قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں بھتہ خوری سمیت دیگر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں :اشفاق خان

قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں بھتہ خوری سمیت دیگر الزامات میں کوئی حقیقت ...

چارسدہ (بیورو رپورٹ) قتل و اقدام قتل میں ہائی کورٹ سے بری ہونے والے شہری قرآن پاک اٹھا کر میڈیا کے پاس پہنچ گیا ۔ عدالت نے باعزت طور پر رہا کیا ہے مگر پولیس اور ریاستی ادارے اب ان پر بھتہ خوری اور دیگر الزامات لگا کر آئے روز گھر پر چھاپے مار کر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کر رہے ہیں ۔مخالفین نے کروڑوں روپے مالیت کا گھر بھی جلا دیا ہے ۔ ڈی پی او کے دفتر جاکر خود گرفتاری پیش کی اور15مہینے تک جیل کی صعوبتیں برداشت کرکے مقدمات بھگتنے کے بعد باعزت رہائی ملی ۔ آرمی چیف ، چیف جسٹس ، کور کمانڈر اور آئی جی سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ ۔ اشفاق خان کی پریس کانفرنس ۔ تفصیلات کے مطابق پڑانگ شہیدہ بازار سے تعلق رکھنے والے اشفاق ولد خان رازق نے خلف بر قرآن ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ 15سال پہلے مخالفین شیر عالم ، زبیر عالم اور فخرعالم پسران ممتاز وغیر ہ کے ساتھ ایک تنازعہ پر دو طرفہ فائرنگ ہوئی تھی جس میں فخر عالم جاں بحق ہوئے تھے ۔ واقعہ کے بعد مخالفین نے ان کے کروڑوں روپے کا گھر جلا دیا تھا ۔ واقعہ کے بعد وہ مفروری کی مشکل زندگی گزارتے رہے ۔ بعد ازاں انہوں نے اذ خود ڈی پی او چارسدہ شفیع اللہ خان کے دفتر جا کر گرفتاری پیش کی جہاں قانونی ضابطوں کے بعد ان کو جیل بھیج دیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے ان کو باعزت طور پر بری کیا ہے مگر سی ٹی ڈی کے ایک انسپکٹرحمید خان اور دیگر ادارے مخالفین کے ایماء پر آئے روز ناکردہ جرم کے پاداش میں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر کے میر ے گھر پر چھاپے لگا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پولیس اور دیگر ادارے مجھ پر کھبی بھتہ خوری اور کھبی دیگر الزامات لگا کر تنگ کرکے دھمکیاں بھی دیتے ہیں مگر ان کے خلاف کسی بھی تھانے میں کسی بھی قسم کا کوئی ایف آئی آر درج نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ان کے مخالفین شیر عالم ، زبیر عالم اور ان کے چچا زاد بھائی اشتیاق پولیس فورس میں ملازم ہیں اور ان کی ایماء پر پولیس اور دیگر ادارے ان کو تنگ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے انہوں نے آئی جی ، ڈی آئی جی اور ڈی پی او چارسدہ کو در خواستیں دی تھی اور آئی جی کے دفتر سے مجھ سے رابطہ بھی کیا گیا جبکہ ڈی آئی جی نے بھی فون کرکے تفصیلات معلوم کئے مگر بعد ازاں ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد نے فون کرکے مجھ پر الزامات لگا کر فون بند کیا ۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ پر امن زندگی گزارنا چاہتے ہیں مگر پولیس اور ریاستی ادارے ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے خلف بر قرآن کہا کہ کہ ان پر لگائے گئے بھتہ خوری سمیت دیگر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ۔ انہوں نے آ رمی چیف قمر جاوید باجوہ ، چیف جسٹس ثاقب نثار ، کور کمانڈر اور آئی جی صلاح الدین محسود سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا

مزید : کراچی صفحہ اول