عمران خان جوتا کلب کے ممبر بننے سے بال بال بچ گئے،علیم خان کو جا لگا

عمران خان جوتا کلب کے ممبر بننے سے بال بال بچ گئے،علیم خان کو جا لگا

گجرات،فیصل آباد( بیورورپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پردورہ گجرات کے موقع پر جلوس اور جلسے میں مر تبہ جوتا پھینکے کی ناکام کوششیں، ایک ملزم کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر دورہ گجرات کے موقع پر جلوس اور جلسے میں دو مختلف مقامات پر جوتا پھینکا گیا ،پہلے ٹانڈہ سے جلالپور جٹاں آتے ہوئے عمران خان پر جوتا پھینکا گیا جو ان کی بجائے پی ٹی آئی کے رہنما تاج گل کی گاڑی پرجا لگا ،جوتا پھینکنے کا دوسرا واقعہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خطاب کے دوران پیش آیا جس میں ایک نوجوان نے عمران خان کو جوتا مارا جو علیم خان کے سینے پر جالگا۔ ٹانڈہ سے جلالپور جٹاں آتے ہوئے جوتا پھینکنے والوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا، تاہم جی ٹی ایس چوک میں پولیس کی بھاری نفری ہونے کے باوجود جو تا پھینکنے والا نوجوان فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا،جب پولیس کے اعلی حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس امر کی تصدیق کی اور کہا سی سی ٹی وی فوٹیج سے ہم مذکورہ نوجوان کی تلاش کی کوشش کرینگے ۔ عمران خان کے خطاب سے پہلے بھی جلسے میں بدنظمی دیکھی گئی اور کچھ کارکن ایک شخص پر ڈنڈوں اور لاتوں سے تشدد کرتے دکھائی دیے ۔ چیئرمین عمران خان کے خطاب کیلئے گجرات کے جی ٹی ایس جلسہ گاہ اسٹیج تیار کیا گیا تھا۔پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں نے جب اسٹیج کے قر یب پہنچنے کی کوشش کی تو انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کار کنو ں نے انہیں رو کنے کیلئے ڈنڈوں کا استعمال کیا جس کے بعد آئی ایف ایف اور کارکنوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات فواد چودھری نے نجی ٹی وی نیوز چینل سے خصوصی گفتگومیں الزام عائد کیا کہ جوتاپھینکنے والا100 فیصد مسلم لیگ( ن) کا و ر کر ہو گا ۔ مسلم لیگ(ن)کوایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی جبکہ ( ن ) لیگ میں قابل مذمت روایات ہی ہوتی ہیں۔ چھو ٹے لوگ چھوٹی حرکتیں کرر ہے ہیں جبکہ نوازشریف کوجوتامارنیوالاتحریک انصاف کا کا ر کن نہیں تھا۔دریں اثناء ایک اور نجی ٹی وی نیوز چینل سے گفتگو میں صوبائی وزیر قا نو ن پنجاب اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ خان نے کا کہنا تھا کسی بھی سیاسی شخصیت پر جوتا پھینکنے کی کبھی حمایت نہیں کی جا سکتی ، معا ملا ت پر کنٹرول نہ کیا تو کوئی بھی ’’ جوتا کلب‘‘کا ممبر بننے سے بچ نہ سکے گااور سب پر جوتے اچھالے جائینگے ۔ اس طرح کے شرمنا ک واقعے کی پہلے بھی مذمت کی گئی اور آج بھی مذمت کرتے ہیں ،تمام سیاسی جماعتوں کو ایسے واقعات پر مل بیٹھ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

عمران جوتا

مزید : صفحہ اول