بٹ خیلہ اور بنوں میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ ،تمام امور ٹھپ ،عوام سڑکوں پر

بٹ خیلہ اور بنوں میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ ،تمام امور ٹھپ ،عوام سڑکوں پر

بٹ خیلہ(بیورورپورٹ ) محکمہ واپڈاکی جانب سے روزانہ بارہ گھنٹے بجلی بند ضلع مالاکنڈ میں بجلی سے چلنے والے تمام کاوربارٹھپ ہزاروں نوجوان بے روزگار مرکزی حکومت کی جانب سے بجلی کے لوڈشیڈنگ کے تمام دعوے جھوٹ کاپلندہ ہے ۔تین بجلی گھروں کے سرزمین مالاکنڈمیں بجلی کے ظالمانہ لوڈشیڈنگ کانوٹس لیاجائے عوامی حلقوں کامطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھرمیں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے تمام دعوے جھوٹ کاپلندہ ہے تین بجلی گھروں کے سرزمین ضلع مالاکنڈ میں روزانہ بارہ بارہ گھنٹے بجلی بندہونایہاں کامعمول بن چکاہے جس کی وجہ سے بجلی سے چلنے والے تمام کاروبارٹھپ ہوکررہ گیا اورہزاروں نوجوان بے روزگارہوچکے ہیں ۔ضلع مالاکنڈ کے صارفین نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اپنے اعلان کوعملی جامہ پہنچاکر ضلع مالاکنڈمیں بجلی کے ظالمانہ لوڈشیڈنگ کانوٹس لیاجائے اورلوڈشیڈنگ کرنے میں ملوث اہلکاروں کوملازمت سے برطرف کیاجائے ۔

بنوں(بیورورپورٹ) بنوں میں 24گھنٹے میں 18گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے بنوں شہر میں رات کے وقت ایک بار بجلیّ چلی جاتی ہے تو صبح تک بجلی آنے کا نام نہیں لیتا حالانکہ بنوں شہر کے عوام واپڈا کو ماہانہ 95فیصد ریکوائری کرتے ہیں لیکن واپڈا کے افسران اور ماتحت عملہ دیہات میں بجلی چوری کی تمام اخراجات بنوں شہر کے عوام پر ڈالتے ہیں غلط بلنگ ، ناجائز جرمانے ، غلط ریڈنگ روز کا معمول بن چکا ہے دیہاتوں میں میٹروں کی چینگ نہیں کی جاتی ہے اور میٹر ریڈر اپنی مر ضی کے ریڈینگ ڈالتے ہیں بنوں کے غریب عوام کو دن میں 18گھنٹے بجلی میسر نہیں ہوتی جبکہ دوسری طرف خیبرپختونخواہ میں85پیسے پر خرچہ آنے والے بجلی کے فی یونٹ خرچہ آتا ہے لیکن وفاقی حکومت غریب عوام پر 10روپے سے لیکر13روپے تک فی یونٹ ڈال کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اس کے علاوہ پاکستان ٹی وی ٹیکس فی کس 35روپے ہر بجلی بل میں آتے ہے جس سے عوام بخوشی ادا کرتے ہیں بنوں کے عوامی حلقوں نے وفاقی وزیر پانی و بجلی کا یہ بیان کہ ملک میں کہاں بھی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جاتی جھوٹ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی وزیر پانی و بجلی فوری استفعیٰ دے او ر بنوں کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک فوری طورپر بند کیا جائے انہوں نے کہا کہ تاجر برادی کا کاروبار مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے موجود وقت میں پانچویں اور اٹھویں کے سالانہ امتحانات صوبہ بھر میں جاری ہے سکولوں میں امتحانی سنٹروں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے طلباء اور طلبات کو پرچے حل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ20مارچ سے میٹرک امتحانات اور اپریل میں فرسٹ ائیر کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں جس کیلئے طلباء اور طلبات کو امتحانوں کی تیاریوں میں مشکلا ت کا سامنا ہے ہسپتالوں میں اپریشن موم بتیوں سے کی جارہی ہے جبکہ عدالتوں میں فیصلے لکھنوں میں تاخیر ہو رہی ہے جس سے عوام اور قیدیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر