی امکان نظر آتا ہے۔ مثبت نتائج برآمد کرنے کے لئے غیر جماعتی نسخہ جب جب آزمایا گیا۔ اس نے قومی سلامتی، قومی مفاد اور قومی یکجہتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اور قومی سلامتی کی دشمن قوتوں کو توانا کیا۔ ریاست کے اداروں کے سامنے اب وہی سوال سر اٹھا رہے ہیں، جن کا سامنا اس طرح کے تجربات کرنے والے ’’فیصلہ سازوں‘‘ کو کرنا پڑا تھا۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی قوتوں کو خود احتسابی کے ساتھ خود آئین کے طے کردہ دائرہ کار میں وہ کر کام کرنے کا چلن اپنانا ہوگا۔ تب ہی وہ سیاست اور سیاسی جماعتوں کا وقار اور اعتماد برقرار رکھ سکیں گی۔تب ہی خلق خدا کی مشکلات و مصائب میں کمی کی توقع کی جا سکے گی۔ تب ہی پاکستان کو بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے ویژن کے مطابق پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کے عملی قالب میں ڈھالا جانا ممکن ہوگا۔

یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا آنے والے انتخابات میں سندھ میں پیپلزپارٹی، تحریک انصاف یا ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں سمیت پی ایس پی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا اشتراک عمل کا کوئی فارمولا طے پا جائے گا۔ اس پر مختلف سیاسی اور صحافتی حلقے اپنے اپنے انداز میں تبصرے اور تجزیے کر رہے ہیں، مگر جب اس نامہ نگار نے تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر علی زیدی سے اشتراک عمل کے کسی فارمولے کے امکان پر تبصرہ کرنے کو کہا تو ان کا دوٹوک جواب تھا تحریک انصاف 2018ء کا انتخاب تنہا لڑے گی۔ جناب علی زیدی کا تو یہ بھی اصرار ہے کہ سینٹ کا چیئرمین صرف جناب عمران خان کی کامیاب حکمت عملی سے بنا ہے۔ ہم نے بیک وقت پیپلزپارٹی اور نون لیگ کو شکست دی ہے ۔ کراچی میں جناب عمران خان بھی کامیاب ہوں گے اور ہمارے دیگر امیدوار بھی، عمران خان کراچی سے منتخب ہو کر وزیراعظم پاکستان بنیں گے۔ کچھ ایسے ہی خیالات تحریک انصاف کراچی کے فردوس نقوی کے بھی ہیں۔ جناب عمران اسماعیل تو ٹی وی ٹاک شوز میں برملا یہ کہہ چکے ہیں۔ ہمیں کراچی میں بلدیاتی انتخاب میں جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کرنے کا زبردست نقصان ہوا ہے۔ مگر جاننے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ تحریک انصاف میں دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ اشتراک عمل پر اختلافات ہیں سندھ کے شہری حلقوں کے بارے میں یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ اس کا کوئی فائدہ پیپلزپارٹی کو ہو گا یا نہیں۔ اندرون سندھ جناب آصف علی زرداری کے سیاسی مخالفوں کا اتحاد جس کی سربراہی پیرپگاڑو کر رہے ہیں۔ مزید مشکلات کا شکار ہو گا، سندھ کے شہری حلقوں میں ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی کا کسی کو فائدہ ہوگا یا نہیں؟ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ البتہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسکا فائدہ (لندن) ایم کیو ایم اپنے امیدواروں کو ’’غیر جماعتی فارمولے‘‘ کے تحت وفاپرست آزاد امیدواروں کو میدان میں اتار کر اٹھانے میں کامیاب ہو سکتی ہے ۔ لندن گروپ یہ تاثر دینے میں بڑا فعال ہے کہ اس کے معاملات مقتدر قوتوں کے ساتھ طے ہو جائیں گے۔ آج کل الطاف حسین کی معافی قبول کرنے کا خاصا شہرہ ہے، مگر ابھی تک زمینی حقائق اس کی تائید کرتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ذرائع سے اس کی کوئی تصدیق ہوئی ہے۔ رہا معاملہ ملک کے سیاسی منظر نامہ کا ہے اور مسلم لیگ کا کیا بنے گا۔ اس کا بہت کچھ انحصار مسلم لیگ(ن) کے نو منتخب صدر میاں شہبازشریف کی پالیسی پر ہوگا۔اگر وہ اپنی پارٹی کے ذمہ داروں کو ریاستی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی، خصوصاً عدالتوں کے ججوں کو مخاطب کرنے کے جارحانہ انداز تخاطب سے روکنے میں کامیاب ہوں گے اور پارٹی کے ناراض رہنماؤں کو اختلاف رائے کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں ماضی کی طرح پارٹی کے ساتھ استقامت کے ساتھ کھڑا رکھنے میں کامیاب ہوں گے اور پارٹی بکھرنے سے محفوظ رہ پائی تو مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف عدالتوں سے سزا پانے کے بعد بھی اپنے امیدوار کو جتوانے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ پھر سندھ کے شہری حلقوں میں مسلم لیگ کئی ہم خیال جماعتوں کے ساتھ موثر اتحاد بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔ بصورت دیگر منظر 2000والا ہو گا۔

مزید : ایڈیشن 1