وائس چیئر مین کل اسمبلی کے باہر دھرنا دیں گے ، ایک گروپ نے مخالفت کر دی

وائس چیئر مین کل اسمبلی کے باہر دھرنا دیں گے ، ایک گروپ نے مخالفت کر دی

لاہور(دیبا مرزا سے) پنجاب بھر کے وائس چیئرمین اپنے اختیارات کے حوالے سے حتمی احتجاجی تحریک شروع کرنے کے لئے ایک مرتبہ پھر دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک دھڑا جو کہ لاہور کی مختلف یونین کونسلوں کے وائس چیئرمینوں پر مشتمل ہے ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پارٹی مشکل میں ہے ہم ان کے خلاف احتجاجی دھرنا دینے کی بجائے ان کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ دوسرے دھڑے کا کہنا ہے کہ ہم کل مال روڈ پر حتمی احتجاجی دھرنا دیں گے جو مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا ذرائع کے مطابق ایک مرتبہ پھر پنجاب بھر کے وائس چیئرمین اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہو گئے ہیں جن میں سب سے زیادہ اہمیت کے حامل جس میں شہر لاہور کے وائس چیئرمین شامل ہیں جن کو حاجی امتیاز‘ چودھری عباد ‘خواجہ ندیم وائیں‘ ملک جاوید‘ عامر رضا‘ فاروق گڈو‘ شیخ الطاف‘ اکمل مغل‘ حافظ مہر اسلم ‘ چودھری پرویز ‘ اول خان ‘ مولا داد گجر‘ حاجی یامین ‘ حاجی رشید سمیت دیگر شامل ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پارٹی مشکل حالات سے گز رہی ہے ہم پارٹی کے کارکن ہیں اختیارات لینا چاہتے ہیں لیکن اس وقت پارٹی کے خلاف سڑکوں پر آکر دھرنا دینا پارٹی کے دشمنوں کو مضبوط کرنے کے مترادف ہو گا البتہ جب پارٹی پر مشکل وقت گزر جائے گا تو پھر ہم مشاورت کے ساتھ ایک پرامن احتجاجی دھرنا دیں گے ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وائس چیئرمینوں کا دوسرا دھڑا جس کی اس وقت کوئی سیاسی ساکھ نہیں ہے اور جن کے پاس پنجاب کے ہر اضلاع کے وائس چیئرمینوں کی نمائندگی بھی نہیں ہے اور اس میں گنتی کے چند وائس چیئرمین جن میں ڈاکٹر سبطین ‘ طاہر ثقلین‘ شفیق ‘ رضوان بٹ اور ہمایوں گھمن وغیر ہ شامل ہیں ان کے پاس کوئی مینڈیٹ بھی نہیں ہے پھر بھی یہ کل جمعرات کو مال روڈ پر احتجاجی دھرنا دینے جا رہے ہیں ۔ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ یہ احتجاجی دھرنا اس لئے فلاپ ہونے کا امکان ہے کیونکہ اس میں لاہور کے وائس چیئرمینوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے اور جب تک اس میں لاہور کے و ائس چیئرمین شریک نہیں ہوں گے تو تب تک نہ تو یہ احتجاجی دھرنا طویل دھرنے میں تبدیل ہو سکے گا اور نہ ہی اس سے مذاکرت کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی نمائندہ آئے گا کیونکہ یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ لاہور کے و ائس چیئرمینوں کے پیچھے در پردہ لاہور کے ارکان اسمبلی بھی ہوتے ہیں اور وہ ہر وقت ان سے مکمل رابطے بھی رہتے ہیں اور قیادت کے حکم پر ان کے احتجاج کو ختم کرنے کے لئے میدان میں بھی آجاتے ہیں لیکن جب لاہور سے کوئی نہیں ہو گا تو پھر یہ احتجاج بے اثر ہونے کا امکان ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1