سینیٹ انتخابا ، نئی حلقہ بندیوں پر تحفظات و اعتراض ، کمیٹی تشکیل

سینیٹ انتخابا ، نئی حلقہ بندیوں پر تحفظات و اعتراض ، کمیٹی تشکیل

اسلام آباد ( آئی این پی ) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وفاقی وزیر داخلہ ،سیکر ٹری داخلہ اور دیگر وزارت داخلہ کے عہدیداران کی ایوان میں عدم حاضر پر احتجاجاً واک کر گئے،سپیکر کیساتھ تحریک انصاف کے ارکان نے بھی واک آؤٹ کیا۔ سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ سے متعلق وفاقی وزیر، ایک وزیر مملکت اور ایک پارلیمانی سیکرٹری ہونے کے باوجود ایوان کی کارروائی کو مذاق بنایا ہوا ہے،پارلیمنٹ کی بے توقیری مجھے سے برداشت نہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے وزیر اعظم کی جانب سے وزراء اور وزارتوں کے حکام کی ایوان میں حاضری کیلئے تحریری یقین دہانی تک روزانہ ایوان سے واک آؤٹ کی دھمکی دیدی۔قومی اسمبلی میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام کیلئے سال میں ایک مرتبہ غیر اعلانیہ طلباء کے منشیات ٹیسٹ لینے کا بل پیش کر دیا گیا،بل کے تحت سال میں ایک مرتبہ غیر اعلانیہ طلباء کا منشیات ٹیسٹ لیا جائے گا،منشیات ٹیسٹ نہ دینے والے طلباء کو سالانہ امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہو گی،ایسے تعلیمی ادارے جو منشیات ٹیسٹ لینے میں ناکام ہوں ان پر 5لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا ۔قومی اسمبلی میں حکومت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری حلقہ بندیوں پر اعتراض کر دیا۔وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا تعین آبادی کی بنیاد پر کرنے کی بجائے کسی اور طریقے سے کی،الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیاں کیساتھ ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ،نوٹی فکیشن میں الیکشن کمیشن نے اعتراف کیا کہ ہم نے قواعد کی پاسداری نہیں کی۔سپیکر قومی اسمبلی نے حلقہ بندیوں پر اعتراض کا جائزہ لینے اور نئی تجاویز کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیدی جو7روز میں اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کریگی۔قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے سینیٹ انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہسینیٹ انتخابات میں جمہوری لوگوں نے جمہوریت کا جنازہ نکالا، سینٹ ہاؤس آف فیڈریشن ، اسکے الیکشن میں زر اور زور کا استعمال ہوگا تو پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گی، جس طرح کا سینیٹ لایا گیا ہے اسی طرح کی قومی اسمبلی بھی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے،جس انداز میں سینٹ الیکشن ہوئے ہیں یہ پاکستان کی بربادی کی بنیاد رکھ دی گئی، سینٹ کا اس دفعہ کا الیکشن غلیظ اور غیر شفاف طریقے سے ہوا،تمام اداروں کا گرینڈ جرگہ ہونا چاہیے،پاکستان میں اداروں کے درمیان ٹکراؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے،مسلم لیگ جب ہارتی ہے تو اسے ہارس ٹریڈنگ اور جمہوریت یاد آ جاتی ہے، ایسا قانون بنایا جائے کہ جو رکن اپنا ووٹ بیچے گا اسے مینار پاکستان پر سرعام پھانسی دی جائے،حکومت اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنے اراکین کو عزت دینا سیکھے، بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) نے اپنے ارکان کو بھیڑ بکریاں سمجھا۔ ان خیالات کا اظہارصاحبزادہ طارق اللہ،محمود خان اچکزائی،سید نوید قمر،نعیمہ کشور،شیریں مزاری،افتخارالدین و دیگر نے قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر کیا۔منگل کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں انتہائی اہم مسئلے پر اپنی آئینی ڈیوٹی پوری کرنے کھڑا ہوا ہوں نہ میں پاگل ہوں نہ میں زندگی سے بیزار ہوں۔ تین قسم کے لوگ آئین کے تحفظ کی قسم کھاتے ہیں‘ فوجی‘ ججز اور پارلیمنٹرینز۔انہوں نے کہا کہ آئین سے کھیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے جس میں سب اپنی مرضی سے شامل ہوئے ہیں ۔ سینٹ ہاؤس آف فیڈریشن ہے اگر اس کے الیکشن میں زر اور زور کا استعمال ہوگا تو پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گے۔ ہمارے صوبے میں الیکشن ہورہے تھے تو میں نے کہا تھا کہ ایک فوجی افسر مداخلت کررہا ہے وہ لوگوں کو ڈرا رہا ہے۔ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے میں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ کمیٹی بنا کر ان الزامات کی تحقیقات کرائی جائیں میں علط ہوں تو مجھے سزا دیں۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ جس انداز میں سینٹ الیکشن ہوئے ہیں یہ پاکستان کی بربادی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ جب نواز شریف کو نکالا گیا تو میں نے کہا کہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی شروع ہوگئی ہے۔ اس کی پہلی جنگ ہم ہار چکے ہیں اگر ووٹ بیچنا جرم نہیں تو صادق اور جعفر کو بھی معاف کردو۔ انہوں نے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ جو لوگ آئین کی مخالفت کرے اس کے خلاف بغاوت کی جائے ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم گلی کوچوں کا رخ اختیار کریں۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ دو پارٹیاں جو ایک دوسرے کی مخالف تھیں ان کو نزدیک لانے کے لئے میاں رضا ربانی کی قربانی دی گئی ہے میں تمام جمہوری قوتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمارے اتحاد کا وقت ہوگیا ہے جو جرنیل ،بیوروکریٹ اور سیاستدان آئین کی قدر نہیں کرتے ہیں انہیں پاکستان کا دوست نہیں سمجھتا ،دنیا میں کہیں ایسا نہیں کہ ضمیر بیچنے والے کو محب وطن کہا جائے میں نے اپنا ضمیر نہیں بیچا۔ مجھے مارنے والے مجھے مارنا چاہیں تو میں تیار ہوں میری موت پاکستان پر حملہ ہوگا۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کسی بھی ملکی شہری کے خلاف نامناسب رویہ نہیں ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام لوگوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے میں کسی بھی رنگ و نسل کے حوالے سے بھی تفریق نہیں ہے قومی اسملی اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشتو بولنے والوں نے پاکستان کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں اور انہوں نے بہت کام کیا ہے کسی بھی شہری کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا جا رہا ہے جس پر شہریار آفریدی نے کہا کہ نادرا میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی پختون کارڈ بنوانے آتا ہے تو اس کی خصوصی جانچ پڑتال کی جاتی ہے ۔ صوابی سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں کو تین دن تک قید میں رکھا گیا ہے ان کا کیا قصور ہے۔

قومی اسمبلی

مزید : علاقائی